Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 11:21 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

23دسمبر کوجموں وکشمیر ایک نئے دور میں داخل ہوگا: مفتی محمد سعید


جموں وکشمیرمیں چوتھے مرحلے کیلئے انتخابی مہم اختتام پذیر
سری نگر،12 دسمبر (یو این آئی) جنوبی کشمیر کے اننت ناگ اور شوپیاں اضلاع کے ووٹران سے واضح اور مضبوط منڈیٹ طلب کرتے ہوئے پی ڈی پی سرپرست اعلیٰ مفتی محمد سعید نے آج کہا کہ وہ سیاسی طور مستحکم اور خوشحال جموں و کشمیر کے قیام کے لئے 14دسمبر کو ووٹروں کی بھاری شرکت کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی عوام کے بہتر مستقبل کے لئے وہ پی ڈی پی کی جانب سے ووٹروں کے تعاؤن ، حمایت اور اعتماد کے متمنی ہیں تا کہ ترقی اور خوشحالی کی راہوں پر آگے بڑھا جا سکے ۔ ووٹوں کی گنتی کے لئے مقرر 23دسمبر کو ریاست کی سیاسی تاریخ کا ایک نیا دن قرار دیتے ہوئے مفتی نے توقع ظاہر کی کہ اس دن ریاست اور یہاں کے عوام ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔ وہ پہلگام اور کوکرناگ اسمبلی حلقہ جات میں پارٹی امیدوار رفیع احمد میر اور عبدالرحیم راتھر کے حق میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل ہونے والی کسی بھی الیکشن میں رائے دہندگان کے پاس واضح چوائس نہیں ہوتی تھی لیکن حالیہ انتخابات میں ریاستی عوام کو مخلوط حکومت کا کلچر ختم کرنے اور موجودہ نا اہل و کورپٹ نظام کو تبدیل کرنے کے لئے ایک نادر موقع فراہم کیا ہے انہوں نے کہا کہ الیکشن کے پہلے تینوں مراحل میں پی ڈی پی لوگوں کی اولین پسند بن کر ابھری ہے اور ریاست بھر میں لوگوں نے اجتماعی طور پر اس پارٹی کے حق میں فتویٰ دیا ہے ، اب سری نگر ، اننت ناگ اور شوپیاں کے عوام کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی جماعت پی ڈی پی کو واضح اکثریت دے کر تبدیلی کی اس لہر کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔مفتی سعید نے یقین دلایا کہ اگر لوگوں پارٹی کو واضح منڈیٹ دیتے ہیں تو وہ مقررہ معیاد میں جموں کشمیر کو سیاسی طور مستحکم، اقتصادی طور خوشحال ریاست بنانے کے لئے کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کے دکھ درد کو ہمیشہ کے لئے دور کرنے کے متمنی ہیں اور ایک ایسے نظام کی تشکیل چاہتے ہیں جو عوام کو سیاسی طوربا اختیار اور مالی طور خوشحال بناد ے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی شعبدہ بازیوں میں یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کا اعتماد ہے کہ لوگ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی اور ان کی حصولیابیوں کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ پی ڈی پی کے ترقیاتی ایجنڈہ کو زمینی سطح پر پہنچانے کیلئے پارٹی کیڈر کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے مفتی سعید نے کہا کہ عوام نے مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل اور درپیش مسائل کے ازالہ کے لئے ایک بار پھر جمہوری عمل اور آئینی طریقوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپنے اخلاص، ویژن اور مساوی ترقی و انصاف کے تئیں عزم کی وجہ سے پی ڈی پی ریاستی عوام کی پہلی پسند بن گئی ہے ، واضح اکثریت ہونے پر پارٹی نہ صرف ریاست کے منفرد تشخص اور خصوصی درجہ کو تحفظ فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہوگی بلکہ لوگوں کی سیاسی امنگوں، معاشی ضروریا ت کو پورا کرنے اور ریاست کو با اختیار و خوشحال بنانے کے لئے بھی ٹھوس اقدامات اٹھاپائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور یہاں کے عوام کی سیاسی با اختیاری، اقتصادی آزادی، سماجی ترقی نئی حکومت کے رہنما اصول ہوں گے۔مفتی نے کہا کہ ایک جدید اقتصادی ڈھانچہ ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہوگا، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے روزگار اور آگے بڑھنے کے لئے وسیع مواقع مہیا کروائے جائیں گے تا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک مضبوط سماج کی رہبری کرسکیں اور بتایا کہ بر سر اقتدار آنے پر پی ڈی پی ریاستی نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لئے ایک جامع حکمت عملی بنائے گی۔
دوسری جانب جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے چوتھے مرحلے کیلئے انتخابی مہم جمعہ کی شام کو اختتام کو پہنچ گئی۔ اس مرحلے کی پولنگ کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں ووٹ ڈالنے کا سلسلہ اختتام کو پہنچ جائے گا۔ تاہم پانچویں مرحلے کے تحت 20 دسمبر کو جموں خطے کے 20 اسمبلی حلقوں میں ڈالے جائیں گے۔ علیحدگی پسند لیڈران کی الیکشن بائیکاٹ اپیلوں اور حالیہ جنگجویانہ حملوں کے باوجود مختلف سیاسی جماعتوں نے پولنگ والے علاقے میں سینکڑوں انتخابی ریلیاں اور روڑ شو منعقد کئے ۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے پانچویں مرحلے کے تحت14 لاکھ 73 ہزار 50 رائے دہندگان 182 امیدواروں کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کریں گے جن میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید ، دو کانگریسی وزیر ، بعض سابق وزراء اور متعدد ممبران بھی اسمبلی شامل ہیں۔ کمیشن نے رائے دہندگان کیلئے مجموعی طور پرایک ہزار 890 پولنگ اسٹیشن قائم کئے ہیں۔ چوتھے مرحلے کیلئے جن 18 اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے اْن میں وسطی کشمیر کے ضلع سری نگر کے آٹھ اسمبلی حلقے حضرت بل، جڈی بل، خانیار، حبہ کدل، امیرا کدل، سونہ وار اور بتہ مالو ،جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے چھ اسمبلی حلقے اننت ناگ، ڈورو، ککر ناگ، شانگس، بجبہاڑہ اور پہلگام جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کے دو اسمبلی حلقے وچی اور شوییاں شامل ہیں۔ اِسی مرحلے کی پولنگ کے تحت جموں خطے کے سانبہ (ایس سی ) اور وجے پور میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ 2008 کے اسمبلی انتخابات میں ان 18 اسمبلی حلقوں میں سے نیشنل کانفرنس نے 9 نشستوں (حضرت بل، جڈی بل، عیدگاہ، خانیار، حبہ کدل، امیرا کدل، سونہ وار، بتہ مالو اور وجے پور)،پی ڈی پی نے 6 نشستوں (اننت ناگ، شانگس، بجبہاڑہ، پہلگام، وچی اور شوپیاں) ، کانگریس نے 2 نشستوں (ڈورو اور ککر ناگ) جبکہ نیشنل پنتھرس پارٹی نے سانبہ (ایس سی) نشست پر جیت درج کی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں ستمبر کے مہینے میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں وادی کے دوسرے اضلاع کے مقابلے میں سری نگرسب سے زیادہ متاثر رہا تھا جہاں ہزاروں مکانات زمین بوس ہوئے، ہزاروں تاجرمتاثر ہوئے اور دیگر تعمیری ڈھانچوں کو زبردست نقصان پہنچا ۔ ضلع سری نگر دہائیوں سے نیشنل کانفرنس کا گڈھ رہا ہے اور اس وقت بھی ضلع کی آٹھوں اسمبلی حلقوں کی نمائندگی اسی جماعت کے لیڈران کررہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس نے اسمبلی انتخابات کے انعقاد پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کی ضرورت پر زور دیا تھا۔یہاں تک کہ ریاستی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ جو نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر بھی ہیں، نے کہا تھا کہ ریاست میں انتخابات کیلئے فی الحال حالات سازگار نہیں ہے۔ اْنہیں خدشہ تھا کہ اگر ان حالات میں انتخابات کا بگل بجایا گیا تو سری نگر میں صفرفیصد پولنگ ہوگی جہاں عام طور پر ووٹنگ کی شرح کم ہی رہتی ہے۔
 

 

...


Advertisment

Advertisment