Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 10:03 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

قومی اردو کونسل کے ذریعہ اورنگ آباد میں17ویں کتاب میلے کا انعقاد

 

ایک کروڑ سے زیادہ کی کتابیں فروخت ہونے کا ریکارڈ
نئی دہلی :12؍جنوری2015(این سی پی یو ایل رپورٹ)قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان دہلی کے زیرِ قیادت اور مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی،ممبئی اور فیڈریشن آف آل مائناریٹی ایجوکیشنل آرگنائزیشن (FAME) کے اشتراک سے شہرِ اورنگ آباد کے قلب میں واقع حالی و شبلی کتاب نگری عام خاص میدان میں27؍دسمبر 2014تا4؍جنوری 2015’’ 17واں کل ہند اردو کتابی و تہذیبی میلہ‘‘نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔میلے کے افتتاح سے قبل قومی کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے صحافیوں اور میڈیا شخصیات سے پریس میٹ کی اور کل ہند اردو کتابی و ثقافتی میلہ میں قومی کونسل کے کردار اور اشاعتِ کتب سے متعلق کونسل کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ڈائرکٹر موصوف نے زور دے کر کہا کہ قومی کونسل کے کتاب میلے کا مقصدیہ ہے کہ ہم اردو قاری تک علم و آگہی کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور واضح کیا کہ اردو نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ ایک تہذیب بھی ہے۔اس کتاب میلے سے ہم اردو کے لسانی اور تہذیبی دونوں پہلوؤں کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔ کتاب میلے کا افتتاح بدست اے جی خان (سابق ڈائرکٹر بی سی یو ڈی ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مراٹھوارہ یونیورسٹی اورنگ آباد)، اور جناب امتیاز جلیل ایم ایل اے ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر عتیق اللہ ، اردو ، مراٹھی اور ہندی کے اہم اخبارات کے مدیران نیز میئر اورنگ آباد ، پولیس کمشنر اورنگ آباد، فیم کی صدرمحترمہ فوزیہ خان ،اردو اکادمی کے سربراہ خورشید صدیقی اور دیگر شخصیات موجودتھیں۔افتتاحی تقریب کا منظر قابل دید تھا۔44سے زائد اسکولوں کے تقریباً آٹھ ہزار طلبہ و طالبات نے شہر کے مختلف مقامات سے جلوس نکالا۔ہاتھوں میں اٹھائے بچوں کے بینر میں اردو زبان اور ثقافت کی خوشبو بسی تھی۔بچوں میں غیر معمولی جوش اور ولولہ تھا جو شہر کی گلیوں اور اہالیان شہر کے جذبات اور اردو دوستی کا مظہر تھا۔اس موقعے پر اسکولی طلبہ و طالبات نے نہایت شاندار اور پرکشش جھانکیاں بھی نکالیں ،جن میں اردو اصناف اور اردو زبان و ثقافت کی روح بسی ہوئی تھی۔واضح ہو کہ اورنگ آباد کا حالیہ اردو کتاب میلہ قومی کونسل کے ذریعے منعقد ہونے والے کتاب میلوں میں اب تک کا سب سے بڑا کل ہند اردو کتابی و ثقافتی میلہ تھا۔اس میں ملک کے طول و عرض سے اردو زبان کے بڑے اشاعتی اداروں سے کل 105ناشرین نے 155بک اسٹال کے ساتھ شرکت کی۔قومی کونسل کی جانب سے کونسل کی جملہ ٹیم کی قیادت کونسل کے ریسرچ آفیسر جناب ایس ایم خرم نے کی۔خواجہ محمد معین الدین صاحب کتاب میلے کے کنوینر اور مرزا عبد القیوم ندوی کتاب میلے کے کوارڈینیٹر تھے۔کتاب میلے کے ذمہ داروں نے میلے کی قرب و جوار کے اضلاع میں کافی تشہیر کی تھی ،جس کے سبب روزانہ ہزاروں کی تعداد میںیونیورسٹی،کالج اور اسکولوں کے ذمہ داران ،طلبہ و طالبات،سرکردہ سماجی،تعلیمی،مذہبی ،ملّی،سیاسی عمائدین اور شخصیات کے علاوہ سماج کے مختلف سمتوں میں فعال تنظیموں اور اداروں نے کتاب میلے میں شرکت کی ۔اس کتابی میلے کی تشہیری مہم میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اردو،ہندی،مراٹھی اور انگریزی میڈیا کا غیر معمولی تعاون حاصل رہا۔کتاب میلے میں قومی کونسل نے اپنی معاون تنظیموں اور اداروں کے ساتھ مختلف تہذیبی و ثقافتی پروگرام کے انعقاد کا نظم بھی کیا تھا،جو کتاب میلے کے ساتھ روزانہ جاری رہا۔یومیہ پروگرام کے تحت مشاعرہ ،ڈرامہ،شبِ غزل،صوفی سنگیت،نعت خوانی ،بچوں اور خواتین کے پروگرام۔وہیں کتاب میلے کے متوازی روزانہ امبیڈکر ریسرچ سنٹر میں ادب اطفال، فکش،اردو زبان و ادب میں مدارس کا حصہ، اردو زبان میں سائنسی موضوعات، اردو زبان و ادب کے فروغ میں مراٹھوارہ کا حصہ جیسے خالص علمی،لسانی اور ادبی پروگرام کا انعقاد بھی کیا گیا۔ان دونوں ثقافتی اور ادبی و علمی پروگرام میں شہر اور بیرونِ شہر سے آئے ذی علموں اور اردو سے محبت کرنے والوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا اور محظوظ ہوئے۔ ثقافتی پروگرام کا ایک بڑا حصہ اسکول اور مدارس کے طلبہ و طالبات پر مشتمل تھا۔بچوں نے متنوع رنگا رنگ اور دلچسپ پروگرام پیش کئے اور ناظرین و حاضرین سے داد و تحسین حاصل کی۔خواتین کی دلچسپی کے پیش نظر ایک د ن صرف خواتین کے لیے مختص کیا گیا۔کتاب میلے کے اوقات صبح 11بجے سے شام 8بجے تک رکھے گئے تھے تاہم شائقین کے ذوق و شوق کو دیکھتے ہوئے میلے کے اوقات بڑھا کر رات 10بجے تک کردیا گیا۔
کتاب میلے میں شرکت کرنے والوں کی راہنمائی کی خاطر داخلہ گیٹ سے متصل پہلا اسٹال ’’انفارمیشن ڈسک‘‘کا رکھا گیاتھا،جہاں سے تمام طرح کی معلومات فراہم کی جاتی تھیں ۔قومی کونسل کی ٹیم اس سے متصل اسٹال پر اور FAMEکے احباب اس کے برابر اسٹال پر موجود تھے۔اختتامی اجلاس میں کونسل کے وائس چیرمین پدم شری عالی جناب مظفر حسین اور پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے شرکت کی،جہاں شہر اورنگ آباد کی سرکردہ شخصیات نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔وی سی موصوف نے پروگرام کی صدارت کی ۔اپنے صدارتی خطبے میں انھوں نے قومی کونسل کی سرگرمیوں اورتکنیکی تعلیم میں کونسل کے کمپیوٹر پروگرام سے فیض یاب طلبہ و طالبات کو روزگار سے جوڑنے اور ان کے سنہرے مستقبل میں کونسل کی فعال حصے داری کا خلاصہ کیا۔انھوں نے کونسل کے حالیہ بجٹ کے لیے حکومت ہند کا بھی شکریہ ادا کیااور کونسل کو ایک ذمہ دار ادارہ بتایا جہاں شفافیت ہے اور عوام کی ضرورتوں کا احساس بھی۔وہیں پروفیسر اخترالواسع نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کو دنیا میں اردو کے لیے کام کرنے والے اداروں میں سب سے بڑا ادارہ بتایا اور منتظمینِ کتاب میلے کو خراج و تحسین پیش کیا۔اس موقع سے کونسل کے اسسٹنٹ ڈائرکٹر جناب کمل سنگھ نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور ادارہ کو اس مقام تک لانے اور اسے ISOکے دائرۂ اعتبار میں لانے کے سلسلے میں اپنے تجربات پیش کیا۔ میلے میں شائقین کتب کی شرکت اور خریداریِ کتب کے لحاظ سے اورنگ آبادکے حالیہ کتابی و تہذیبی میلے کو کونسل کے اب تک کے میلوں میں نمایاں مقام حاصل ہے۔اس میلے نے دسمبر۔جنوری 2014میں مالیگاؤں کی ریکارڈ فروخت 87لاکھ کو پیچھا چھوڑتے ہوئے Rs. 1,29,40,722=00کا ایک کروڑ انتیس لاکھ چالیس ہزار سات سو بائیس روپئے کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔اردو کی بقا اور اس کے فروغ کے جس خاکے پر قومی کونسل کام کر رہا ہے ، اورنگ آبادکا حالیہ اردو کتابی و تہذیبی میلہ اپنے معیار اور رفعت میں اس کا عملی نمونہ ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment