Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 05:01 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

جموں وکشمیر میں گورنر راج نافذ

 

وادی میں سیاسی بحران کیلئے پی ڈی پی ذمہ دار: عمر عبداللہ
حکومت سازی کیلئے پی ڈی پی اور این سی سے بات چیت جاری ہے:امت شاہ
نئی دہلی، 9 جنوری (یو این آئی) جموں کشمیر میں کسی بھی پارٹی کے ذریعہ حکومت نہ بناسکنے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے۔ بااختیار ذرائع کے مطابق جموں کشمیر کے گورنر این این ووہرہ کی طرف سے صدر پرنب مکھرجی کو کل رات پیش کی گئی رپورٹ کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسٹر عمر عبداللہ نے درخواست کی ہے کہ انہیں کارگزار وزیراعلی کے عہدے سے سبکدوش کردیا جائے۔واضح رہے کہ جموں کشمیر اسمبلی کے پچھلے مہینے ہوئے الیکشن میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو سب سے زیادہ 28 سیٹیں حاصل ہوئی جو کہ حکومت بنانے کیلئے ضروری تعداد سے سولہ کم ہیں۔ بی جے پی کو 25، نیشنل کانفرنس کو 15 اور کانگریس کو 12 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔جموں کشمیر اسمبلی کی میعاد 19 جنوری کو ختم ہورہی ہے اور اس سے قبل نئی حکومت کی تشکیل ہونا ضروری ہے لیکن نگراں وزیراعلی کے عہدے پر برقرار نہ رہنے کے عمر عبداللہ کے فیصلے کے پیش نظر گورنر کو اپنی رپورٹ جلدی بھیجنی پڑی۔
ذرائع کے مطاق وزارت داخلہ نے گورنر کی رپورٹ کل رات ضروری کارروائی کیلئے وزیراعظم کے دفتر بھیج دی تھی۔ سمجھا جاتا ہے کہ صدر نے گورنر راج نافذ کرنے کو اپنی منظوری دے دی ہے۔بی جے پی کی معمول کی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں وزیر مواصلات روی شنکر پرساد نے کہا کہ ریاست میں مستحکم حکومت کی تشکیل کیلئے بات چیت چل رہی ہے۔ اسمبلی کی میعاد 19 جنوری کو ختم ہورہی لیکن کارگزار وزیراعلی نے عہدے پر برقرار رہنے سے معذوری ظاہر کی ہے یہی وجہ ہے کہ کام کاج چلانے کیلئے یہاں گورنر راج نافذ کیا گیا ہے۔کانگریس نے کہا ہے کہ ریاست میں جمہوری حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری پی ڈی پی اور بی جے پی کی ہے جنہیں سب سے زیادہ نشستیں ملی ہیں۔پارٹی کی ترجمان شوبھا اوجھا نے نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ عوام نے کسی ایک پارٹی کے بارے میں واضح فیصلہ نہیں سنایا ہے اور حکومت بنانیکی ذمہ داری مذکورہ دونوں جماعتو کی ہے۔ریاست جموں وکشمیر کے سیاسی بحران کے لئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ انتخابات میں لوگوں کی بھاری شرکت کے باوجود ریاست میں پیدا ہونے والی صورتحال پر معذرت خواہ ہیں۔ مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ میں معذرت خواں ہوں کہ انتخابات میں لوگوں کی بھاری شرکت کے باوجود ہمیں گورنر راج دیکھنا پڑا لیکن میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ حکومت بنانے کی ذمہ داری پی ڈی پی پر عائد ہوتی ہے۔دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدرامت شاہ ابھی بھی جموں وکشمیر میں حکومت سازی کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی دونوں سیاسی پارٹیوں پی ڈی پی اور این سی سے بات چیت جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہم حکومت سازی کیلئے کوئی نہ کوئی حل ضرور نکال لیں گے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment