Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 12:53 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

جھارکھنڈمیں رگھورداس کو مل سکتی ہے بی جے پی کی کمان

 

اے پی وی پی سے وابستہ رہے داس کو وزیراعظم اور پارٹی چیف امت شاہ کا قریبی بتایا جا تاہے ، کچھ مرکزی وزراء بھی دوڑ میں شامل
رانچی،24دسمبر( ایجنسیاں ) جھارکھنڈ میں بی جے پی کی جیت کا جشن جاری ہے۔ مرکزی قیادت طے کرنے میں جٹی ہے کہ کسے سی ایم کی کمان سونپی جائے۔ پارٹی نے باضابطہ طور پر سی ایم کا اعلان نہیں کیا ہے۔ بی جے پی پارلیمانی بورڈ جھارکھنڈ میں سی ایم کے نام پر آخری مہر لگائے گا۔ جھارکھنڈ سے بی جے پی ممبران اسمبلی کا دہلی آنا شروع ہو گیا ہے۔ اسے سی ایم امیدوار کیلئے لابنگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بی جے پی کے قومی نائب صدر اور جمشید پور ایسٹ سے پانچ بار رکن اسمبلی رہے رگھور داس کو جھارکھنڈ سی ایم کی ریس میں سب سے آگے سمجھا جا رہا ہے۔ داس نے اس بار بھی جمشید پور ایسٹ سے 70 ہزار ووٹوں سے جیت درج کی ہے۔ اس ریس میں داس کیلئے ارجن منڈا بڑے حریف تھے لیکن وہ انتخاب ہار چکے ہیں۔ ایسے میں رگھورداس کیلئے راہ اور آسان ہو گئی ہے۔ ارجن منڈا اپنے روایتی نشست کھرساواں سے انتخاب جیتنے میں ناکام رہے۔رگھور داس قبائلی نہیں ہونا انکے خلاف جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تقریبا چیزیں ان کے حق میں ہیں، لیکن ادھر بی جے پی کی مرکزی قیادت سی ایم منتخب کرنے کے معاملے میں اپنے فیصلوں سے چونکا سکتی ہے ۔ مراٹھا اکثریتی مہاراشٹر میں بی جے پی نے برہمن ذات کے دیویندر پھڑنوس کو کمان سونپی تو لوگ حیران رہ گئے۔ اسی طرح جاٹ تسلط والے ہریانہ میں بی جے پی نے غیرجاٹ منوہر لال کھٹر کو سی ایم کی کرسی سونپ دی۔ جھارکھنڈ بننے کے بعد سے اب تک وہاں کے وزیر اعلی قبائلی کمیونٹی کے لوگ ہی ہیں۔ امکان کم ہی ہے کہ بی جے پی اس روایت کو جاری رکھے گی۔جھارکھنڈ کی کل آبادی میں تقریبا 26 فیصد قبائلی ہیں۔ 81 سیٹوں والی اسمبلی میں 28 نشستیں قبائلیوں کیلئے ریزرو ہیں۔ ان ریزرو سیٹوں میں 11 پر بی جے پی کو کامیابی ملی ہے۔ بی جے پی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار عوام کی حمایت بائلی سی ایم کیلئے پارٹی کو نہیں ملی ہے۔اصل میں بی جے پی نے شہری علاقوں میں شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ قبائلی اکثریت والے علاقوں میں بی جے پی کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ وہیں دیہی علاقوں میں پارٹی کی کارکردگی ملی جلی رہی ہے۔ منگل رات رگھوار داس نے کہا تھا کہ پارلیمانی بورڈ اور وزیر اعظم نریندر مودی وزیر اعلیٰ کا نام طے کریں گے۔ وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں مرکزی وزیر سدرشن بھگت، یشونت سنہا کے بیٹے جینت سنہا، جمشید پور ویسٹ سے رکن اسمبلی سریو رائے، رانچی سے رکن اسمبلی اور جھارکھنڈ اسمبلی کے سابق اسپیکر سی پی سنگھ اور گملا سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے شیو شنکر اوراؤں بھی ہیں، لیکن ان سب میں رگھوار داس سب سے آگے ہیں۔ سریو رائے نے کہا کہ ہم اپنے مبصرین کا انتظار کر رہے ہیں۔ رائے نے کہا کہ مبصر ہی وزیر اعلیٰ کے نام پر آخری مہر لگائیں گے۔ سنہا نے دہلی میں کہا کہ بی جے پی کی ذمہ داری جھارکھنڈ کی ترقی ہے۔ داس کے حق میں ان کا اے بی وی پی بیک گراؤنڈ بھی کام آ سکتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی داس کی اچھی بنتی ہے۔ بی جے پی چیف امت شاہ بھی داس کو پسند کرتے ہیں۔ رگھور داس او بی سی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بی جے پی کی سیاست کیمناسب بیٹھتا ہے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment