Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 05:57 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

عمر عبداللہ کا پی ڈی پی اور بی جے پی سے سوال


جموں وکشمیر کو حکومت کیلئے کیونکر دہلی کے انتخابی نتائج کا انتظار کرایا جارہا ہے
سری نگر،13 جنوری (یو این آئی) ریاست جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے الزام لگایا ہے کہ دہلی میں فروری کے مہینے میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر جموں وکشمیر میں حکومت سازی کے معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے ۔انہوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے وضاحت طلب کی ہے کہ کیوں ریاست جموں وکشمیر کو حکومت کے قیام کیلئے دہلی کے انتخابی نتائج کا انتظار کرنا پڑے گا۔ مسٹر عمر عبداللہ نے لکھا ‘‘ پی ڈی پی یا بی جے پی میں سے کوئی برائے مہربانی ہمیں یہ بتائیں کہ ہمیں یہاں جموں وکشمیر میں حکومت کیلئے دہلی انتخابات کے نتائج تک کیوں انتظار کرایا جارہا ہے ۔’’ اس ٹویٹ سے قبل عمر عبداللہ نے 6 جنوری کو ہندوستان ٹائمز میں شائع ایک رپورٹ کی لنک اپنے ٹویٹر کھاتے پر شیئر کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بی جے پی دہلی انتخابات کو ملحوظ نظر رکھتے جموں وکشمیر میں حکومت سازی کو لیکر اس کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ جاری مذاکرات پر سست روی اختیار کرسکتی ہے کیونکہ پی ڈی پی کے ساتھ گٹھ جوڑ اور دفعہ 370 کو سرد خانے میں ڈالنے کے نتیجے میں دہلی انتخابات میں بی جے پی کے انتخابی نتائج پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی پی نے بی جے پی کے سامنے پورے چھ سال تک مفتی محمد سعید کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ رکھا ہے ۔ اس کے علاوہ رپورٹوں کے مطابق پی ڈی پی نے بی جے پی کو اپنا اتحادی بنانے کے لئے اس سے افسپا کی منسوخی، بجلی پروجیکٹوں کی ریاست کو واپسی اور دفعہ 370 کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ایک تحریری ضمانت مانگی ہے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق،‘ کیا بی جے پی ان مطالبات کو اپنی منظوری دے گی’، پر کوئی بھی رائے زنی کرنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ بی جے پی نے پہلے ہی وزارت اعلیٰ کے عہدے اور دفعہ 370 کی منسوخی کے مطالبے میں نرمی لائی ہے تو کچھ بھی ممکن ہے ۔تاہم انہوں نے کہا کہ اگر اس وقت بی جے پی دفعہ 370 سے متعلق اپنے موقف میں تبدیلی کا کھلم کھلا اعلان کرے گی تو اُس کا اثر دہلی انتخابات کے نتائج پر ضرور پڑے گی کیونکہ یہ ایک طرح کا سمجھوتہ ہوگا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment