Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 05:50 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

واٹس اپ پر آنحضور ؐ کی شان میں گستاخی پر اقلیتی طبقہ میں غم و غصہ کی لہر


یاسرعثمانی
دیوبند،12؍جنوری، (ایس ٹی بیورو) آج یہاں شہر کے اقلیتی فرقہ کے لوگوں میں اکثریتی فرقہ کے نوجوان کی جانب سے واٹس اپ پر آنحضور ؐ کی شان میں انتہائی قابل اعتراض پوسٹ کی اطلاع ملی تو اقلیتی طبقہ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور یہ خبر پورے شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی اورسینکڑوں لوگوں نے تھانہ پہنچ کر جم کر احتجاج اور پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے والے اکثریتی فرقہ کے نوجوان ملز م کا مطالبہ اور اسکے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کرنے لگے جس کو لیکر پولیس محکمہ میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے ہنگامہ کر رہے نوجوانوں کو ملزم کی گرفتاری کی بات کہہ کر انہیں خاموش کرایااور شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیش نظر تمام بازار بند ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے سڑکوں پر سناٹا طاری اور پورے شہر میں احتیاطی طور پر پولیس اہلکار تعینات کردیئے گئے ہیں ۔ وہیں سماجی کارکن اشفاق اللہ خان، سید حارث ،ولی اللہ خاں وغیرہ نے کوتوالی میں تحریری دیکر آنحضور ؐ شان کی شان میں گستاخی کو ناقابل برداشت قراردیتے ہوئے قصور وار کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیاہے۔ادھر ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے پولیس نے قصور نوجوان کو گرفتار کرلیا ہے ۔موصولہ تفصیلات کے مطابق آج شام تقریبا چار بجے شوشیل نیٹ ورک واٹس اپ پر اکثریتی فرقہ کے چراغ ملک ٹیچر کالونی کے تحت آنحضورؐ کی شان میں نا قابل برداشت کو اپ لوڈ کئے جانے کی خبر ملتے ہیں اشفا ق اللہ خاں سمیت سینکڑوں نوجوان کوتوالی پہنچ کر احتجاج شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہی تھانہ میں لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا اور انہوں نے ملزم کی فوری گرفتاری اور سخت کاروائی کا مطالبہ کرنے لگے تاہم بھیڑ کو قابل میں ناکام پولیس نے ہنگامہ سے دوری اختیارکرنے کو مناسب سمجھا اطلاع پاکر موقع پر پہنچے شہر چیئر مین معاویہ علی نے موقع پر پہنچ کر قابل اعتراض پوسٹ کی سخت لفظوں میں مذمت کرتے ہوئے اس کو ناقابل برداشت قراردیتے ہوئے نوجوانوں سے پر امن احتجاج اور انتظامیہ سے فوری کاروائی کی مانگ کی بصورت دیگر سڑکوں پر اترنے کا انتباہ دیا ۔اس دوران انتظامیہ کی جانب سے ملزم چراغ ملک جاٹ کی گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی وقتی طور پر ہنگامہ کر رہے لوگوں نے خاموش اختیار کی تاہم پولیس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوبار ہنگامہ شروع کردیا ۔عمائدین شہر کے بارہا سمجھانے کے باؤجود مشتعل نوجوانوں نے قابل اعتراض مواد کو اقلیتی فرقہ کے مذہبی جذبات کو بر انگیختہ قراردیا اور کہا کہ مسلمانوں کے خلاف مذہبی نفرت آمیز کا سلسلہ سازش کے تحت جاری ہے تاہم اگر بروقت کاروائی نہیں کی گئی تو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے خطرہ بنتا جارہا ہے لہذا اس طرح کی گھناؤنی حرکت کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔اس موقع پر شہرچیئر مین اشفاق اللہ خان اور انکے ساتھیوں سے ہوش مندی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ قصوروار کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اس دوران سی اواور ایس ڈی ایم اور کوتوال نے مشتعل لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی تاہم وہ چیئرمین اور عمائدین شہر کی پختہ یقین دہانی پر خاموش ہوئے ۔اس موقع پررکن میونسپل بورڈ سید حارث ، عبد القیوم شبو ، شاہنواز صدیقی ، وغیرہ نے مذکورہ مذہبی جذبات کو بر انگیختہ کرنے والی حرکت کو اسلامی تعلیمات کے منافی قراردیا اور کہا کہ فرقہ پرستوں کی یہ اسلام کے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے جس کے خلاف اذیت ناک کاروائی کی جائے ۔اس موقع پر ڈاکٹر اصرارقریشی ، اور سلیم قریشی انصاری مسعودی نے بھی لوگوں سے بقائے امن کی اپیل کی اور شہر کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بقاء پر زوردیا۔احتجاج کرنے والوں میں سید حارث ، اشفاق اللہ خان ، عبدالقیوم شبو ، شاہنواز صدیقی ، سفیان کاظمی ، محمد شارق ، اسلام ، محمد عامر خان ، عظیم قریشی ، سمیت درجنوں لوگ موجود رہے ۔حالات کے پیش نظر شہر کے بازار بند ادھر ناقابل برداشت پوسٹ سے سخت نالاں سینکڑوں افراد کے ہنگامہ اور احتجاج کا عالم یہ تھا کہ نہ وہ عمائدین شہر کی بات سننے کو تیار تھے اور نہ انتظامیہ کی یقین دہانی ہاں بھیڑ میں ایسے بھی تھے جو مذہب اسلام کو امن پسند مذہب قراردیتے ہوئے پر امن احتجاج کی اپیل کر رہے تھے اور تھوڑی دیر بعد گرفتاری کے بعد مظاہرہ کر رہے نوجوان خاموش ہوئے لیکن حالات کی کشیدگی کے پیش نظر دکانداروں سمیت تمام محلوں اور گلیاروں کی بازار یکا یک بند ہوگئے اور سرکردہ لوگوں نے امن و امان کو برقراررکھنے کی اپیل کی ہے ۔تحریر کی بنیاد پر ملز م کے خلاف کاروائی کی جائے ، سی او اکثریتی فرقہ کے چراغ ملک نامی جاٹ نوجوان کے تحت مذہبی شر انگیزی کا ارتکاب کرنے کے بابت تحریر ملی گئی ہے اور اسکی بنیا د پر سخت کاروائی کی جائے ۔اور شہر کی فضا داغدار کرنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا 

 

 

...


Advertisment

Advertisment