Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 11:05 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

یونیورسٹی کے سابق طلباء زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم رول ادا کر رہے ہیں

 

تحریکِ آزادی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبائے قدیم کی خدمات پر منعقدہ قومی سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلرضمیر الدین شاہ کی وضاحت، اب تک کی قربانیوں کو دستاویز کی شکل میں محفوظ کرنے کی یقین دہانی، راجہ مہیندر پرتاپ مکمل طور پر سیکولر تھے:راجن حبیب خواجہ
فہمیدہ پروین
علی گڑھ، 15؍ جنوری(ایس ٹی بیورو ) تحریکِ آزادی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبائے قدیم کی خدمات پر منعقدہ قومی سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ( ریٹائرڈ) نے اعلان کیا کہ ا س ادارہ نے قومی تحریک میں جو قربانیاں پیش کی ہیں ان پر ایک کتاب شائع کی جائے گی۔ ساتھ ہی ایم اے او کالج کے قیام سے لے کر اب تک کی قربانیوں کو دستاویز کی شکل میں محفوظ کیا جائے گا۔وائس چانسلر جنرل شاہ نے کہا کہ آئینِ ہند نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ’’ قومی اہمیت ‘‘ کا ادارہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے سابق طلبأ آج بھی ملک کی سرحدوں سے باہر بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو ایک سیکولر جدید تعلیمی ادارہ ہے جس کی ا سلامی ا قدار ہیں۔ وائس چانسلر نے آزادی کی جد وجہد میں راجہ مہیندر پرتاپ، عبدالمجید خواجہ اور کیپٹن عباس علی کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو طلبأ یونین نے مہاتما گاندھی کواپنا اولین تاحیات رکن بنایا تھا۔مرکزی حکومت کے سابق سکریٹری برائے ماحولیات مسٹر راجن حبیب خواجہ نے بابائے قوم مہاتما گاندھی ، راجہ مہیندر پرتاپ اور اپنے دادا عبدالمجید خواجہ کی شخصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ راجہ مہیندر پرتاپ مکمل طور پر سیکولر تھے۔ وہ ایک ہندو خاندان میں پیدا ہوئے ، مسلم ادارے میں تعلیم حاصل کی اور سکھ خاندان میں شادی کی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں تاریخ کے پروفیسر رضوان قیصر نے کہا کہ فرقہ پرستی کے بھوت کو تاریخی حقائق سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹیالہ کے مہاراجہ مہیندر سنگھ، بنارس کے مہاراجہ دیو نارائن سنگھ اور وجیا نگر کے مہاراجہ نے سر سید احمد خاں کے قائم کردہ کالج کو مالی تعاون پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ قومی تعمیر میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حاصلات کو اجاگر کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک تاریخی ادارہ ہے۔ پروفیسر قیصر نے کہا کہ ملک کی سرحدوں کے باہر آج بھی علی گڑھ کے سابق طلبأ اہم رول ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹرا شوک سیٹھ اور ممتاز ماہر سفارت اور دورِ حاضر میں ترکی میں ہندوستان کے سفیر مسٹر راہل کلشریشٹھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سابق طلبأ کی خدمات کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہئے۔سرسید اکادمی کے ڈائرکٹر پروفیسر طارق احمد نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا جبکہ ڈاکٹر ایس حسین عباس نے راجہ مہیندر پرتاپ کے تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے نبیرہ چرت پرتاپ سنگھ کو بھی اس سیمینار میں حصہ لینا تھا لیکن انہوں نے اپنے پیغام میں اس سیمینار کے لئے اپنی نیک خواہشات پیش کی ہیں۔ممتاز صحافی قربان علی نے اپنے والد کیپٹن عباس علی خاں کی قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گیارہ سال کی عمر میں ہی وہ شہید بھگت سنگھ کی قربانی سے کافی متاثر ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ کیپٹن عباس علی پچاس بار جیل گئے اور ملک کی سرحد کے باہر بھی برٹش حکومت کے خلاف جدو جہد میں مصروف رہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ آزادی کی جد و جہد میں اے ایم یو کے رول کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا جائے۔

...


Advertisment

Advertisment