Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 01:37 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سرحد پر کسی بھی طرح کی چینی دراندازی نا قابل قبول :رجیجو

 

ہندوستان سر حد پر پر امن رہنا چا ہتاہے اور اس کے رویہ میں جا رحیت با لکل نہیں ہے

نئی دہلی، 29ستمبر(آئی این ایس انڈیا ) مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو نے آج کہا کہ ہندوستان سرحد پر چین کی طرف سے کسی بھی قسم کی دراندازی کو قبول نہیں کرے گا اور اپنے علاقے کی حفاظت کرے گا۔رجیجو نے یہاں ایک تقریب سے الگ کہا کہ در اندازی کے واقعات سر حد پر ہو رہے ہیں۔لیکن اس بار ہم پوری طرح یہ واضح کر دینا چا ہتے ہیں کہ ہم اپنے خطے میں چین کی طرف سے کسی قسم کی دراندازی کو قبول نہیں کریں گے اور ہار نہیں مانیں گے۔یہ ایسی حرکت ہے جسے ہم قبول نہیں کریں گے۔رجیجو نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان سرحد پر امن ماحول او ر سکون رہنا چاہتا ہے اور اس کے رویہ میں کسی بھی طر ح کی جارحیت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان۔ چین سرحد پر کچھ علاقوں میں حدود کی نشان زدگی مکمل طور پر واضح نہیں ہے اور ہندوستانی افواج اس نقطہ تک چلی جاتی ہیں اور پی ایل اے کے فوجی بھی آ جاتے ہیں اور کئی بار اس نقطے کو عبو ر کر جاتے ہیں جسے ہندوستان اپنے علاقے کے طور پر دیکھتا ہے ۔رجیجو نے کہاکہ لیکن اپنی پوزیشن کو لے کر ہم مکمل طور پر ثابت قدم ہیں اور ہمیں اپنے علاقے دوسرے فریق کے ہاتھوں میں نہیں جانے دینا چاہئے۔ہمارا اس بارے میں بالکل واضح نظریہ ہے ۔اسے اس طرح سے نہیں لیا جانا چاہئے کہ ہم زیادہ جارحانہ ہو رہے ہیں یا سر حد کے ارد گرد حالات کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔رجیجو نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ سیکورٹی فورسز کو کسی قسم کی غیر قانونی حرکت نہیں کریں گے یا ایسے ٹکراؤ میں نہیں پڑیں گے جس سے سر حدی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ ہو یا تعلقات میں غیر ضروری تلخی پیدا ہو۔رجیجو نے کہا کہ لیکن اگر انہوں نے ہمارے علاقے میں یا ہمارے سمجھے جانے والے خطے میں کوئی تعمیراتی کام کیا تو ہمیں ان کو روکنا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ یہ کشیدگی چلتی رہتی ہے۔ہم اپنی ضرورتوں کو لے کر بہت محتاط ہیں اور اس نظریہ پر قائم ہیں۔ہند۔تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی)ہند ۔چین سرحد کی حفاظت کرتی ہے۔یہ دستے وزارت داخلہ کے تحت آتے ہیں ۔دو ہفتہ قبل کچھ چینی مزدوروں کی طرف سے ہندوستانی علاقے میں آ جانے کے بعد اس علاقے میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی ۔یہ مزدور چینی علاقے میں ایک سڑک کے تعمیراتی کام میں لگے تھے۔ان مزدوروں نے دعوی کیا تھا کہ انہیں تبلے تک سڑک بنانے کا فرمان ملا ہے جو ہندوستانی علاقے میں پانچ کلومیٹر اندر کا علاقہ ہے۔چینی فوجیوں نے چمار میں خیمہ بندی کر لی تھی اور ان کے ہیلی کاپٹرو ں کو فوجیوں کے لئے کھانے کے پیکٹ گراتے ہو ئے دیکھا گیا ہے۔ہندوستان اور چین نے 25؍ستمبر کو لداخ کے چوشل میں فلیگ میٹنگ کی تھی اور اس کے دو دن بعد چینی فوجیوں نے لداخ کے چمار علاقے سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا تھا۔دریں اثنا حالیہ سیلاب سے پتہ لگا ہے کہ جموں و کشمیر اور میگھالیہ میں ایسے چیلنج سے نمٹنے کی کافی تیاری نہیں ہے۔یہ بات مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ کرن رججو نے آج کہی۔انہوں نے ملک میں تباہی انتظام صلاحیت بڑھانے کے اقدامات پہل اٹھائے جانے کی اپیل کی۔رججو نے کہا کہ ہم نے جموں و کشمیر انتظامیہ کی لاچار حالت دیکھی۔تیاریاں کافی نہیں تھیں۔میں ریاستی حکومت کوالزام نہیں لگا رہا ہوں ۔لیکن حال یہی ہے کیونکہ کشمیر میں دہائیوں سے سیلاب نہیں آیاتھا۔انہوں نے قومی محکمے آفت اختیار کے یوم تاسیس کے موقع پر منعقد تقریب میں کہا کہ یہی حال میگھالیہ کا بھی ہے۔ میگھالیہ سیلاب کے لئے تیار نہیں تھا۔ریاستی حکومت کی کافی پہل نہیں کر سکی کیوں کہ میگھالیہ میں بھی برسوں سے سیلاب نہیں آئی تھی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ آسام میں ہر سال سیلاب آتا ہے اور یہاں راحت اور امدادی کام تیزی سے ہوئے۔انہوں نے کہا کہ لیکن ہمیں مرکزی و ریاستی حکومتوں کوساتھ مل کر کام کرنا ہے۔ہم بہت کچھ ہیں لیکن تباہی کی تیاری کے لئے اور پہل کرنے کی ضرورت ہے۔جموں و کشمیر حکومت کہتی رہی کہ اس کی جہلم دریا کے سیلاب کے انتظام سے منسلک 2200کروڑ روپے کی اسکیم طویل وقت تک مرکز کے پاس پڑی ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ قومی آفت قوت او ر مرکزی مسلح پولیس فورس قدرتی آفت سے متاثر لوگوں کو مدد فراہم کرنے کے لئے ہمیشہ مصروف عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فوری طور پر پہل کی انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اے جی سی کو لگتا ہے کہ ہندوستان کو تباہی انتظام میں اہم کردار ادا کرنا ہے اور انہوں نے اس علاقے میں مختلف ہندوستانی ایجنسیوں کی طرف سے کئے گئے کام کی تعریف کی ہے۔

...


Advertisment

Advertisment