Today: Tuesday, November, 13, 2018 Last Update: 09:55 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

کسی بھی قوم کو تحفظ اور وقار بلند کرنے کیلئے اپنی زبان کا پڑھنا اور سمجھنا ضروری: پروفیسر طلعت احمد

 

قومی کونسل اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سیمینار کاآغاز

وسیع ہوتی دنیامیں اپنی زبان اورتہذیب وثقافت کا تحفظ بڑا چیلنج: خواجہ اکرام الدین*نئی نسل کواردو کے تئیں سنجیدگی کامظاہرہ کرنے کی ضرورت: پاکستانی ہائی کمشنر

نثاراحمدخان

نئی دہلی، 26ستمبر (ایس ٹی بیورو)کسی بھی قوم کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان پڑھے اور سمجھے تاکہ اس کاتحفظ اور وقار بلند و بالا ہو۔ ریسرچ اسکالروں کو محنت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معیاری تحقیق ممکن ہو۔اگر وہ ابھی محنت کریں گے تو آگے چل کرایک بہترادیب کی صف میں ان کا شمار ہوسکے گا۔ ان خیالات کااظہار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار کے افتتاحی تقریب میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ اکثر اسکالر پوائنٹ کی وجہ سے پڑھتے کم ہیں اور اپنی چیزوں کوشائع کرنے کی فکر میں زیادہ رہا کرتے ہیں، جوکہ آپ کے معیار کوغیر معیاری بنادیتا ہے۔ پروفیسرطلعت احمدنے مزید کہا کہ ہمیں اسکولوں پرتوجہ دینی ہوگی تاکہ اسکولی سطح پر بھی اردو برقرار رہ سکے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اسکولی سطح پراردو تنزلی کاشکار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ مشترکہ طورپراردو کے تمام اداروں کواسکولی سطح پرپڑھائے جانے کویقینی بنانا ہوگا۔ اس موقع پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ آج ہم ان سے مخاطب ہیں جو اردو زبان و ادب کے مستقبل ہیں۔ اردو کے نئے امکانات انہیں اسکالروں سے وابستہ ہیں۔یہی نوجوان اردو اداروں کے اساتذہ اور افسران ہوں گے۔وسیع ہوتی دنیامیں اپنی زبان تہذیب،ثقافت کا تحفظ ایک بڑا چیلنج ہے جس کیلئے ہمیں پیش پیش رہنے کی ضرورت ہے۔اسکالروں کا سمینار میں شریک ہوناہی مقصدنہیں ہونا چاہیے بلکہ سارے مقالات بغورسماعت کریں اور خود بھی معیاری مقالہ قلم بند کرکے لائیں۔پاکستان کے کارگزارہائی کمشنر منصورعلی خاں نے کہاکہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کوخود سے کافی قریب محسوس کرتا ہوں چونکہ یہ ادارہ اردو کے تئیں اہم کردار ادا کر رہاہے۔ اردو کے معاملے میں ہم لوگوں کوبھی فکر لاحق ہے کہ نئی نسل اردو سے دور ہوتی جارہی ہے۔لہٰذا نئی نسل کواردو کے تئیں سنجیدگی کامظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریسرچ ایک مفصل کام ہے، جس پرمفصل توجہ کی ضرورت ہے،پاکستان اور ہندستان کو تعلیم کی سطح پر زیادہ تبادلۂ خیال کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثرویزہ کی دشواریاں پیش آتی ہیں جسے میں حل کرنے کی کوشش کروں گااوراساتذہ واسکالرزمجھ سے براہ راست رابطہ بھی کر سکتے ہیں۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضاحیدرنے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ گزشتہ 40برسوں سے غالب،عہدِ غالب اور معاصرین غالب کے حوالے سے کارہائے نمایاں انجام دیتا رہا ہے۔ تقریباً 100اردو کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ سمیناروں میں ملک اور بیرونِ ملک کے متعدد ادباشرکت کرتے رہے ہیں۔ ریسرچ اسکالر سمیناراہمیت کاحامل ہوچکاہے۔ عہد حاضر کے ممتاز نقادپروفیسر عتیق اللہ نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہاکہ اساتذہ اورریسرچ اسکالروں کوسنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ اسکالروں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہیں موضوع دیں۔ اکثر موضوع تنقید کے حوالے سے دےئے جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تنقیدتحقیق سے کہیں سخت عمل ہے،لہٰذا تنقید کی بجائے تحقیق پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ فارسی زبان و ادب کے معتبراسکالرپروفیسرشریف حسین قاسمی نے کلیدی خطبہ دیتے ہوئے کہاکہ اگر فارسی زبان و ادب کاموازنہ کیا جائے تو فارسی کی تاریخ قدیمی ہے اوراردو کے قدامت محض 350برسوں پر محیط ہے۔کچھ کام اساتذہ کو سنجیدگی سے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبا کی تربیت ممکن ہوسکے۔آخرمیں غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اسکالروں میں سہل پسندی آگئی ہے جبکہ محنت و لگن کی ضرورت ہے۔ ادب بھی تنہا ادب نہیں رہ سکتااگر دیگر علوم سے فائدہ نہیں اٹھایا جائے۔ ریسرچ میں اپنے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہد ماہلی نے اظہار تشکر ادا کرتے ہوئے کہاکہ جب یہ سمینارمیں نے شروع کیا تھاتب محض ایک دن کاہواکرتاتھا،مگر اب یہ سمینار ایک روایت بن چکا ہے اور مختلف اداروں میں منعقد کیا جارہا ہے، جن لوگوں نے ریسرچ اسکالرسمینار میں شرکت کیا تھاوہ اب پروفیسر اور ریڈر بن چکے ہیں۔اس موقع پرمختلف اردو اداروں ،دانشگاہوں اور ریسرچ اسکالروں نے شرکت کی۔آج کے پہلے اجلاس کی صدارت شاہد ماہلی،پروفیسروہاج الدین علوی اورپروفیسر علی احمد فاطمی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض عبدالسمیع نے انجام دےئے۔ مقالہ نگاروں میں ابو ہریرہ، شیبا حیدر، ضیاء الرحمن، دھرم ویر سنگھ کے نام قابل ذکر ہیں۔ دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر صادق، پروفیسر شہپررسول،پروفیسر بلقیس فاطمہ حسینی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض عینین علی حق نے انجام دیئے۔ واضح رہے کہ اس سیمینار میں ملک و بیرون ملک کی مختلف درسگا ہوں سے اسکالرز نے شرکت کی ہے اور یہ سیمینار 28ستمبر تک جاری رہے گا۔

...


Advertisment

Advertisment