Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 11:55 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

آئینی پہلوؤں کے ساتھ سماجی سروکار کو بھی اولیت

 

نئی دہلی، 25دسمبر(یو این آئی) رحم کی درخواستوں کے نپٹارے میں ہونیوالی تاخیر کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے جیسے معاملات پر سپریم کورٹ کے آئینی فیصلوں کے ساتھ ساتھ سماجی سروکار کو اولیت دینے کے لئے بھی سال2014 کو یاد کیا جائے گا۔ انصاف کے اس عظیم مندر نے گزشتہ سال جہاں رحم کی اپیلوں کے نپٹارے میں تاخیر کو بنیاد بناکر پھانسی کی سزا کو عمر قیدمیں بدلنے کا تاریخی فیصلہ سنایا، وہیں پھانسی کی سزا پانے والے مجرمین کی نظرثانی کی درخواستوں کے نپٹارے کے معاملے میں شفافیت لانیکی سمت میں بھی پیش قدمی کی۔ سماجی معاملات کی سماعت کے لئے خصوصی بنچ تشکیل کرکے خصوصی پیش رفت کی گئی جب کہ کالے دھن کیسلسلے میں بھی اس نے سخت رویہ اپنایا۔عدالت عظمی نے نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کھلی عدالت میں کم از کم تین رکنی بنچ کے سامنے کرنے اور عرضی گذاروں کو اپنے وکیل کے ذریعہ اپنی بات پیش کرنے کے لئے کم ازکم نصف گھنٹہ دینے کا فیصلہ سناکر انصاف سے مبینہ طور پر محروم رہ جانے والے مجرموں کو ایک اور موقع فراہم کیا۔اسی فیصلہ کا فائدہ نوئیڈا کیبدنام زمانہ نٹھاری کیس کے قصوروار سریندر کولی کو بھی ملا اور پھانسی سے چند گھنٹہ قبل اس کی پھانسی موخر کردی گئی۔ یہ دوسری بات ہے کہ کچھ دنوں بعد کھلی عدالت میں سماعت کے بعد اس کی نظرثانی کی درخواست خارج کردی گئی اور اس کو پھانسی پر لٹکائے جانے کا راستہ صاف ہوگیا۔ ممبئی میں 1993 کے بم دھماکوں کے قصوروار یعقوب رزاق میمن سمیت چند دیگر مجرموں کو بھی پھانسی کی سزا کے خلاف اپنی بات کہنے کا موقع ملا ہے۔عدالت نے سال کیشروع میں ہی تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے رحم کی درخواستوں میں تاخیر کی بنیاد پر 15مجرموں کی پھانسی کی سزا کوعمر قید میں تبدیل کردیا ۔ان میں صندل اسمگلرویرپن کے چار ساتھی بھی شامل ہیں۔ اسی حکم کو نظیر بناکر سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قاتلوں نے بھی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔رحم کی درخواستوں میں تاخیر کے علاوہ دماغی طور پر بیمار افراد کو بھی پھانسی کی سزا کم کرنے کی پختہ بنیاد بتایاگیا۔اس کی بناپر دہلی بم دھماکوں کے قصوروار دیویندر سنگھ بھلر کی پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل کردی گئی۔عدالت عظمی نے سماجی سروکاروں کے نکتہ نظر سے اہم مسائل پر تاریخی فیصلہ سنایا۔ ایک زمانہ سے سماج سے الگ تھلگ رہنے والے ہجڑوں کو تھرڈ جینڈر(تیسری جنس) کے زمرہ میں رکھنے اور تعلیم و روزگار کے شعبہ میں ان کے لئے ریزرویشن کا نظم کرنے کا حکومت کو حکم دیا۔ آئینی نکات سے پرے عدالت کے سماجی سروکاروں کا ایک چہرہ اس وقت بھی سامنے آیا جب چیف جسٹس ایچ ایل دتو نے رواں ماہ سماجی معاملات کے نپٹارے کے لئے ایک علاحدہ سماجی انصاف بنچ قائم کی۔مجیٹھیا اجرت بورڈ کی تشکیل کے خلاف کارپوریٹ اخبارات گھرانوں اور نیوز ایجنسیوں کی اپیل مسترد کرکے عدالت عظمی نے ایک اور مثال پیش کی ۔آدھی سزا کاٹنے والے زیر سماعت قیدیوں کو رہائی کا حکم اسی سلسلہ کی ایک کڑی کہا جاسکتا ہے۔عدالت نے تمام ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ ان زیر سماعت قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا انتظام کریں جو متعلقہ کیس میں زیادہ سے زیادہ سزاکاآدھا حصہ کاٹ چکے ہیں۔ نوکرشاہوں کے خلاف انکوائری کے لئے مرکزی تفتیشی ایجنسی(سی بی آئی) کو حکومت کی اجازت نہ(نہ) لینے کا اس سال کا تاریخی فیصلہ انسداد بدعنوانی کی سمت میں سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ عدالت نے دلی اسپیشل پولیس اسٹبلشمنٹ ایکٹ کی دفعہ 6(اے) میں درج تجاویز کو آئینی قرار دیا۔ ٹو جی اسپیکٹرم نیلامی گھپلہ کیس کی انکوائری سے سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رنجیت سنہا کو ہٹاکر عدالت نے جہاں عام آدمی کا اعتماد جیتا، وہیں نوکرشاہوں اور بدعنوان افسروں کو سخت پیغامات بھی دیئے۔ہزاروں کروڑ روپے کے شاردا چٹ فنڈ گھپلے نیز دیگر 44 سرمایہ بچت اسکیموں کی سی بی آئی تفتیش اور سیکورٹی اینڈ ایکس چینج بورڈ آف انڈیا(سیبی) کے ساتھ ہونے والے تنازعات میں سہارا سربراہ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کا فیصلہ ایک ایک روپے جمع کرکے بچت کرنے والے لوگوں میں اعتماد پیداکرسکتاہے۔نیشنل ہیرالڈ کیس میں دہلی ہائی کورٹ کا کانگریس صدر سونیا اور نائب صدر راہل گاندھی کو طلب کئے جانے کا حکم بھی اس سال کی سہ سرخیوں میں رہا۔ این ایل مشرا قتل کیس کے گناہ گاروں کو تاعمر قید کی سزا، کوئلہ گھپلہ کیس میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سے پوچھ گچھ کئے جانے کا حکم، ایئر سیل۔میکسس معاہدہ میں سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم سے سی بی آئی کی پوچھ گچھ،ڈاکو سے سیاست کی دنیا میں قدم رکھنے والی پھولن دیوی کے قاتل شیرسنگھ رانا کو سزائے عمر قید اوررنویر مڈبھیڑ کیس کا فیصلہ رواں سال کی مختلف عدالتوں کے اہم فیصلوں میں شامل ہوئے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment