Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 02:47 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

پربھونے کی ریلوے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی میں ریاستوں کو تعاون کی پیش کش

 

نئی دہلی، 15؍جنوری (آئی این ایس انڈیا )مالی بحران کی شکار وزارت ریل کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے خصوصی طریقہ کی تلاش میں وزیر ریل سریش پربھو ریاستوں سے تعاون لینے پر ایک بڑا داؤ لگا رہے ہیں۔وہ ریل ترقیاتی پرو جیکٹوں میں ریاستوں کو شراکت دار بنانے کے لئے کام کررہے ہیں۔پربھو کا خیال ہے کہ مرکزی حکومت اتنا ہی کر سکتی ہے اور ملک بھر میں ریلوے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے لئے ریاستوں سے شراکت داری ضروری ہے۔اس سے ریلوے کو پرو جیکٹوں کے لئے تحویل اراضی کے قدیم مسئلہ سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔پربھو نے ایک کابینہ نوٹ بھی تیار کرایا ہے، جو ایک الگ لاجسٹکس کارپوریشن بنانے سے منسلک ہے۔اس میں اس پی ایس یو کو مشترکہ پروجیکٹس کے طور پر قائم کرنے کی تجویز ہے، جسے تمام بڑے کاروباری ہب میں ملٹی ماڈل لاجسٹکس پارک بنانے کا ذمہ دیا جائے گا۔ریلوے بورڈ کے ایک ممبر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس طریقہ کے بارے میں پہلے بھی بات ہوئی تھی، لیکن وزیرریل اب مشن موڈ میں آ گئے ہیں۔پربھو نے نئے سال کے آغاز پر تمام وزراء اعلیٰ کو خط لکھا تھا ۔ان میں ریلوے ا سٹیشنوں، ریلوے لائن کو چوڑا کرنے کے علاوہ سڑک فلائی اوور اور روڈ او ربرج بنانے سمیت ریلوے انفراسٹرکچرتیار کرنے اور اسے مضبوط بنا نے میں ریاستوں کے ساتھ شراکت داری کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ایک سینئر ریلوے افسر نے کہا کہ کئی ریلوے پروجیکٹ تحویل اراضی میں دقتوں کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔2لاکھ کروڑ روپے کے پروجیکٹ زیر التواء ہیں۔ان میں بڑی تعداد ایسے پرو جیکٹوں کی ہے، جن میں ریاستوں نے زمین فراہم کرنے میں تعاون نہیں کیا۔زیادہ تر آر اوبی اور آ ریوبی اسی وجہ سے اٹکے ہوئے ہیں۔پربھو نے ریاستوں کے سامنے مشترکہ پروجیکٹوں کا طریقہ اپنانے کی تجویز پیش کی ہے۔افسر نے میڈیا کو بتایا کہ پروجیکٹ کی نشاندہی ہو جانے پر ریلوے متعلقہ ریاست کے ساتھ مل کر جے وی بنا سکتا ہے تاکہ پروجیکٹ مکمل ہو سکے۔اسے ایس پی وی کے ذریعہ بھی کیا جا سکتا ہے۔خرچ ہونے والی رقم تمام فریق مل کر دیں گے۔ریاستوں کو پروجیکٹ اپنا ہونے کا احساس ہو گا۔ریلوے کو امید ہے کہ ریلوے ا سٹیشنوں کی ترقی اور جدید کاری میں بھی جے وی ماڈل اپنایا جا سکے گا۔ایک اور ریلوے افسر نے کہا کہ7000اسٹیشنوں کو جدید کاری کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔انہیں ترقی دینے کے لئے ریاستوں سے تعاون کامطالبہ کیا گیا ہے۔ان میں ریاست اگر ایک پرائیویٹ پارٹنر کو شامل کر لیں تو ایک طرح سے سہ رخی جے وی بن سکتا ہے۔ریلوے نے اپنے پروجیکٹوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے لئے کھول دیا ہے۔افسر نے کہا کہ سرمایہ کار 7000میں سے کسی بھی اسٹیشن کو منتخب کر سکتے ہیں۔پہلے ان کے لئے ایسے 8اسٹیشن ہی تھے، جنہیں ریلوے ماڈل اسٹیشن کے طور پر ترقی دینا چاہتا تھا۔ہر اسٹیشن پر 500کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت کے ساتھ ریلوے نے اس سے پہلے چندی گڑھ، بجواسن ، آنندوہار،شیواجی نگر (پونے)، حبیب گنج ، گاندھی نگر، سورت اور منگلور کو ماڈل اسٹیشن کے طور پرپیش کیا تھا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment