Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 09:00 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ہمت ہے تو دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی کا قانون بناؤ

 

10بچے پیدا کرکے ملک کوغریب بنا رہے ہیں مسلمان:پروین توگڑیا،وی ایچ پی لیڈرنے کانفرنس کی مشروط اجازت دینے پربریلی کے ضلع مجسٹریٹ کوبھی للکارا

بریلی، 14؍جنوری (آئی این ایس انڈیا )بی جے پی کے مرکزمیں اقتدارمیںآتے ہی فرقہ پرست تنظیموں کے ذریعہ لوجہاداورگھرواپسی جیسے شگوفے چھوڑنے کے بعداب بچوں کی پیدائش پرنت نئے متنازعہ بیانات کاسلسلہ شروع ہواہے۔ پہلے ساکشی مہاراج ،پھرسادھوی پراچی،اس کے بعدبنگال کے بی جے پی لیڈرشیامل گوسوامی یکے بعددیگرے ہندوؤں کوچاراورپانچ بچے پیداکرنے کامشورہ دے رہے ہیں۔آج ہندوؤں کے بچے پیدا کرنے کو لے کر ہورہی بیان بازی میں وشو ہندو پریشد کے سر براہ پروین توگڑیا بھی کود پڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمت ہے تو ملک کے اندر 2 بچوں کا قانون بنا دیا جائے اور اس پر ہر طبقے اور ہر مذہب کے لوگوں سے عمل کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان 10 بچے پیدا کرکے ملک کوغریب بنا رہے ہیں، پھر بھی ان پر پابندی نہیں لگائی جارہی ہے۔وشو ہندو پریشد کے پروگرام میں حصہ لینے بریلی پہنچے وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی ایگزیکٹو صدر پروین توگڑیا نے بریلی کے ضلع مجسٹریٹ کوبھی جم کر نشانہ بنایا۔پروگرام کی اجازت نہ دینے پر توگڑیا نے ضلع مجسٹریٹ سنجے کمار کو اسٹیج سے للکارتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں ہندو اکثریت میں نہیں رہے تو تم ہندوستان میں کہیں بھی نوکری نہیں کر پاؤگے۔توگڑیا نے کہا کہ پاکستان میں کوئی ہندو ڈی ایم، ایس پی نہیں ہے۔انہوں نے پولیس اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ملک میں ہندوؤں کی اکثریت ہے تبھی تک ہمارا گھر، جائیداد محفوظ ہے۔غور طلب ہے کہ بریلی کے منوہربھوشن انٹر کالج میں منعقد ہوئے وشو ہندو پریشد کی ہندو کانفرنس کے انعقاد کے لئے ضلع انتظامیہ نے مشروط اجازت دی تھی۔وشو ہندو پریشد کے قیام کے 50سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ہو رہے پروگراموں کے سلسلہ میں بریلی میں منعقد ہندو کانفرنس میں توگڑیا ضلع انتظامیہ پر طنز کرنے سے بھی نہیں چوکے۔انہوں دھمکی آمیز لہجہ میں کہاکہ یہاں اجازت نہ دینے والے ڈی ایم سے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب ملک میں ہندوؤں کی اکثریت نہیں بچے گی تو کیا وہ ڈی ایم کے ناطے اس ملک میں ملازمت کر پائیں گے۔ پاکستان میں کتنے ہندو ڈی ایم ہیں، کتنے ہندو ایس پی ہیں۔ توگڑیا نے کہاکہ ملک میں آبادی پر کنٹرول کا فارمو لہ صرف ہندوؤں پر ہی نہیں تھوپا جانا چاہئے۔حکومت کو برابر کا سلوک کر نا چاہئے۔ملک میں 2 بچوں کا قانون بنا دیں۔ توگڑیا نے تقریر کے بعد صحافیوں سے کہا کہ مرکزی حکومت کو اس سمت میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے۔پارلیمنٹ میں بحث کے بعد 2 بچوں کا قانون بنے۔ساتھ میں یہ بھی خیال رکھا جائے کہ قانون پر ہر طبقے اور مذہب کے لو گوں سے عمل کرایا جائے۔صرف ہندوؤں پر قانون تھوپے جانے پر ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے بی جے پی اور مرکزی حکومت کے رخ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہندو زیادہ بچے پیدا کرنے کی بات کریں تو اس کی زبان پر تالا لگایا جاتا ہے، انہیں نوٹس دیا جاتا ہے۔چھاتی پیٹنے والوں میں ہمت ہے تو 2 سے زیادہ بچے پیدا کرنے پرپابندی کا قانون بنوائیں۔جو لوگ حقیقت میں زیادہ بچے پیدا کررہے ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔واضح رہے کہ پیر کو ہی بی جے پی نے اناؤ سے اپنے ایم پی ساکشی مہا راج کو اسی طرح کے ایک بیان پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔جب توگڑیا سے اجودھیا میں رام مندرکے با رے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ سوال آپ بی جے پی کے لوگوں سے پوچھیں۔میں بی جے پی کا ترجمان نہیں ہوں۔اپنی تقریر کے دوران توگڑیا نے ہندؤوں سے متحد ہونے کی اپیل بھی کی۔انہوں نے کہا کہ ہراگڑپریوار کم سے کم ایک درج فہرست ذات اور قبیلے کے پریوار کے ساتھ دوستی کرے۔غریبوں کے لئے ہر روز ایک مٹھی اناج نکالے، ایک غریب ہندو طالب علم اور طالبہ کی ایک مہینے کی فیس دے، ڈاکٹر ایک غریب ہندو کا مفت علاج کرے، کاروباری ایک ہندو بے روزگار کو روزگار اور ٹریننگ دے تاکہ سب تعلیم یافتہ اور خوشحال بن کر با عزت زندگی گذاریں ۔سب کے لئے ایک با ورچی خا نہ میں کھانا، ایک کنوئیں میں پانی، ایک شمشان گھاٹ میں آخری رسومات کی آدائیگی کی ہندستانی ہم آہنگی پرمبنی تہذیب کو فروغ دے کر چھوا چھوت کو ختم کریں۔

...


Advertisment

Advertisment