Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 08:57 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

جھگی جھوپڑیوں میں رہنے والے بچے بھی ہونگے علم سے آراستہ

 

سماجی تنظیم الحسن میموریل ٹرسٹ نے غریب بچوں کی مفت تعلیم کا اٹھا یا بیڑہ

مرادآباد، 19دسمبر(ایس ٹی بیورو) مرکزی و صوبائی حکومتوں کے ذریعہ تعلیم کو عام کئے جانے کے کئی منصوبوں کے باوجود ملک کا ایک بڑا طبقہ تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے اور جس کی وجہ سے وہ جہالت کی کھائی میں غرق رہنے کو مجبور ہیں مرادآباد میں بھی ایسی کئی بستیاں ہیں جہاں بچوں کو تعلیم حاصل نہیں ہوتی اور وہ جرائم کی طرف راغب ہوجاتے ہیں ایسے میں سماج کے ان ذمہ دار لوگوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے جن کو قسمت سے تعلیم حاصل ہوئی ہے اور ان کے اقتصادی معاملات بھی بہتر ہیں مگر ایسی سوچ رکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے ۔ان غریب بستیوں میں رہنے والے بچوں کو مفت تعلیم دینے کے لئے سماجی تنظیم الحسن میموٹرسٹ نے ایک مہم شروع کی ہے جس کے ذریعہ جھگی جھوپڑیوں میں بسنے والے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے تاکہ وہ بھی سماج کے اچھے انسان بن سکیں اور ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹا سکیں الحسن میموریل ٹرسٹ نے اس مہم کے تحت کرولہ واقع جھگیوں میں مفت کتابیں تقسیم کیں اور یہ کوشش شروع کی کہ ان غریب بستیوں میں رہنے والے بچے تعلیم سے آراستہ ہوں۔ الحسن ممیوریل ٹرسٹ کے ذریعہ چلائی گئی اس مہم کا سراہتے ہوئے مدراسیوں کی جھگیوں میں رہ رہے 49سالہ منی کھنڈ نے کہا کہ الحسن میموریل ٹرسٹ نے جھگیوں جھونپڑیوں میں رہنے والے بچوں کو مفت تعلیم دئیے جانے کا جو بیڑا اٹھایا ہے وہ قابل تعریف ہے انھوں نے بتایا کہ میں نے خود پوری زندگی کچرا بین کر کاٹی مگر اپنے بچوں کو تعلیم سے آراستہ کیا جس کی وجہ سے آج میرے بچے سماج کی اس آبادی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو تعلیم حاصل کر کے ترقی کی راہ پر ان کا کہنا ہے کہ میری یہ خواہش ہے کہ ہماری جھگیوں میں رہنے والے اور بھی بچے تعلیم حاصل کر کے ترقی کی راہ پر چل سکیں ٹرسٹ کے صدر ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ سینکڑوں منصوبے تیار کئے گئے ہیں جس کے تحت غریب بچوں کو تعلیم سے آراستہ کیا جائے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری ایسی تنظیمیں جن کو یہ کام سونپے گئے انھوں نے کبھی ان جھگیوں اور غریب بستیوں کی طرف نظر تک اٹھاکر نہیں دیکھا ان کا کہنا ہے کہ کچرا بین کر اپنے گھروں بھلا کرنے والی ان جھگیوں میں بڑی تعداد اقلیتی طبقہ کی ہے اور ان سے کچرا بنواکر اپنی جیبیں بھرنے کا کام کرنے والے لوگوں میں بھی بڑی تعداد اقلیتی طبقہ کی ہی ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان بچوں سے کچرا مزدوری کرانے والے ٹھیکیدار یہ نہیں چاہتے کہ یہ تعلیم حاصل کر سکیں کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ یہ تعلیم یافتہ ہو جائیں گے تو ان کے لئے کچرا کون بینے گا مگر الحسن میموریل ٹرسٹ نے یہ مہم انھیں جھگیوں سے چلائی ہے جہاں کے بچے کچرا بیننے کے کام میں بچپن سے ہی لگ جاتے ہیں اور تعلیم سے دور رہتے ہیں انھوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ تعلیم سے آراستہ نہ ہونے کی وجہ سے انھیں میں سے کچھ بچے جرائم کی طرف دوڑتے ہیں جوکہ سماج کو زہریلا بنانے کا کام کرتے ہیں ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ بنگالی جھگیوں میں رہنے والے بچوں کے ساتھ ساتھ وہاں کی خواتین اور جوان مرد و بوڑھوں کوبھی ہم نے مفت تعلیم دئیے جانے کا بیڑا اٹھایا ہے تاکہ یہ لوگ پڑھ لکھ کر اپنے بچوں کو بھی تعلیم سے آراستہ کریں ہماری تنظیم نے ایسے لوگوں کو کتابیں اور دیگر سامان مہیا کرایا ہے تاکہ وہ تعلیم حاصل کر سکیں انھوں نے بتایا کہ اس مہم میں مزید تیزی لانے کے لئے ہم نے مرادآباد ضلع کلکٹر دیپک اگروال سے بھی ملاقات کی جس پر انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ سرکاری سطح پر جو منصوبے ان پڑھ بچوں کو تعلیم دلائے جانے کے لئے چلائے جا رہے ہیں ان کو ان آبادیوں میں بھی لاگو کیا جائے گا۔ شہر امام حکیم سید معصوم علی آزاد نے بھی کہا ہے کہ وہ ہماری مہم میں ہمارے ساتھ ہیں ان کا بھی ماننا ہے کہ ملک میں رہنے والے ہر طبقے کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اگر یہ بچے تعلیم یافتہ ہوں گے تو ملک بھی ترقی کرے گا ۔

...


Advertisment

Advertisment