Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 11:27 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

وزراء کے متنازعہ بیانات کی خاموش حمایت کر رہے ہیں مودی

آسام کے وزیر اعلیٰ کا وزیر اعظم پر الزام ، حقیقی مسائل سے چشم پوشی کر رہی ہے مودی سرکار : ترن گگوئی

گوہاٹی، 13 دسمبر (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزراء اور لیڈروں پر یہ الزام لگاتے ہوئے کہ وہ ملک اور عوام کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے متناز عہ بیانات دے رہے ہیں، آسام کے وزیر اعلی ترون گگوئی نے آج وزیر ا عظم نریندر مودی پر ان لیڈروں کے متناز عہ بیانات کی خاموشی سے تائید کرنے کا الزام لگایا۔ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ مسٹر نریندر مودی یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات دینے میں وہ اپنے وزیروں اور پارٹی کے لیڈروں کی خاموشی سے تائید کررہے ہیں۔وزیر اعلی نے سوال کیا کہ مسٹر مودی ایک ماہر سیاستداں ہیں، مگر وہ اپنے وزراء کو اس طرح کے متنازعہ بیانات دینے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے بی جے پی لیڈروں کی طرف سے دیئے گئے متعدد متنازعہ بیانات کی نشاندہی کی، جیسے ناتھو رام گوڈسے کو شہید قرار دینا، تاج محل کو ہندو وراثت قرار دینا اور رام مندر کی تعمیر کرنے کا مسئلہ وغیرہ۔مسٹر گگوئی نے کہا کہ بی جے پی کے یہ وزراء اور لیڈران دراصل ملک کے لوگوں کی توجہ شہریوں کے ان حقیقی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں، جن پر بی جے پی کی سربراہی والی قومی جمہوری محاذ (این ڈی اے) حکومت نے مکمل یوٹرن لے لیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جیپی کے وزراء اور لیڈران مذہبی خطوط پر مبنی نفرت کی سیاست کا پروپیگنڈہ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ملک کے عوام پہلے سے ہی ان کی حرکتوں کو باریکی سے دیکھ رہے ہیں اور وہ ان کی جال میں ہرگز نہیں پڑیں گے۔ آسام کے وزیر اعلی نے اس موقع پر اس بات کااشارہ کیا کہ این ڈی اے حکومت ریاست آسام کو ملنے والی موجودہ فوائد اور اسکیموں میں تخفیف کررہی ہے اور ریاست کے لئے نئی اسکیموں کا اعلان بھی نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ریاست میں منریگا اسکیم کے تحت مزدوروں کے ادائیگی میں کٹوتی کی گئی، فوڈ سکیورٹی ایکٹ کے نفاذ کو معطل کردیا گیا ہے، سیلاب راحت فنڈ کے لئے بھی پیسہ اب تک نہیں ملا ہے اور چائے کے کاشتکاروں کا راشن بھی روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے اسی طرح کے متعدد مسائل ایسے ہیں جن پر مرکز کی بے توجہی کی وجہ سے ریاست کے عوام پر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وزیر اعلی نے یہ نشاندہی بھی کی کہ بی جے پی جب اپوزیشن میں تھی تو وہ آسام میں بڑے باندھ تعمیر کرنے اور بنگلہ دیش کے ساتھ زمین کے معاہدے کی شدید مخالف تھی، لیکن اب وہی بی جے پی ریاست میں بڑے باندھ بھی تعمیر کروارہی ہے اور بنگلہ دیش کے ساتھ زمین کے معاہدے کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment