Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 03:42 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اقلیتوں کو با اختیار بنانے میں اردو یونیورسٹی کا اہم رول

 

مولانا آزاد نیشنل ارو یونیورسٹی کی 17 ویں یوم تاسیس تقریب سے مختار عباس نقوی کا بیان

حیدر آباد 9 جنوری (ائی این ایس انڈیا) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، عوام اور بالخصوص اقلیتوں کو با اختیار بنانے کے کام میں حکومت ہند کی مدد کرسکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مختار عباس نقوی، مرکزی مملکتی وزیر برائے اقلیتی و پارلیمانی امور نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی منعقدہ تقریبِ یوم تاسیس میں بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر وید پرکاش، صدر نشین ، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن، مہمانِ اعزازی تھے۔ پروفیسر محمد میاں، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ وزیر موصوف نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اُردو محض ایک زبان کا نام نہیں بلکہ ایک تہذیب کا نام ہے اور اس تہذیب کا تعلق ہمارے ملک ہندوستان سے ہے۔ مجھے یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی ایک دانشگاہ کے ماحول کا احساس ہوا۔ جس سے آپ لوگوں کی کڑی محنت کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نہ صرف طلبہ کی تعلیم کی طرف توجہ دے رہی ہے بلکہ کمپنیوں سے یادداشتِ مفاہمت کر رہی ہے جس کے ذریعہ پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی بہ آسانی روزگار سے جوڑا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بطور خاص دینی مدرسوں کے ذمہ داروں پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے اداروں میں متاوازی طور پر اردو میڈیم اسکول بھی چلائیں جہاں طلبہ کو دینیات کے علاوہ دنیوی تعلیم کا بھی معقول انتظام ہو۔ انہوں نے پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کے لیے آئی ٹی آئی اور پالی ٹیکنیک کے قیام کی بات کی۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ موقع ملنے پر وہ مانو میں دوبارہ آنا چاہیں گے۔ پروفیسر وید پرکاش، صدر نشین یو جی سی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مانو نے کم عرصہ میں کافی ترقی کی ہے۔ اس سے یہاں کے انتظامیہ کی کاوشیں آشکار ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے اہداف کے حصول کے لیے سبھی اساتذہ، اسٹاف اور خود طلبہ کی جہد مسلسل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیومانٹیز کے شعبوں کو ٹکنالوجی سے جوڑ کر ہم اس میں بہتری پیدا کرتے ہوئے ایک بہترین سماج کی تشکیل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی مراکز کو کامیابی کے مراکز کے طور پر فروغ دینے پر زور دیا۔ پروفیسر محمد میاں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو یونیورسٹی کا دائرہ کار کافی وسیع ہے۔ یونیورسٹی کے فروغ سے اردو عوام کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہمان و زیر کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اقلیتوں کے فروغ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اقلیتی آبادی والے علاقوں میں تعلیمی اداروں کے فروغ کے متمنی ہیں۔ انہوں نے مہمانوں سے درخواست کی کہ اردو یونیورسٹی کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت اور یو جی سی گرانٹس جاری کرتے ہوئے معاونت کریں۔ ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد، نائب شیخ الجامعہ نے دونوں مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ معروف کرکٹر وی وی ایس لکشمن گذشتہ نومبر میں ’’دوڑ برائے تعلیم و اردو‘‘ میں حصہ لینے یونیورسٹی تشریف لائے تھے تب وہ یہاں کی بنیادی سہولتوں بالخصوص کھیل کے وسیع تر میدان سے کافی متاثر ہوئے۔ انہوں نے یہاں ایک اسپورٹس اکیڈیمی قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جو یونیورسٹی طلبہ کے لیے کرکٹ کے میدان اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا نادر موقع فراہم کرسکتی ہے۔ پروفیسر سید نجم الحسن ، ڈین برائے تعلیمی امور نے یونیورسٹی کا تعارف پیش کرتے ہوئے یونیورسٹی کے کورسز، مراکز، طلبہ و اساتذہ پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ پروفیسرایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار نے شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر انہوں نے کچھ فی البدیہہ اشعار سناکر داد و تحسین حاصل کی۔ ابتداء میں ایم اسلامک اسٹڈیز کے طالب علم، حافظ و قاری سید شارق علی کی قرأت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ عابد عبدالواسع، پبلک ریلیشنز آفیسر نے کاروائی چلائی۔ اس موقع پر ہارون خان شیروانی مرکز برائے مطالعاتِ دکن کی جانب سے مرتبہ کتاب ’’دکنی اصطلاحات کی لغت‘‘ کا رسم اجراء عمل میں آیا۔ یوم تاسیس تقریب میں اساتذہ، طلبہ ، یونیورسٹی عہدیداروں، ارکان اسٹاف کے علاوہ حیدرآباد کے معززین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام سے قبل پروفیسر وید پرکاش نے کمپیوٹر سائنس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی کی عمارت کا افتتاح انجام دیا۔ جبکہ بعد میں جناب مختار عباس نقوی نے سی ایس ای کوچنگ اکیڈیمی کی عمارت کا افتتاح کیا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment