Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 09:19 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سیلاب زدہ کشمیر میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان پر

 

سری نگر کے متعدد علاقے ہنوز زیر آب، متاثرین کی پریشانیوں میں اضافہ

سری نگر ، 29ستمبر (یو این آئی) وادی کشمیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے جہاں فصلیں اور سبزیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں وہیں جموں اور دوسری ریاستوں سے درآمد کی جانے والی سبزیاں نہایت ہی اونچے داموں فروخت کی جارہی ہیں۔ایک طرف تباہ کن سیلاب کے باعث لاکھوں لوگوں کا روزگار متاثر ہوا دوسری جانب منافع خوروں کی من مانیوں نے سیلاب متاثرین کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ گذشتہ دو تین ہفتوں کے دوران اشیاء خوردونوش خاص طور پر سبزیوں کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا ۔ لوگوں نے بتایا کہ بازاروں میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کی چیکنگ میں انتظامیہ کی غفلت ہی اصل میں منافع خوروں کی من مانی کی وجہ ہے اور انتظامیہ منافع خوری کو کنٹرل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سبزی فروش انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ ریٹوں کو بالائے طارق رکھ رہے ہیں اور سیلاب متاثرین کی مجبوریوں کا غلط فائدہ اٹھارہے ہیں۔ ایک گاہک نے بتایا کہ سبزیوں کی قیمتوں میں کئے گئے اچانک اضافے نے عام لوگوں سے سبزیاں خریدنے کی سکت ہی ختم کردی ۔جہاں سیلاب آنے سے پہلے آلو فی کلو 15 سے 20 روپے فروخت کیا جاتا تھا وہیں اب 35 سے 45 روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے۔ اسی طرح پیاز اب 40 سے 45 روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے جبکہ پہلے 20 سے 25 روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے۔ گوبھی، بینگن، ٹماٹر، بینس اور دوسری سبزیاں بھی ایسے ہی نرخوں پر فروخت کی جارہی ہیں ۔ دوسری جانب وادی کشمیر کو تباہ کن سیلاب کی زد میں آئے تین ہفتے گذرجانے کے باوجود سب سے زیادہ متاثرہ ضلع سری نگر کے متعدد علاقے ہنوز زیر آب ہیں۔اگرچہ زیر آب علاقوں سے پمپوں کے ذریعے سیلابی پانی نکالا جارہا ہے تاہم متاثرین نے الزام لگایا کہ پانی کی نکاسی کا کام سست رفتاری کا شکار ہے۔ زیر آب علاقوں کے متاثرین نے اب احتجاجی دھرنے دینا شروع کردیے ہیں۔ وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ پانی کی نکاسی کے کام کو فوری طور پر مکمل کیا جائے تاکہ وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ پمپوں کو نصب کرکے سیلابی پانی کی جلد نکاسی ممکن بنا سکتی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے سوال کیا کہ وہ کب تک رشتہ داروں اور ریلیف کیمپوں میں رہیں گے جبکہ ان کے پاس اب کوئی پیسہ بھی نہیں بچا ہے۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ سری نگر کے راج باغ، جواہر نگر، تلسی باغ، گوگجی باغ، پادشاہی باغ، مائسمہ، اندرا نگر، ستھرا شاہی، بمنہ اور قمرواری علاقے ابھی بھی زیر آب ہیں۔ دوسری جانب جن علاقوں میں سیلابی پانی اتر گیا ہے اْن علاقوں میں دکانوں، سرکاری اور نجی عمارتوں کی صفائی کا کام جاری ہے۔ دکاندار مطالبہ کررہے ہیں کہ سری نگر میونسپل کارپوریشن صفائی کے کام میں تیزی لائیں۔ لال چوک اور اس کے ملحقہ بازاروں میں ہر سڑک پر دکانوں سے نکالا جانے والا سامان ڈھیروں کی شکل میں بکھرا پڑا ہے جس کے باعث ان بازاروں میں ناقابل برداشت بدبو پھیل چکی ہے۔ اگرچہ سری نگر میونسپل کارپوریشن سے وابستہ صفائی کرمچاری گندگی کے ڈھیروں کو ٹھکانہ لگانے کے کام میں دن رات مصروف عمل ہیں تاہم ہزاروں دکانوں سے ہر روز ٹنوں کی مقدار میں خراب سامان باہر پھینکا جارہا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے مطابق سری نگر کے سیلاب زدہ علاقوں سے اب تک ہزاروں میٹرک ٹن کی غلاظت کو ٹھکانے لگایا جاچکا ہے۔ ایس ایم سی ذرائع کے مطابق غلاظت کو ٹھکانے لگانے کیلئے 5 ہزار افراد کو کام پر لگایا جاچکا ہے۔

...


Advertisment

Advertisment