Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 06:00 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ٹوٹ گئی مودی سرکار کی ترقی کی ڈور!


کانگریس نے لی چٹکی ،کہاکہ ’ سیاست سے دوری بنانے اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنانے والے اب بی جے پی کی نیا پار لگائیں گے ‘،مجرب اور بھروسہ مند کانگریس کو ووٹ دیں عوام : ابھیشیک منو سنگھوی
نئی دہلی ،16جنوری ( ایس ٹی بیورو) کانگریس پارٹی نے دہلی اسمبلی انتخابات کے مدنظر کرن بیدی اور شاذیہ علمی کی بی جے پی میں شمولیت پر وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ کرن بیدی بار بار یہ کہتی تھیں کہ وہ سیاست میں نہیں جانا چاہتی ہیں ، لیکن انہوں نے آج بی جے پی کا دامن تھام لیا۔پارٹی ترجمان نے سوالیہ لہجہ میں کہا کہ جب مودی سرکار کی ترقی کی ڈور ٹوٹ گئی تو کیا اب شاذیہ اور کرن بی جے پی کا بیڑہ پار لگائیں گی ؟ پارٹی ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے انہیں ان کے 16مارچ2013کے ٹوئٹ کو بھی یاد دلایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ نمو ( نریندر مودی) کو گجرات قتل عام پر جواب دینا ہی ہوگا ۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز بی جے پی میں شمولیت کے بعد کرن بیدی نے وزیراعظم نریندر مودی کا جم کر قصیدہ پڑھا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ وہ( کرن بیدی) مئی 2014کے بعد سے وزیراعظم نریندر مودی کی انقلابی شخصیت سے کافی متاثر ہوئی ہیں ، جسکے سبب انہوں نے عوامی خدمت کیلئے بی جے پی اور مودی کیساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کرن بیدی اور شاذیہ علمی دونوں پر وار کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں کرن بیدی سیاست سے دوری بنانے کو ڈھنڈورہ پیٹ رہی تھیں وہیں دوسری جانب شاذیہ علمی بی جے پی پر وار کرتی رہی ہیں ۔ انہوں نے شاذیہ علمی کا وہ ٹوئٹ یاد دلایا جس میں شاذیہ نے بی جے پی پر وار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ بی جے پی کو اس بات کی فکر ہے کہ عام آدمی پارٹی کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے۔ میں انہیں بتانا چاہتی ہوں کہ عآپ کے مالی تعاون میں این آر آئی بھی حصہ لے رہے ہیں ۔کیا ایسے لوگوں کو بی جے پی ہضم نہیں کر پارہی ہے ؟ کیا یہ لوگ بھارتیہ نہیں ہیں ؟کانگریس اور بی جے پی کو اپنے فنڈ کی وضاحت کرنی چاہئے کہ فنڈ کہاں سے آتا ہے اور انہیں کون لوگ فنڈ دیتے ہیں ؟پارٹی ترجمان مسٹر سنگھوی نے کہا کہایسے لوگوں کا دوہرا رویہ عوام کے سامنے آچکا ہے ۔ اب عوام ایسے لوگوں کو قبول نہیں کرے گی جنکے قول وعمل میں تضاد ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے اپنے دور اقتدار میں دہلی کو کیا دیا یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ دہلی کو ایسے دلدل میں بی جے پی نے ڈھکیلا تھا جس سے نکالنے میں کانگریس نے پانچ سال جد و جہد کی ۔ اسکے بعد گذشتہ دس سالوں میں دہلی کی کا یا پلٹ دی ۔ مسٹر سنگھوی نے کہا کہ ’شیلا کی قیادت میں راجدھانی میں ترقی کا ڈنکا بجا ، لیکن وہ اس سوال کو ٹال گئے کہ ترقی سے مسلم علاقوں کو دور کیوں رکھا گیا ؟ انہوں نے کہا کہ آلودگی کے میدان میں دہلی کی حالت عالمی پیمانہ پر سب سے زیادہ خراب تھی ، لیکن کانگریس نے دہلی کو آلودگی سے نکال کر اسکی فضا صاف ستھری بنائی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ایک مجرب اور بھروسہ مند پارٹی ہے ۔لوگوں کو چاہئے کہ ایسے وقت میں جب کی ترقی کی ڈور ٹوٹ گئی ہے دوبارہ کانگریس کی جانب پلٹیں ۔

 

...


Advertisment

Advertisment