Today: Thursday, September, 20, 2018 Last Update: 02:41 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

زرعی سیکٹر کے فروغ کیلئے کئی اقدامات کئے گئے

 

نئی دہلی، 27 دسمبر (یو این آئی) اس سال کم بارش اور خشک سالی کے باوجود خوردنی اشیا کی ریکارڈ پیداوار ہونے اور اس رفتار کو برقرار رکھنے کیلئے دوسرا سبز انقلاب شروع کرنے، بنیادی سہولتوں کی توسیع کرکے کسانوں کو قرض وغیرہ دلانے میں آنے والی مشکلات کو دور کرنے جیسے کئی اقدامات کئے گئے۔اس سال حکومت کی یہ کوشش رہی کہ زیادہ سے زیادہ کسانوں کو ان کی پیداوار بڑھانے کیلئے نئی تکنیکوں اور جدید ترین طریقوں سے واقف کرایا جائے تاکہ کم جگہ میں زیادہ سے زیادہ پیداوار کی جاسکے۔وزارت زراعت کا 2020۔21 تک زرعی پیداوار کو بڑھاکر 28 کروڑ ٹن تک پہنچانیکا ہدف ہے جو ابھی 26 کروڑ ٹن کے آس پاس ہے۔ یہ تشویش کی بات ہے کہ پہلے سبز انقلاب کو کامیاب بنانے میں جن شعبوں کا سب سے زیادہ ہاتھ رہا وہ سیاحت کے خراب ہونے سے کئی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں جن میں زیر زمین پانی کی سطح کا تشویشناک سطح تک گر جانا شامل ہے۔وزارت نے 147لیب ٹو لینڈ148 اسکیم کو کارگر طریقے سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جن علاقوں میں خاص طور پر مشرقی ریاستوں میں جہاں صلاحیت سے کم پیداوار ہورہی ہے، پیداوار بڑھائی جائے اور دالوں اور خردنی تیل کا امپورٹ کم کرنے کیلئے ان کی پیداوار ملک میں ہی بڑھائی جاسکے۔دوسرے سبز انقلاب کے تحت زرعی پیداوار کی شرح کو بڑھاکر چار فیصد تک برقرار رکھنے کا ہدف ہے۔ زرعی تجارت سے اب بھی ملک کے تقریباً 55 فیصد مزدور وابستہ ہیں۔ اس سال کچھ ایسی ایسی باتیں بھی ہوئیں جن سے کسانوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں فصل کی لاگت پر پچاس فیصد زیادہ رقم جوڑکر کم از کم سہارا قیمت مقرر کرنے کی یقین دہانی کے باوجود نئی حکومت نے اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں کیا۔ کپاس کی شاندار پیداوار کے بعد اس کی قیمت میں آئی زبردست گراوٹ کی وجہ سے کسانوں نے خودکشی بھی کیں۔ہر کھیت کو پانی کا نعرہ دینے والی نئی حکومت میں وزیراعظم گرامین سینچائی یوجنا شروع کرنے اور اس کیلئے ایک ہزار کروڑ روپے مختص کرنے،کھاد کے بے تحاشہ استعمال کرنے سے مٹی کی زرخیری میں آئی گراوٹ کو روکنے کیلئے تمام کسانوں کو زمین کو زرخیز بنانے سے متعلق کارڈ جاری کرنے، آندھراپردیش اور راجستھان میں زرعی یونیورسٹی قائم کرنے، نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ اور دہلی کے قریب واقع ریاست ہریانہ کو باغبانی یونیورسٹی کا تحفہ دینے کیلئے بھی رواں برس کو یاد کیا جائے گا۔ملک میں اب تک واحد انڈین ایگریکلچرریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرح شمال مشرقی علاقے آسام اور نکسلی مسائل کا بری طرح سامنا کرنے والے جھارکھنڈ میں اسی طرح کے دو انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کا تاریخی فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ریسرچ اور زرعی توسیع کے میدان میں اہم رول ادا کرنے والے 640 زرعی سائنس سنٹروں کی خستہ حالی کو دور کرنے کیلئے ان میں بنیادی سہولتیں فراہم کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وسیع پیمانے پر ڈاک گھروں کے ذریعہ دورافتادہ دیہی علاقوں میں کسانوں کو معیاری بیج فراہم کرانے اور ڈاکیہ کے ذریعہ جدید ترین زراعت کو فروغ دینے کا بھی تجربہ شروع کیا گیا۔مانسون کی آمد میں تقریباً ایک ماہ کی ہوئی تاریخ کے باوجود فصل کی پیداوار کے سلسلے میں چوتھے پیشگی اندازے کے مطابق 2013۔14 میں ریکارڈ 26 کروڑ 467 لاکھ 70 ہزار ٹن خردنی اشیا کی پیداوار کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ملک میں پہلی بار کسانوں کو آٹھ لاکھ کروڑ روپے کا قلیل مدتی زرعی قرض فراہم کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جس قرض کی حد کے اس سال پار کرجانے کی امید ہے۔اس کے علاوہ زمین کی زرخیزی کا پتہ لگانے کیلئے موبائل لباریٹریوں کیلئے بجٹ میں 56 کروڑ روپے مختص کئے گئے۔دنیا میں دودھ کی پیداوار میں پہلے مقام پر رہنے میں کامیاب ہونے کے بعد اب دودھ دینے والے مویشیوں کی افزائش نسل اور دیکھ ریکھ کیلئے جنوبی ہند میں ایسی دو سینٹر قائم کرنے اور ڈیری سیکٹر کے فروغ کیلئے گوکل مشن کی شروعات کرنے کی پہلی کی گئی۔دیہی علاقے میں حیاتیاتی زراعت کو فروغ دینے اور جدید ترین زراعت کو بڑھاوا دینے کیلئے سائنس دانوں سے کم از کم ایک گاؤں کو گود لینے اور ممبران پارلیمنٹ سے کم از کم دو گرام پنچایتوں کو اپنانے کی اپیل کی گئی۔رواں برس کے دوران ہریانہ، اترپردیش اور مہاراشٹر کی حکومتوں نے کچھ علاقوں کو خشک سالی زدہ بھی قرار دیا لیکن ان ریاستوں کے کسانوں کو اب تک اس کا فائدہ نہیں مل سکا ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment