Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 10:59 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اشتعال انگیزی سے مشتعل ہونے کی بجائے مسلمان تدبر سے کام لیں: احمد بخاری

 

نئی دہلی،12 دسمبر (یو این آئی)شاہی جامع مسجد دہلی کے امام سید احمد بخاری نے آج مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ تبدیلی مذہب کے آگرہ کے حالیہ واقعے یاپہر 25 دسمبر کو علی گڑھ میں آگرہ جیسے عمل کا اعادہ کرنے کیکسی اعلان سے خوف زدہ ہونے کے بجائے بلا اشتعال اس فتنہ کے خلاف مزاحمت کرنے کی کوشش کریں۔ شاہی امام نے آج کہاکہ گذشتہ دنوں آگرہ میں 250 سے زائد مسلمانوں کی تبدیلی مذہب کے واقعہ کا کارگر اور مؤثر جواب دینے کیلئے مسلمان گھر گھر اسلام ‘‘ تحریک شروع کریں ۔ اسلام کا پیغام گھر گھر پہنچانا، اپنے مذہب کی تبلیغ اور تشہیر کرنا ایک مذہبی فریضہ ہے اور ملک کاقانون اور دستور بھی اس کی مکمل آزادی دیتاہے۔انہوں نے مرکزمیں برسراقتداربی جے پی ، آرایس ایس ،وی ایچ پی، بجرنگ دل اور دیگر ذیلی تنظیموں پر شرپسندانہ اورفرقہ پرستانہ سرگرمیاں چلانے کا الزام لگاتے ہوئے خبر دار کیا کہ مذہبی جذبات سے کسی طرح کا کھیل نقص امن کاموجب ہوگا اور اسکی تمام تر ذمہ داری مرکزی اور ریاستی سرکاروں پرہوگی۔انہوں نے الزام لگایا کہ اقتدارمیں آنے کے بعد بی جے پی آپے سے باہرہورہی ہے۔ جیت کاہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ملک کے دستو راورقانون سے کھلواڑ کیاجائے اور کسی ایک فرقہ کے خلاف نفرت پھیلائی جائے اور قانون کوہاتھ میں لیکر اقلیتوں یا کمزورطبقے کی دل آزاری کی جائے ۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ اگر ان فرقہ پرست طاقتوں پر فوری طور پرلگام نہیں کسی گئی تو ملک کی فرقہ ورانہ ہم آہنگی، بھائی چارہ ، امن وسکون سب غارت ہوجائے گا۔شاہی امام نے اترپردیش کی سماجوادی سرکارپر شدیدنکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ اگر ریاستی حکومت نے ایمانداری سے اپنی ذمہ داری نبھائی ہوتی تو آگرہ میں تبدیلء مذہب کا یہ شرمناک واقعہ ہرگز نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ آگرہ کے واقعہ پر جہاں پورے ملک کا مسلمان چیخ اٹھا وہیں اس مسئلے پر لوک سبھا میں بحث کے دوران اترپردیش کی حکمراں جماعت سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو کا یہ بیان کہ آگرہ کے مذکورہ واقعہ کا اترپردیش کے آگرہ ، ایٹا یا آس پاس کے علاقوں میں کوئی اثر نہیں ہے اور ایوان میں اخبارات کی رپورٹوں کی بنیادپر یہ غیر ضروری بحث کرائی جارہی ہے ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ آگرہ کے واقعہ میں شرپسندوں کو ریاستی حکومت کی شہہ حاصل تھی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment