Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 09:07 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

دہلی اسمبلی انتخابات

 

بابرپور اسمبلی حلقہ سے ذاکر خان کی دعویداری پر لٹکی تلوار!
گذشتہ الیکشن میں مضبوطی کیساتھ الیکشن نہ لڑپانے کا الزام پڑسکتاہے بھاری* نیا چہرہ اتارنے کیلئے پارٹی میں غوروخوض *مسلم نمائندگی میں اضافہ کیلئے پارٹی میں رسہ کشی جاری
نثاراحمدخان
نئی دہلی،25دسمبر (ایس ٹی بیورو)کانگریس دہلی اسمبلی انتخابات کیلئے امیدواروں کی فہرست تیار کرنے میں مصروف ہے۔ پارٹی اسکریننگ کمیٹی کی میٹنگ میں پہلی فہرست تقریباً تیار ہوچکی ہے اور اسے پارٹی سربراہ سونیاگاندھی کے پاس بھیج دیاگیاہے۔ اس فہرست میں پارٹی کے سبھی 8موجودہ ممبران اسمبلی اور گذشتہ الیکشن میں دوسرے نمبرپررہنے والے اور 25ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرنے والے امیدواروں کو شامل کیاگیا ہے۔مگر شمال مشرقی ضلع کے مسلم اکثریتی حلقہ بابر پور کیلئے پارٹی لیڈران تذبذب کا شکار ہیں اور اس سیٹ کیلئے امیدوار کانام طے کرپانے پر کافی غوروخوض کرناپڑ رہا ہے۔ پارٹی کے اسکریننگ کمیٹی میں شامل کچھ سینئر لیڈران کی خواہش ہے کہ بابر پور سے مسلم امیدوار اتارا جائے، وہیں ایک طبقہ غیرمسلم امیدوار کی بھی وکالت کررہا ہے۔ غیرمسلم امیدوار اتارنے کی وکالت کرنے والے لیڈران کا دعویٰ ہے کہ جب کانگریس مسلم امیدوار اتارتی ہے تو بی جے پی وہاں ہندو-مسلم کارڈ کھیل کر سیٹ حاصل کرلیتی ہے۔ مسلم ووٹوں کے ساتھ پریشانی یہ ہے کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہوپاتے ہیں اور انتشار کا معاملہ دیکھنے کو ملتاہے اور مسلم امیدوار غیر مسلم ووٹ حاصل کرنے میں بھی ناکام ہوجاتاہے۔ اس لئے ایسا غیر مسلم امیدوار اتارا جائے جو مسلمانوں میں بھی اچھی پکڑرکھتاہو اور سیکولر شبیہ کا ہو، مگر بدقسمتی یہ ہے کہ پارٹی کے پاس ایسا کوئی چہرہ نہیں ہے جو ہندو اور مسلمانوں دونوں میں مقبول ہو۔ وہیں پارٹی کے سینئرلیڈران کاکہناہے کہ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں جب کانگریس کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اس وقت دہلی کے مسلمانوں نے کانگریس کا ساتھ دیاتھا اورجیت حاصل کرنے والی تقریباً آٹھوں سیٹوں پر مسلمانوں نے کانگریس کومکمل حمایت دی تھی، جس کی بناء پر ہی 8سیٹوں پر کامیابی مل سکی تھی۔ پارٹی میں ایک طبقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرمسلمانوں کو پارٹی سے جوڑ کررکھناہے تو اس بار مسلم نمائندگی میں اضافہ ہونا چاہئے اور اس ریاستی سطح کے سینئرلیڈران نے اعتراف بھی کیاہے۔ایسے حالات میں مطالبہ کیاجارہا ہے کہ کم ازکم 10مسلم امیدوار اتارا جائے اور اطلاع کے مطابق پارٹی اس پر سنجیدگی سے غور بھی کررہی ہے۔ بابر پور اسمبلی حلقہ کیلئے ٹکٹ کے دعویداروں کا کہناہے کہ جب بھی مسلم امیدواروں کوٹکٹ دیاگیا ہے، بی جے پی کو جیت ملی ہے۔ گذشتہ اسمبلی الیکشن میں کانگریس نے جنتاکالونی کے کونسلر ذاکر خان کوامیدوار بنایاتھا، مگروہ جیت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ ذاکرخان کو 29673ووٹ ملے تھے اور بی جے پی کے نریش گوڑ نے انہیں 4507ووٹوں سے شکست دی تھی جبکہ عام آدمی پارٹی کے امیدوارگوپال رائے نے تیسرے نمبر پر رہتے ہوئے25723ووٹ حاصل کئے تھے۔ ذاکر خان پر یہ بھی الزام ہے کہ گذشتہ الیکشن میں وہ مضبوطی سے حصہ نہیں لے سکے تھے، جس کی وجہ سے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ پیس پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑکر فرقان قریشی نے بھی مسلمانوں 10017ووٹ کاٹے تھے، جس کا بھی نقصان ہواتھا۔ کانگریس سے مسلم دعویداروں میں جہاں ذاکر خان نے مضبوط دعویداری پیش کی ہے، وہیں 2009 کے لوک سبھا الیکشن میں کانگریس کیلئے قربانی دے چکے حاجی دلشاد اور پیس پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں آئے فرقان قریشی اور پارٹی کے اقلیتی لیڈر محمدعالم بھی ٹکٹ کے خواہاں ہیں۔ اس کے علاوہ سابق ممبرپارلیمنٹ وسابق ریاستی صدر جے پرکاش اگروال اپنے بیٹے مودت اگروال کیلئے بھی ٹکٹ چاہتے ہیں۔ یہ بھی کہاجارہا ہے کہ گذشتہ الیکشن میں بابر پور سے مسلم امیدوار اتارنے کی پیروی کی تھی، مگر ذاکر خان کوجیت کی دہلیزتک نہ پہنچنے دینے کاالزام ہے۔وہیں سابق ایم ایل اے ونے شرما بھی ٹکٹ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں سماجوادی پارٹی سے ناطہ توڑ کر کانگریس میںآئے سنیل وششٹھ اور کیلاش جین نے بھی دعویداری پیش کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کیلئے کسی مسلم امیدوار کو ہی ٹکٹ دیتی ہے یا پھرمناسب مسلم نمائندگی دینے کا دعویٰ کرنے والی کانگریس غیر مسلم امیدوار اتارتی ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment