Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 02:17 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

حجۃ الوداع کی واضح تعلیمات سے پوری دنیا میں موجود ظلم وستم اور تشد د کا خاتمہ ممکن

 

یونائیڈیڈ مسلم آرگنائزیشن کی جانب سے ’’خطبہ حجۃ الوداع اور قانون کی حکمرانی ‘‘موضوع پراسلامیہ انٹر کالج میں منعقدہ سیمینار سے ڈاکٹر شکیل صمدانی کا اظہار خیال

گھورکھپور،29ستمبر(ایس ٹی بیورو)یونائیڈیڈ مسلم آرگنائزیشن(یو ایم او) کی جانب سے ’’خطبہ حجۃ الوداع اور قانون کی حکمرانی ‘‘موضوع پر ایک روزہ سیمینار اسلامیہ انٹر کالج میں منعقد کیا گیا ۔جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے معروف استاذ اور یو ایم او کے جنرل سکریڑی ڈاکٹر شکیل صمدانی نے کہا کہ آج سے تقریباً سوا چودہ سو سال پہلے انسانی حقوق اور انصاف کا جو چارٹر آخری نبی محمد نے دیا تھا اس کی آج بھی اتنی ہی اہمیت و افادیت ہے جتنی اس زمانے میں تھی حجۃ الوداع کے خطبہ میں ہمیں خواتین ،غلام،کمزوراور بے سہارا لوگوں کے لئے واضح ہدایات ملتی ہیں۔ دنیا اگر ان ہدایت پر عمل کرے تو آج جو ظلم و ستم اور تشدد کا بازار پوری دنیا میں گرم ہے اسے ختم کیا جا سکتا ہے، ڈاکٹر صمدانی نے اپنے صدارتی خطبہ کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ کا یہ پیغام پوری انسانیت کے لئے تھا لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ پوری انسانیت کو چھوڑئیے مسلمانوں نے بھی اسے فراموش کردیا ہے۔ آج مسلمان کہیں حسب و نسب کی بنیاد پر بنٹے ہوئے ہیں ،کہیں ذات برادری کی بنیاد پر ،جبکہ رسول اللہ نے حج کے موقع پر ساری عصبیت کو ختم کرنے کا علان کیا تھا۔ ڈاکٹر صمدانی نے نوجوان طلبہ اور طلبات کے ہجوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر انہوں نے محنت اور ایمانداری کو اپنی زندگی میں داخل کرلیا تو وہ دنیا کی ہر چیز حاصل کرسکتے ہیں انہوں نے کئی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان ہندوستان کو میزائیل اور آئی ایس کے ٹاپر س ،کرکٹ ،ہاکی اور دوسرے بہت سے کھیلو ں میں کپتان ،بڑے بڑے ڈاکٹر س اور انجینیئر دے سکتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ یہ کام نہیں کرسکتے ۔ان نظیروں کو سامنے رکھتے ہوئے مسلمان بچوں کو آگے کی طرف بڑھنا ہوگا اور ہر حال میں معیاری تعلیم حاصل کرنی ہوگی اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے مسلمانوں سے قانون کی تعلیم کی طرف بھی توجہ دینے کی گزارش کی اور کہا کہ مسلمان جس طرح سے جگہ جگہ الجھائے جا رہے ہیں اس کے لئے انہیں بڑی تعداد میں لائق و فائق اور ملت کے تئیں دردمند قانون دانوں کی بھی ضرورت ہے ۔یو ایم اوکے سکریٹری اور مشہور سماجی کارکن محمد خالد نے یو ایم اور کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یو ایم او نے پچھلے چار سالوں میں مسلمانوں اور کمزور طبقات کی جس طرح نمائندگی کی ہے اس سے لوگوں میں اس تنظیم کی قدرو عزت بڑھی ہے اور تنظیم ملک کے مختلف مذاہب اور فرقوں کو ساتھ لیکر انصاف کی جدوجہد میں پیش پیش ہے۔یو ایم او کا مقصد مسلمانوں کے مسائل کو ذمہ داری کے ساتھ حکومت کے ایوانوں تک پہونچاناہے اور انکا حل تلاش کرنے میں حکومت کی مدد کرنی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مسلمان رسول اللہ کے آخری خطبہ کو ہی اپنی زندگیوں میں ڈھال لیں تو وہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں باوقار زندگی گزار سکتے ہیں ۔مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد محسن خان وزیر مملکت اتر پردیش نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ابرہا کے لشکر کو تباہ کرکے خانہ کعبہ کی حفاظت کی ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کی مسلمان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اور غیبی امداد کا انتظار کرتے رہیں انہیں بہر حال میدان عمل میں آنا ہوگا اور اپنے مسائل خود حل کرنے ہونگے۔وزیر موصوف نے یو ایم او کی سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یو ایم او نے یہ سیمینار کرکے گورکھپور کے عوام پر یہ احسان کیا ہے اور اس میں بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات کو شامل کرکے انکی ذہن سازی کی ہے ۔اسلامیہ انٹرکالج کے منیجر راشد کمال سامانی نے کہا کہ انکی کالج کے طلبہ اور طالبات بڑی تعداد میں میڈیکل اور انجینیرنگ و دیگر مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی حاصل کر رہیں ہیں جسکے لئے کالج کے سبھی ذمہ داران و اساتذہ کرام مبارکباد کے مستحق ہیں ۔اس موقع پر مولانا نصرالدین قاسمی،پوروانچل کے مشہور ڈاکٹر وجاہت کریم اور ڈائرکٹر، پی ایم ٹی کالج، لکھنو و گورکھپور نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ اس جلسہ کو جن حضرات نے رونق بخشی ان میں سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ شارق احمد عباسی، شہاب الدین، اعجاز احمد، نوشاد احمد لاری، آصف سعید، محمد کاشف، عتیق خان ایڈوکیٹ، محمد واصف اور عبدالسلام ایڈوکیٹ قابل ذکر ہیں۔اس پروگرام کی خصوصیت یہ رہی کی اس میں خواتین کی تعداد تقریباً پچاس فیصدی رہی اور انہوں نے ساڑھے چار گھنٹے تک چلنے والے اس پروگرام میں انتہائی سکون اور انہماک سے اپنی شمولیت درج کرائی مہمانان کا استقبال محبوب سعید ہارث نے کیا اور پروگرام کی نظامت محمد خالد نے کی ۔

...


Advertisment

Advertisment