Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 12:48 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ستیش اپادھیائے کی مشکلوں میں اضافہ، ’آپ‘ نے شکنجہ کستے ہوئے مانگا استعفیٰ

 

بجلی کمپنیوں سے شراکت داری پر پیش کئے ثبوت*بی جے پی نے کی الیکشن کمیشن سے کجریوال کی شکایت*اپادھیائے نے کجریوال کو بھیجا نوٹس
نثاراحمدخان
نئی دہلی، 15جنوری (ایس ٹی بیورو)عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان بجلی کمپنیوں میں شراکت داری کا معاملہ انتہائی گرمایا جاتارہا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے ایک بار پھر ستیش اپادھیائے پر حملہ کیاہے وہیں بی جے پی نے بھی جوابی حملہ کیاہے۔ تیز بجلی میٹر کمپنیوں کے معاملہ میں آج بی جے پی پر عام آدمی پارٹی نے مزید شکنجہ کستے ہوئے بی جے پی دہلی صدر ستیش اپاھیائے کیلئے مزید مشکلیں بڑھادی ہیں۔ آج عام آدمی پارٹی کے سینئرلیڈران منیش سسودیا ،سنجے سنگھ ،آشو توش اور راگھو ن نے کانسٹی ٹیوشن کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ستیش اپادھیائے کے تیز بجلی میٹر کمپنیوں میں حصہ دار ہونے،مالک اور ڈائرکٹر شپ کے سلسلہ میں شواہد پیش کئے۔عام آدمی پارٹی لیڈران نے میڈیا کے سامنے این سی این ایل انور میڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ کے مالکانہ دستاویزات پیش کئے، ساتھ ہی کارپوریٹ وزارت کے علاوہ بی ایس ای ایس بجلی کمپنی کے دستاویزات پر مبنی شواہد پیش کئے۔آپ لیڈران نے پیش کردہ دستاویزات کی بنیاد پر کہا کہ این سی این ایل کے دستاویزات کے صفحہ 9پر لکھا ہے کہ اس کمپنی کے دو برابر کے حصہ دار ہیں ان میں امیش اپادھیائے اور ستیش اپادھیائے برابر کے حصہ دار ہیں۔دستاویزات کی بنیاد پر بتایا گیا کہ یہ کمپنی انرجی اکاونٹنگ یعنی میٹر لگانے کا کام کرتی ہے،اس کے علاوہ اس کمپنی نے اپنے نمایاں حصولیابیوں میں کہا ہے کہ وہ میٹر ورک کیلئے بھی ان ریلائنس اور بی ایس ای ایس کے ذریعہ سراہا جاچکا ہے ۔آپ لیڈران نے اپنے شواہد میں 2009سے لے کر 2012کے 31مارچ تک کی بینک اسٹیٹ منٹ پیش کرتے ہوئے الزام لگایا کہ کس طرح سے رقوم اور ان کا ٹی ڈی ایس کاٹا گیا ہے ۔آپ لیڈران نے اپنے شواہد میں مزید مضبوطی پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپادھیائے کا کہنا ہے کہ ان کی این سی این ایل میں کوئی شراکت نہیں بچی ہے کیونکہ انھوں نے جب سیاسی زندگی میں قدم رکھا تھا تو ان کمپنیوں سے خود کو الگ کرلیا تھا،لیکن عام آدمی پارٹی نے اپنے الزام پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس ای ایس دہلی کی جانب سے ان کی ویب سائٹ پر 2014-15 کیلئے منظور شدہ ٹھیکیداروں کی جو فہرست موجودہے اس میں اپادھیائے کی کمپنی این سی این ایل انفورمیڈیا پرائیویٹ لمیٹیڈ کا نام 93نمبر پر موجود ہے اوراو راس کا ٹھیکیداری نمبر 232306ہے۔عام آدمی پارٹی لیڈران نے شواہد کو مزید آگے بڑھایا اور بتایا کہ کس طرح سے اپادھیائے 2012 میں کونسلر بننے کے بعد تما م کمپنیوں سے الگ ہونے کا غلط دعوی کررہے ہیں۔ کیونکہ کارپوریٹ معاملات کی وزارت کے ریکارڈ صاف کہتے ہیں کہ وہ دو کمپنیوں میں ڈائرکٹر اور سرگرم رکن ہیں۔س موقع پر دہلی یونٹ کے انچارج آشو توش نے کہا کہ اگر بی جے پی صدر جیسے لوگ اسمبلی میں جائیں گے تو کیسے تیز میٹروں کے خلاف کوئی کاروائی ہوگی۔سنجے سنگھ نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ مرکزی سرکار نے گزشتہ 7 ماہ میں کیگ سے بجلی کمپنیوں نے تعاون نہیں کیا ہے اور اب تک کوئی جانچ نہیں جاسکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اپادھیائے کو بچایا گیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ اب ان شواہد کے بعد اپادھیا ئے کو سیاست سے کنارہ کشی کا وعدہ پورا کرنا چاہئے۔
دوسری جانب دہلی بی جے پی کے وفد نے آج چیف الیکشن کمشنر وی ایس سمپت سے ملاقات کرکے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کے ذریعہ بی جے پی کے ریاستی صدر ستیش اپادھیائے پر عائد کئے الزامات سے متعلق ایک شکایتی خط سونپا۔ بی جے پی کے وفد نے الیکشن کمشنر نے مطالبہ کیاکہ اروند کجریوال اور ان کی پارٹی کی اس گھناؤنیحرکت کو علم میں لاکر سخت کارروائی کرے۔ وفد میں ستیش اپادھیائے کے علاوہ پربھات جھا، وجے گوئل، رمیش بدھوڑی اور وجیندر گپتا کے علاوہ ایڈوکیٹ اجے دگپال وغیرہ موجودتھے۔ مسٹراپادھیائے نے نامہ نگاروں سے بتایا کہ انہوں نے آج عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کو انکی پارٹی دفتر کے پتے پر اور غازی آباد واقع ان کی رہائش گاہ پر ایک قانونی نوٹس دے کر کہا ہے کہ یا تو وہ اپنے الزامات کو اگلے 24گھنٹے میں ثبوت کے ساتھ ثابت کریں ورنہ میں ان پر ہتک عزت کامقدمہ دائر کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقیات کی دہائی دینے والے کجریوال کو چاہئے کہ اگر ان کے ثبوت نہیں ہیں تو وہ دہلی کے عوام سے اور مجھ سے معافی مانگیں یا پھر سیاست سے ریٹائرمنٹ لیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment