Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 11:38 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سرحد پار حملہ سے بھارتی اسکولوں میں دہشت

 

حملہ کے بعد سے نہیں سو سکی 6سالہ طالبہ ، مجھے اپنی ٹیچر کیلئے زیادہ ڈر لگ رہا ہے ارنو، اسکول جانے سے ڈر رہے ہیں بچہ
نئی دہلی ،20دسمبر(ایس ٹی بیورو) پاکستان کے پشاور میں آرمی اسکول پر ہوئے دہشت گردانہ حملہ سے صرف سرحد پار کے ہی نہیں ہندوستان کے بچوں کے دلوں میں بھی خوف بیٹھ گیا ہے۔ دارالحکومت دہلی کے ایک پاش اسکول کی دوسری کلاس میں پڑھنے والی طالبہ نے جب اس حملہ کے بارے میں سنا تو رات کو سونے سے پہلے اپنی ماں رچا شرما سے پوچھا، ’ممی ہمارے اسکول میں تو بنچ بھی نہیں ہیں، صرف کرسی ہیں۔ ہم کہاں چھپیں گے؟‘سیاسی تقدیر سے بات چیت میں ایک انگریزی اخبار کے نامہ نگار نے بتایا کہ جب میں اس اسٹوری کو کررہی تھی تو میری آنکھیں بہہ پڑیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بچہ کے جواب نے مجھے دہلا دیا۔ اس اسٹوری کو کرتے وقت میری ہمت جواب دے رہی تھی ، کیونکہ ایک بچہ نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مجھے مار دیں گے تو چلے لگا ، لیکن میری ٹیچر بہت پیاری ہیں ۔ وہ بہت اچھا پڑھاتی ہیں ۔ ہم سے وہ بہت پیار کرتی ہیں ۔ ان کو کیسے بچایا جائے۔ اس کا انتظام ہمیں کرنا ہوگا ۔
دراصل، چھ سال کی اس طالبہ نے پہلے پاکستان میں مارے گئے 132 بچوں کے بارے میں سنا تھا اور بعد میں ٹی وی نیوز میں دیکھا کہ حملہ کے دوران بچے بنچ کے نیچے چھپ رہے تھے۔ طالبان دہشت گردوں کے حملہ کی یہی تصویر بچی کے دماغ میں بیٹھ گئی تھی۔ تبھی سے طالبہ کو رات میں نیند نہ آنے کی پریشانی ہو رہی ہے۔ اس سے اس کے گھر والے بھی پریشان ہیں۔اسی حملہ کے بعد سے ہر رات سوتے وقت اپنی ماں سے وہ کئی طرح کے سوال کر رہی ہے۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ پشاور اسکول سے کتنی دوری پر ہے؟ یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ کیا حملہ کرنے والے تمام ’گندے لوگ‘ مارے گئے ہیں؟ اس حملہ کے بعد سے ہی دنیا بھر کے والدین کے دل میں ایک خوف کا سما ں بندھ گیا گیا ہے۔ خود اس حملہ کے بعد سے ڈری ہوئیں رچا شرما اپنی بچی کا ڈر دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
دہلی میں ہی رہنے والے چھ سال کے ارنو سوامی پر اس سے بھی برا اثر پڑا ہے۔ پشاور حملہ کی خبر سننے کے بعد سے اس نے اسکول جانے سے ہی انکار کر دیا۔ ارنو دہلی پبلک اسکول میں پڑھتا ہے۔ ارنو اسکول جانے کیلئے تبھی تیار ہوا جب ممی بھی اسکے ساتھ اسکول گئیں اور چھٹی تک وہیں رکی رہیں۔ ارنو کا کہنا ہے، ’مجھے اپنی ٹیچر کیلئے زیادہ ڈر لگ رہا ہے۔ وہ انہیں بھی مار دیں گے۔ میری ٹیچر بہت اچھی ہیں‘۔پشاور میں تحریک طالبان پاکستان کے حملہ میں 132 بچوں کیساتھ ہی 9 ٹیچر کو بھی دہشت گردوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس میں ایک لیڈی ٹیچر کو تو دہشت گردوں نے کلاس کے سامنے ہی زندہ جلا دیا تھا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment