Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 03:16 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

بے خوف بدمعاشوں نے دن دہاڑے صراف کو گولیوں سے بھونا

 

نصف درجن بدمعاش دن دہاڑے لاکھوں روپے لوٹ کر ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے فرار،بازار میں دہشت کا ماحول

یاسر عثمانی

دیوبند،13؍ دسمبر(ایس ٹی بیورو) تاریخی شہر دیوبند ان دنوں بے خوف بدمعاشوں کی دہشت سے تھرایا ہوا ہے ،بے خوف بدماشوں کے ذر یعہ سلسلہ وار انجام دی جانے والی وارداتوں میں آج گاہک بن کر آئے دکان پر پہنچے نصف درجن بدمعاشوں نے دن دہاڑے لاکھوں روپے کی ڈکیتی کرتے ہوئے صراف کو گولیاں سے بھون ڈالا ۔ جس کے بعد بدمعاش ہوائی فائرنگ کر مارکیٹ میں دہشت پھیلاتے ہوئے فرار ہو گئے، دو گولی لگنے سے شدید طور پر زخمی ہوئے صراف نے علاج کے دوران دم توڑ دیا۔واردات کے خلاف احتجاج میں تاجروں نے مارکیٹ بند کر پولیس انتظامیہ کے خلاف جم کر مظاہرہ کیا۔ موقع پر پہنچے ایس ایس پی راجیش پانڈے نے کوتوالی انچارج کو فوری طور پر لائن حاضر کر تے ہوئے تاجروں جلد مجرمین کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کی۔ دن دہاڑے مصروف ترین بازار میں ہوئی اس سنسنی خیز واردات کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں میں خوف دہشت کے ساتھ غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ۔مقتول کے بیٹے نے تھانہ میں نصف درجن بدمعاشوں کے خلاف قتل اور لوٹ کی تحریر دی ہے ۔ تفصیل کے مطابق آج دوپہر قریب پونے بارہ بجے محلہ جنک پوری کے باشندہ 62 سالہ صراف سریندر گرگ عرف ببلو آڑھتی محلہ پٹھانپور بھائیلہ روڈ پرو اقع اپنی ’’موہت جولرس ‘‘نامی دکان پر بیٹھا تھا۔ بتایاجاتا ہے اسی وقت کہ خریدار بن کرصراف کی دکان پر پہنچے تین نوجوانوں نے زیورات خریدنے کی بات کہتے ہوئے کافی تعداد میں سونے کے زیورات نکلوا لیے، اسی دوران تین اور نوجوان صراف کی دکان میں گھس آئے، اس سے پہلے کہ صراف کچھ سمجھ پاتا بدمعاشوں نے پستول ہوا میں لہراتے ہوئے دکان میں رکھے سونے چاندی کے زیورات سمیٹنے شروع کر دیے۔ دن دہاڑے اپنے آپ لٹتا ہوا دیکھ صراف نے جیسے ہی شور مچانے کی کوشش کی تو ایک بدمعاش نے صراف پر پستول فائر کھول کردیئے، دو گولی لگنے سے شدید طور پر زخمی ہوا صراف وہیں گرپڑا ،اس کے بعد بدمعاشوں نے دکان پر موجود ملازمین کو بھی مارپیٹ کر زخمی کردیا۔ گولیوں کی آواز سن کر مارکیٹ میں سناٹا پھیل گیا اور کوئی بھی اپنے دوکان سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں کرسکا۔ واردات کو انجام دے کر بدمعاش دکان سے باہر نکل آئے اور آس پاس موجو د لوگوں کو دہشت زدہ کرنے کے مقصد سے ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے دو بائکوں پر سوار ہوکر بھائیلہ روڈ کی جانب فرار ہو گئے۔ اطلاع ملنے پر آناً فاناً پہنچی پولیس نے زخمی صراف کو سبھاش چوک واقع ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا جہاں پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے علاج کے دوران صراف نے دم توڑ دیا۔دن دہاڑے شہر کی مصروف ترین مارکیٹ میں ہوئی ڈکیتی اور صراف کے قتل کی واردات سے تاجروں میں غصہ پھیل گیا۔ بڑی تعداد میں میں تاجر مارکیٹ بند کر سرکاری پہنچ گئے اور پولیس انتظامیہ کے خلاف جم کر مظاہرہ کیا ،مشتعل تاجر پولیس علاقائی و کوتوالی انچارج کی معطلی کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنے پر بیٹھ گئے۔ بعد میں موقع پر پہنچے ایس ایس پی راجیش پانڈے نے فوری طور پر کوتوالی انچارج برجپال سنگھ جاکھڑ کو لائن حاضر کرتے ہوئے دو دن کے اندر اندر واقعہ کا خلاصہ کرنے اور بدمعاشوں کو گرفتارکئے جانے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد پولیس نے صراف کے لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے۔ادھر صراف سریندر گرگ کے بیٹے منیش نے کوتوالی میں نصف درجن نامعلوم بدمعاشوں کے خلاف اپنے والد کے قتل اور لاکھوں روپیہ کے سونے چاندی کے زیورات کی ڈکیتی کے علاوہ ملازمین کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور ایک بائک لوٹ لے جانے کامعاملہ درج کرایاہے۔خیال رہے کہ گذشتہ تین ماہ قبل محلہ ابوالمعالی کے باشندہ صراف فاخر انصاری کے یہاں دن دہاڑے بے خوف بائک بدمعاشوں کے ذریعہ کئی گئی قریب پچاس لاکھ کی ڈکیتی کا ابھی تک پولیس خلاصہ بھی نہیں کرپائی ہے اور آج ایک مرتبہ پھر شہر میں ہوئی اس سنسنی خیز واردات سے جہاں پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں وہیں شہر کے تاجر اور عام شہری خوف و دہشت میں ہیں۔آج دن دہاڑے بھائیلہ روڈ پر تاجر سریندر کی دوکان پر ہوئی لوٹ اور قتل کی واردات کو بھرا بازار دیکھتا رہا،لیکن کسی بھی بدمعاشوں کی مخالفت کرنے کی کسی نے نہ توہمت دکھائی اور نہ ہی بدمعاشوں کو گھیرنے کی کوشش کی گئی،شایداگر اجتماعی طورپر بدمعاشوں کی مخالفت کی جاتی ہے تو شاید تاجر کی جان بچ سکتی تھی۔

...


Advertisment

Advertisment