Today: Monday, November, 19, 2018 Last Update: 10:59 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ضمیر کی آواز پر ہی بل پر دستخط کیا: عزیز قریشی

 

فرقہ وارانہ طاقتیں تاج محل کو گرانے کی سازش رچ رہی ہیں:اعظم خاں

رام پور، 11 دسمبر (یو این آئی) مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق بل کے معاملے میں موضوع بحث بننے والے اتراکھنڈ کے گورنر ڈاکٹر عزیز قریشی نے کہا ہے کہ کسی کے دباؤ میں نہیں بلکہ ایمان کو آگے رکھ کر ضمیر کی آواز پر ہی اس بل پر دستخط کئے تھے۔مسٹر قریشی نے کہا کہ یونیورسٹی سے متعلق بل پر دستخط کے بدلے میں اگر انہیں گورنر کے عہدے سے ہٹایا بھی جائے تو وہ اس قربانی کے لئے ذہنی طور پر تیار ہیں۔مولانا محمد علی جوہر کی سالگرہ کے موقع پر یونیورسٹی کمپلکس میں لا فیکلٹی کی بنیاد رکھنے کے بعد پروگرام میں مسٹر قریشی نے واضح کیا کہ یونیورسٹی کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہے جہاں بے حد غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کو تعلیم دیکر انہیں آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔مسٹر قریشی نے حیرانی ظاہر کی کہ آخر کار ایک تعلیمی ادارہ کے سلسلے میں اتنا ہائے توبہ کیوں مچاہے ۔ اسمبلی اور قانون ساز کونسل سے پاس جوہر یونیورسٹی سے متعلق بل طویل عرصہ سے زیر التوا پڑا تھا۔ انہیں اترپردیش کا اضافی چارج ملا اور انہوں نے ایمان کو آگے رکھ کر ضمیر کی آواز پر دستخط کردئے۔انہوں نے کہا کہ 147انہیں اس کے عوض میں ہرجانے کی قطعی فکر نہیں ہے۔ گورنری بھی چلی جائے تو تیار ہیں لیکن ضمیر کی آواز کو دبنے نہیں دے سکتے۔اس موقع پر جوہر یونیورسٹی کے چانسلر اور صوبے کے شہری ترقیات کے وزیر محمد اعظم نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر جم کر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ طاقتیں تاج محل کو گرانے کی سازش رچ رہی ہے۔مسٹر خاں نے کہا کہ بی جے پی کو سمجھ لینا چاہئے کہ بھروسہ حاصل کرنے کے لئے مذہب نہیں دل بدلنے کی ضرورت ہے۔قبل ازیں پروگرام میں شامل ہونے کے لئے آنے والے گورنر کا خصوصی چاٹرڈ طیارہ منگل کی شام کہرے کی دھند کی وجہ منڈھا پانڈے ہوائی پٹی پر نہیں اترسکا۔ تقریباً دس منٹ ہوائی پٹی نہ دیکھنے پر پائلٹ کو چارٹرڈ طیارہ پنت نگر ایئرپورٹ پر اتارنا پڑا۔اس کے بعد تقریباً 90 کلو میٹر کی دوری کار سے طے کرکے رات میں ہی گورنر قریشی رام پور آگئے تھے۔

...


Advertisment

Advertisment