Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 02:26 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

خواتین کی سیکورٹی کیلئے اقدامات کا مطالبہ

 

نربھیاکی دوسری برسی کے موقع پر لوک سبھا میں آج خواتین کے تحفظ کے تئیں شدید تشویش کا اظہار

نئی دہلی، 16دسمبر(یو این آئی) نربھیاعصمت دری کیس کی دوسری برسی کے موقع پر لوک سبھا میں آج خواتین کے تحفظ کے تئیں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں حکومت سے ضروری اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی۔بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) کی رکن کرن کھیر نے وقفہ صفر کے دوران یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ نربھیا سانحہ کی دوسری برسی کے موقع پر یہ خیال آتا ہے کہ نربھیا اور اس کا دوست زخمی حالت میں کئی گھنٹے تک سڑک کے کنارے پڑے رہے لیکن وہاں سے گزرنے والے لوگوں نے قانونی عمل کے خوف سے ان کی کوئی مدد نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑی تعداد میں ہونے والے سڑک حادثات کے معاملوں میں بھی لوگ زخمیوں کو اسپتال لے جانے سے اس لئے گھبراتے ہیں کہ وہ قانونی داؤ پیچ میں پھنس جائیں گیاور اسپتالوں میں بھی انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔محترمہ کھیر نے حکومت سے ایسا قانون بنانے کی اپیل کی کہ زخمیوں کی مدد کرنے والے لوگوں کو اس طرح کی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اور زخمیوں کا اسپتالوں میں فوری طور پر علاج ہوسکے۔ اس پر ایوان کے لیڈر اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ رکن کو پہلے حقائق کی جانچ کرنی چاہئے۔ انہوں نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اصل میں رکن جو کہہ رہے ہیں وہ استحقاق خلاف ورزی ہے ۔ اس پر اپوزیشن کے ارکان نے شور شرابہ شروع کر دیا ۔ مسٹر جیٹلی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایوان میں افراتفری چاہتے ہیں اور بحث نہیں چاہتے۔ جو ہو رہا ہے وہ افراتفری ہے۔ اپوزیشن ارکان نے اس کی سخت مخالفت کی اور ہنگامے کے سبب ڈپٹی چیرمین نے ایوان کی کارروائی ڈھائی بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔التوا کے بعد جب دوبارہ کارروائی شروع ہوئی تو مسٹر برائن نے بدنظمی لفظ کو کارروائی سے حذف کرنے کی مانگ کی ۔ مسٹر کورین نے کہا کہ وہ اس معاملے پر غور کریں گے اور نامناسب پائے جانے پر اس لفظ کو کارروائی سے حذف کر دیں گے۔اس کے بعد جب ایوان میں اپوزیشن کے نائب رہنما آنند شرما نے اپنی بات رکھنی چاہی تو حزب اقتدار کے ارکان نے یہ کہتے ہوئے شور کرنا شروع کر دیا کہ اپوزیشن ارکان نے ایوان کے لیڈر کو نہیں بولنے دیا تھا اس لئے وہ بھی حزب اختلاف کے رہنما کو نہیں بولنے دیں گے۔ مسٹر ورین نے کہا کہ اپوزیشن ارکان نے جو کیا وہ بدقسمتی اور روایت کے خلاف ہے لیکن حزب اقتدار کے ارکان کو یہ غلطی نہیں دو رانی چا ے۔ مسٹر شرما نے شور شرابے کے درمیان کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر اپوزیشن کو بولنے نہیں دیا گیا تو وزراء کو بھی نہیں بولنے دیا جائے گا۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر مملکت وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ حزب اقتدار نے روایت کی خلاف ورزی نہیں کی ہے لیکن اگر ایوان کے لیڈر کو نہیں بولنے دیا جائے گا توبرسر اقتدار پارٹی کے رکن اپوزیشن کے لیڈر کو کیسے سنیں گے۔مسٹر شرما نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایوان میں کہا تھا کہ انہوں نے پارٹی کے لیڈروں کو بلا وجہ کی بیان بازی نہ کرنے کو کہا ہے لیکن اس یقین دہانی کو توڑا گیا ہے اور وزیر اور حزب اقتدار کے لیڈر اب بھی اشتعال انگیزبیان دے رہے ہیں ۔ حکومت ایوان کو بہتر طریقے سے نہیں چلانا چاہتی ۔ ملک میں دھماکہ خیز صورت حال ہے اور ان مسائل پر وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں بحث نہیں ہو سکتی۔دریں اثنا برسراقتدار پارٹی اور اپوزیشن کے رکن اپنی جگہوں پر کھڑے ہو کر ہنگامہ کرنے لگے جسے دیکھتے ہوئے مسٹرکورین نے ایوان کی کارروائی کل تک ملتوی کر دی۔اس سے پہلے بھی اپوزیشن نے اس مسئلے پر صبح سے ہی شور گل جاری رکھا جس کی وجہ سے پہلے وقفہ صفر، پھر وقفہ سوالات اور دیگر قانون سازی کام کاج نہیں ہوسکا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment