Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 08:53 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اوکھلا کے ٹکٹ کو لے کر’’آپ‘‘مشکل میں!


دعویداروں کی طویل فہرست کو دیکھتے ہوئے پارٹی کھیل سکتی ہے خاتون امیدوار کاکارڈ
نثار احمد خان

نئی دہلی، 13دسمبر (ایس ٹی بیورو) دہلی اسمبلی انتخابات کیلئے عام آدمی پارٹی سب سے پہلے امیدواروں کا اعلان کررہی ہے اور اس نے اب تک 45امیدواروں کا اعلان کردیا ہے، مگر ابھی تک اس میں صرف دو مسلم امیدواروں کو موقع دیاہے، مگر ابھی تک کسی مسلم خواتین کو جگہ نہیں ملی ہے۔ ان حالات میں مسلم خواتین کو لے کر جہاں پارٹی میں شکوک وشبہات ہیں وہیں اب عام آدمی پارٹی اوکھلا اسمبلی حلقے کے ٹکٹ میں پھنستی نظرآرہی ہے۔ اقلیتی ونگ کے صدر اورگذشتہ اسمبلی انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہنے والے عرفان اللہ خان سب سے اہم دعویدار ہیں وہیں لوک جن شکتی پارٹی سے ’آپ‘ میں آئے امانت اللہ خان نے بھی اپنی مضبوط دعویداری پیش کردی ہے۔ اس کے علاوہ اوکھلا کی کونسلر عشرت بیگم کے شوہرکامریڈ امیرالدین بھی ٹکٹ کے خواہشمند ہیں جبکہ ضیاء چودھری ابتدائی دنوں سے پارٹی سے وابستہ ہونے کا انعام حاصل کرنے کی امید میں ہیں۔ مگر ان سب حالات کے درمیان عام آدمی پارٹی اب دعویداروں کی طویل فہرست کو دیکھتے ہوئے ’مسلم خاتون‘ کارڈ کھیل کر ایک تیر سے دوشکار کرنے کافارمولہ تیار کیاہے۔ پارٹی ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق پارٹی کے سینئرلیڈران کا کہناہے کہ اوکھلا سے ٹکٹ کے دعویداروں کو پارٹی میں بنائے رکھنے اور ان کی ناراضگی کو ختم کرنے کیلئے کسی مسلم خاتون کو امیدوار بنا دیا جائے۔ پارٹی کو اس بات کا خدشہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی بھی لیڈر کو ٹکٹ دیاجاتا ہے توپھر پارٹی میں بغاوت ہوسکتی ہے اورباقی لیڈران کسی اور پارٹی کادامن تھام سکتے ہیں۔ چنانچہ اس سے نمٹنے کیلئے پارٹی لیڈران نے نئی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے سب کو ساتھ بنائے رکھنے کی ایک کوشش شروع کردی ہے۔ پارٹی کی قدآور لیڈر شاذیہ علمی کے پارٹی چھوڑنے کے بعد پارٹی میں کوئی ایسا مسلم چہرہ بھی نہیں رہ گیا تھا جسے پارٹی آگے لاسکے اور مسلم خاتون کی نمائندگی کے طور پر پیش کرسکے۔ شاذیہ علمی تو پارٹی کو خیرآباد کہہ چکی ہیں جبکہ گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بلیماران سے قسمت آزمانے والی فرحانہ انجم کا ٹکٹ کاٹ دیا گیاہے اور ان سے کم ووٹ حاصل کرنے والے عمران حسین کو امیدوار بنادیاگیاہے۔ ان حالات میں پارٹی کے تئیں ان کی ناراضگی تو فطری ہے، مگر انہیں منانے کیلئے اور مسلم خاتون کو نظرانداز نہ کرنے کی مثال پیش کرنے کیلئے انہیں اوکھلا سے امیدوار بناسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اسماء نوشین کا نام بھی ابھر کرسامنے آیاہے۔ اس کے علاوہ فرح دیبا خان نامی خاتون کوبھی قسمت آزمانے کا موقع دیاجاسکتاہے۔ اطلاع کے مطابق پارٹی کے ایک لیڈرکو اس فارمولہ کے نفاذ کیلئے مسلم خواتین کی فہرست تیار کرنے کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی ہے جبکہ دوسرے سینئرلیڈران بھی پارٹی کو اس پالیسی پر عمل کرنے کے حق میں ہیں۔ اب دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ عام آدمی پارٹی اوکھلا اسمبلی حلقہ کیلئے کسے امیدوار بناتی ہے۔ کامیابی اور ناکامی تو بعد کی بات ہے، لیکن اگر پارٹی عرفان اللہ خان، امانت اللہ خان یا پھر امیرالدین کو امیدوار بناتی ہے تو پارٹی میں بغاوت ہونے کاامکان ہے، لیکن مسلم خاتون کارڈ کھیلنے کی صورت میں ان سبھی دعویداروں کی امیدوں پر پانی پھر سکتاہے۔ اس بابت رائے جاننے کیلئے جب عام آدمی پارٹی دہلی یونٹ کے صدر آشوتوش سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون نہیں اٹھایا جبکہ پارٹی کے سینئرلیڈر منیش سسودیا سے جب رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو بتایا گیا کہ وہ ابھی پروگرام میں مصروف ہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment