Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 05:43 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سی بی آئی کا غلط استعمال کررہی ہے بی جے پی

 

سہراب الدین قتل کیس، کوثر بی اور تلسی رام پرجاپتی اغوا کیس میں پختہ ثبوت موجود ہونے سی بی آئی کی عدالت میں کمزور بحث افسوسناک ، گواہوں کو ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے : اروند کیجریوال ، عدالت کافیصلہ 30دسمبرتک محفوظ
نئی دہلی ،26دسمبر( ایجنسیاں ) مشہور سہراب الدین قتل کیس، اس کی بیوی کوثر بی اور تلسی رام پرجاپتی اغوا کیس میں پختہ ثبوت موجود ہونے کے باوجود بی جے پی سی بی آئی کیساتھ مل کر اپنے قومی صدر امت شاہ کو بچانے کی سنگین سازش رچ رہی ہے۔مسٹر رنجیت سنہا کے دور اقتدار کے دوران سی بی آئی نے ممبئی میں خصوصی سی بی آئی عدالت میں امت شاہ کی رہائی کی درخواست کے جواب میں ایک بے حد ہی کمزور دلیل پیش کی۔ رہائی کی عرضی رنجیت سنہا کے ریٹائرمنٹ سے پہلے دائر کی گئی تھی۔یہاں تک کہ نئے سی بی آئی ڈائریکٹر کے آنے کے بعد بھی سی بی آئی امت شاہ پر لگے مجرمانہ معاملات پر بحث کو لیکر سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ الزام آج اروند کیجریوال نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لگائی ۔امت شاہ پر لگے الزامات میں عصمت دری اور جبری وصولی کے الزام بھی شامل ہیں۔ 15 دسمبر کو بھی تہرے قتل کے معاملہ میں امت شاہ کے وکیل کے تین دن کی زوردار دلیل کے جواب سی بی آئی کے وکیل نے صرف 15 منٹ کی جرح کی۔چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ سی بی آئی اب تک سہراب الدین۔تلسی رام معاملہ میں ایک خصوصی سرکاری وکیل بھی مقرر نہیں کر سکی ہے۔اس سال کے شروع میں سی بی آئی عدالت کی طرف سے امت شاہ کو دی گئی ۔
چھوٹ کی بھی سی بی آئی نے مخالفت نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ ایجنسی نے گجرات کے سابق اے ٹی ایس ڈی آئی جی ڈی جی ونجارا سمیت دیگر پولیس افسران کو دی گئی ضمانت کیخلاف بھی اپیل نہیں کی۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کو یہ اطلاع ملی ہے کہ رنجیت سنہا کے دور اقتدار کے دوران سی بی آئی نے ممبئی کی خصوصی عدالت کے سامنے گجرات کے سابق وزیر داخلہ و سہراب الدین اور تلسی رام پرجاپتی کے قتل کے اہم ملزم امت شاہ کے خلاف بہت ہی کمزور چارج شیٹ پیش کی ۔ جبکہ اسکے پہلے چارج شیٹ میں سی بی آئی نے تینوں متاثرین کو مارنے کی سازش میں امت شاہ کو اہم سازشی بتایا تھا۔ اپنے الزام میں سی بی آئی امت شاہ پر جبراً وصولی ریکٹ کا سرغنہ ہونے کا بھی الزام لگا چکی ہے۔سی بی آئی کے الزام خط کے مطابق سہراب الدین کا قتل، شاہ کی طرف سے چلائے جا رہے جبراً وصولی کے کاروبار کا ہی نتیجہ تھا۔ سی بی آئی اغوا اور سہراب الدین کو غیر قانونی ڈھنگ سے حراست میں رکھنے اور اس معاملہ کے اہم گواہ کوثر بی اور تلسی پرجاپتی کے قتل کا حکم دینے کا الزام بھی شاہ پر لگا چکی ہے۔ سی بی آئی نے پہلے یہ بھی کہا تھا کہ پرجاپتی کا قتل شاہ کے اشارے پر کیا گیا اور پورے معاملہ کو دبانے کیلئے پولیس افسران کے تبادلہ بھی کئے گئے۔ شاہ کے گرگے پرجاپتی کے قتل کی حقیقت اجاگر کرنے کی دھمکی دے رہے تھے۔
اس لئے حالات کو قابو میں رکھنے کیلئے محکمہ پولیس میں ردوبدل کیا گیا۔ سی بی آئی نے تفتیش کے ہر سطح پر اور ہر پلیٹ فارم پر اس بات پر زور دیا کہ پوری سازش امت شاہ کیساتھ شروع ہوئی اور شاہ کیساتھ ختم ہو گئی۔ یہاں تک کہ سی بی آئی نے امت شاہ پر تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے اور اہم ثبوت مٹانے کا بھی الزام لگایا۔ سی بی آئی نے امت شاہ پر مبینہ طور پر ایک اہم گواہ کے اغوا کا حکم دینے کا بھی الزام لگایا۔ سی بی آئی نے امت شاہ پر لگے الزامات کے معاملہ میں کئی عینی شاہدین جس میں سینئر گجرات پولیس افسران، تاجروں اور سہراب الدین گروہ کے ارکان کے نام بھی شامل ہیں، کے بیان بھی درج کئے۔
ان میں سے کچھ کے بیان عدالت میں قابل قبول بنانے کیلئے ایک عدالتی مجسٹریٹ کے سامنے بھی درج کئے گئے۔ ان سب کے علاوہ سی بی آئی نے شاہ کے سیل فون کے ریکارڈ بہ طور ثبوت بھی کئے۔کچھ مہینے پہلے شاہ نے سی بی آئی عدالت میں ایک 150 صفحہ لمبی درخواست دائر کی۔ اب یہی امید کی جا سکتی ہے کہ سی بی آئی اپنے پاس موجود ثبوتوں، گواہوں اور حاصل تمام ثبوتوں کی بنیاد پر شاہ کی درخواست کیخلاف زوردار بحث کرے گی۔پارٹی نے جاری بیان میں کہا ہے ’دسمبر کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں امت شاہ کے وکیل نے 3 دنوں میں امت شاہ کا موقف رکھتے ہوئے سی بی آئی عدالت سے اپیل کی کہ بغیر کسی ٹیسٹ کے شاہ کو رہا کر دیا جائے ۔جواب میں سی بی آئی کے وکیل نے صرف 15 منٹ کیلئے بحث کی۔ گواہوں کے بیان کا اعتماد اور سچائی کو صرف سی بی آئی کے دلائل کی بنیاد پر طے نہیں کیا جا سکتا ہے۔ گواہوں کو ٹرائل کورٹ کے سامنے گواہی کیلئے پیش کیا جانا چاہئے۔حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ سی بی آئی پہلے اپنے الزام میں امت شاہ کو ملزم بتا چکی ہے۔ جبکہ اب امت شاہ کو لیکر سی بی آئی کے الزامات میں سنجیدگی نظر نہیں آرہی ہے۔سی بی آئی کے دلائل صرف تکنیکی اور سطحی تھے۔ ایجنسی نے جس طرح سے آپریشن کیا اس سے اس کی آزادی کی خود مختاری پر سنگین سوال اٹھتے ہیں ۔ فی الحال حکومت اور سی بی آئی کے درمیان ایک مہلک سازش کا شبہ نظرآتا ہے ۔ ایجنسی میں مؤثر طریقہ سے ملزم پر مقدمہ چلانے کیلئے چاہت کی کمی نظر آرہی ہے ۔ ابھی تک ایک خاص سرکاری وکیل کی تقرری نہیں کی گئی ہے۔ خصوصی سی بی آئی عدالت نے شاہ کے معاملہ میں اپنے فیصلہ کو 30 دسمبر تک محفوظ رکھ لیا ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment