Today: Thursday, September, 20, 2018 Last Update: 01:49 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

الیکشن میں کانگریس کا سیدھا مقابلہ آرایس ایس سے ہوگا: اروندر سنگھ لولی

 

خوف کے سایے میں جی رہا ہے مسلمان: حسن احمد*آرایس ایس کی سیاسی آلۂ کار ہے عام آدمی پارٹی: ہارون یوسف*بی جے پی کی بی ٹیم ہے ’آپ‘:متین احمد* آرایس ایس کو روکنے کیلئے کانگریس کی مضبوطی ضروری: آصف محمدخان* فرقہ پرستوں کو شکست دینے کی طاقت صرف کانگریس میں: شعیب اقبال* دہلی میں مسلم امیدواروں کی تعداد میں ہوسکتاہے اضافہ
نثار احمد خان
نئی دہلی، 24دسمبر (ایس ٹی بیورو)آرایس ایس اور بی جے پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد ملک کی صورتحال خراب ہوگئی ہے اور فرقہ وارانہ ماحول پیدا کردیا گیاہے۔آرایس ایس نواز بی جے پی لیڈران کی شرانگیزی سے کسی کوبھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ملک کے سیکولرازم کے تحفظ کی ذمہ داری ہم سب کو مل کرنبھانی ہوگی۔دہلی اسمبلی انتخابات میں کانگریس کا سیدھامقابلہ آرایس ایس سے ہوگا کیونکہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں آرایس ایس کی پیدا وار ہیں۔ ان خیالات کااظہار اردو میڈیا سے ایک خصوصی ملاقات میں کانگریس کے ریاستی صدر اروندر سنگھ لولی نے کی۔ اس موقع پردہلی کے پانچوں مسلم ممبران اسمبلی حسن احمد، ہارون یوسف، چودھری متین احمد، شعیب اقبال اور آصف محمدخان بھی موجود تھے۔اروندر سنگھ لولی نے کہاکہ دہلی الیکشن میں کانگریس پوری طرح تیار ہے اور کانگریس عوام کے درمیان جاکربی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو بے نقاب کررہی ہے اور آنے والے دنوں میں اس مہم کو تیز کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے لیڈران زہر افشانی کرکے فرقہ پرستی کو ہوادے کر اور عام آدمی پارٹی سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ آرایس ایس کو اقتدار میں لانا چاہتی ہیں جبکہ کانگریس سبھی مذاہب کو ایک ساتھ لے کرچلنے، ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور سیکولرازم کوکو برقرار رکھنے کیلئے کام کرتی رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ترلوک پوری فساد میں عام آدمی پارٹی کا کیارول ہے یہ ہم سب جانتے ہیں، اور ’آپ‘ نے بھی خود اپنے ممبراسمبلی کی منفی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے ٹکٹ نہ دینے کی بات کہی تھی، مگر اس بار بھی اسے امیدوار بنا یا گیاہے جو آرایس ایس نوازی اور مسلم مخالف کی بدترین مثال ہے۔ مسٹرلولی نے ترلوک پوری، بوانہ، نورالٰہی اور مدن پور کھادر میں وغیرہ میں پیدا ہوئے فرقہ وارانہ ماحول کا ذکرکیا اور کانگریس کے دوراقتدار کی یاددلاتے ہوئے کہاکہ 15برسوں میں دہلی میں کہیں بھی خوف کی صورتحال دیکھنے کو نہیں ملتی۔ چنانچہ دہلی میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کیلئے بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں ذمہ دارہیں۔ اروندر سنگھ لولی نے ایک سوال کے جواب میں کانگریس کی نیت ہمیشہ درست رہی ہے، تاہم اگرکوئی کمی رہ گئی ہے تو اسے ہم سب مل کر ضرور دور کریں گے۔مسلم نمائندگی سے متعلق سوال کے جواب میں لولی نے کہا کہ مسلم نمائندگی کم کرنے سے متعلق کانگریس نہیں سوچ رہی ہے بلکہ اگر کسی بھی اسمبلی حلقہ میں ہمیں کوئی جیتنے والا مسلم امیدوار نظرآئے گا تو اس کو ٹکٹ دیاجائے گا اور اس طرح سے اس کی نمائندگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا بھی عزم کیاکہ کانگریس مسلمانوں کو ہرگزنظرانداز کرے گی کیونکہ مسلمان بھی کانگریس میں برابر کے شریک ہیں۔
کانگریس کے سینئرلیڈر اور سینٹرل حج کمیٹی کے سابق وائس چیئرمین حسن احمدنے کہاکہ عام انتخابات میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم کافائدہ بی جے پی کو ہوا اور وہی آج نفرت کابیج بو ر ہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا مسلمانوں خوف کے سایے میں جی رہاہے اور آرایس ایس اپنی زہرافشانی کے ذریعہ ملک کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سبھی مسلم اسمبلی حلقوں میں عام آدمی پارٹی سیکولرووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ بی جے پی کوفائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔ عام آدمی پارٹی سے نکلنے والا ہرلیڈر بی جے پی کا بھگوارنگ پہنتا ہے اوروہی اس کانظریہ بھی ہے۔ حسن احمدنے کہا کہ لوک سبھا الیکشن میں سیکولررائے دہندگان کے درمیان آرایس ایس کے لوگوں نے ٹوپی پہن کر عام آدمی پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی تاکہ بی جے پی کو اس کا فائدہ ہو۔ مسٹراحمد نے یہ بھی کہاکہ ہم جیت اور ہارکی بات تو بعد میں کریں گے، مگر ابھی فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کیلئے سبھی سیکولرلوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔ انہوں نے بھی عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کو ایک سکّے کا دو پہلو قرار دیتے ہوئے کانگریس کو سیکولرازم کا تحفظ کرنے والی پارٹی قرار دیا۔
سی ایل پی لیڈر وسابق ریاستی وزیر ہارون یوسف نے کہاکہ آرایس ایس نے ایک منصوبہ بند طریقے سے عام آدمی پارٹی کومیدان میں اتار کر بی جے پی کوفائدہ پہنچایاہے اور آگے بھی اس کی یہ حکمت عملی جاری رہے گی، مگر اسے شکست دینے کیلئے بھی ہم سب کو منصوبہ تیار کرنا ہوگا۔ بلیماران اسمبلی حلقہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ہارون یوسف نے کہاکہ مسلم لیڈر شپ کو ختم کرنے کیلئے آرایس ایس نے ایک ماڈل تیار کیاتھااور ہراسمبلی الیکشن میں 10-12مسلم امیدوار اتار دیتی ہے تاکہ مسلم ووٹوں کی تقسیم ہو اور بی جے پی کو اس کافائدہ ملے، مگر بلیماران کے لوگوں نے ہمیشہ دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کو چاروں خانے چت کیاہے، جس کیلئے میں ان کا شکرگذاربھی ہوں اور یہ ان کی ذہانت کی بھی ثبوت ہے۔ عام آدمی پارٹی کے اعلان شدہ امیدوار عمران حسین کے تعلق سے ہارون یوسف نے کہاکہ گذشتہ دو برسوں میں 4پارٹیوں کا جھنڈا اٹھا چکے ہیں اور اب آرایس ایس کی پیداشدہ پارٹی کی گود میں بیٹھ کر مسلم ووٹوں کی تقسیم کیلئے ایک بار پھر میدان میں ہیں۔
سیلم پور اسمبلی حلقہ سے مستقل کامیابی حاصل کرنے والے چودھری متین احمدنے کہاکہ ملک کے سیکولر لوگ اب فرقہ پرستی سے تنگ آگئے ہیں اور آنے والے اسمبلی الیکشن میں اپنے ووٹوں کے ذریعہ جواب بھی دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ دہلی میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کیلئے بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں ذمہ دار ہیں۔چودھری متین احمدنے کہاکہ عام آدمی پارٹی کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینا چاہئے کیونکہ عام آدمی پارٹی فرقہ پرستوں کے مفاد کیلئے کام کررہی ہے۔انہوں نے عام آدمی پارٹی کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا۔ اوکھلا کے ممبراسمبلی آصف محمدخان نے کہاکہ آرایس ایس کو روکنے کیلئے کانگریس کو مضبوط کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اوکھلا اسمبلی حلقہ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہاکہ میرا سیدھامقابلہ بی جے پی سے ہوگا اور ہمیں امید ہے کہ میرے حلقے کے لوگ اس بار بھی دانشمندی کامظاہرہ کریں گے۔ مٹیامحل سے مسلسل کامیابی حاصل کرنے والے اور حال ہی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے شعیب اقبال نے کہاکہ سیکولرازم کو بچانے کی طاقت اور فرقہ پرستوں کو شکست دینے کی صلاحیت صرف کانگریس میں ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment