Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 01:03 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

بدایوں سانحہ

 

سی بی آئی نے کلوزر رپورٹ پیش کی، خودکشی کا دعویٰ

بدایوں،11دسمبر(یو این ا ئی)قومی تفتیشی ایجنسی(سی بی آئی)نے گزشتہ برس بدایوں کی دو چچا زاد بہنوں کی عصمت دری اور ان کے قتل کے معاملے میں ا ج اپنی تفتیش کو حتمی شکل دیتے ہوئے کلوزر رپورٹ پیش کی ہے۔ امید کے مطابق سی بی ا ئی نے وہی فیصلہ سنایا ہے جو اس سے قبل وہ کہتی ا رہی تھی۔واضح رہے کہ بدایوں کی دونوں بہنوں کی عصمت دری اور قتل کے معاملے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی تھی جسے میڈیا نے بھی خوب خوب اچھالا تھا۔سی بی ا ئی نے اپنی کلوزر رپورٹ اور اس سے قبل کی تمام رپورٹوں کو ا ج ایڈشنل ڈسٹرکٹ جج(8)و پاسکو انل کمار کے سپرد کر دیا۔عدالت نے اس کے لئے 6جنوری کی تاریخ مقرر کی تھی تاکہ کلوزر رپورٹ پر ہونے والے اعتراضات کا جائزہ لیا جا سکے۔دونوں اس سلسلے میں قیاس ا رائی کی جا رہی ہے کہ مقتولہ بہنوں کے والدین سی بی ا ئی کی اس رپورٹ پر اعتراض کر سکتے ہیں۔سی بی ا ئی نے عدالت کو یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ متاثرہ خاندان کے افراد کے خلاف غلط مقدمہ کرنے کی پاداش میں ایف ا ئی ا ر درج کی جائے اور انہیں ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا ملزم گردانہ جائے۔دریں اثنا ،سی بی ا ئی کے سپرنٹنڈنٹ رجت کمار نے کلوزر رپورٹ پیش کرنے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دونوں بہنوں نے خود کشی کی تھی اور اسی لئے یہ کلوزر رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق سی بی ا ئی نے اپنے کلوزر رپورٹ میں کہا ہے کہ دونوں بہنوں نے خودکشی کی تھی۔ ان کی کسی سیا شنائی تھی اور اس کی یہ دلیل پیش کی ہے کہ اس کے ثبوت ان کے موبائل سے ہوئی بات چیت میں ملے ہیں۔ایجنسی نے اس سلسلے میں 200لوگوں سے تفتیش کی ہے۔ذرائع نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ سنٹرل فارینسک سائنس لیباریٹری ، تین رکنی میڈیکل بورڈ اور سی بی آئی کی تفتیش سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایف آئی آر میں پانچ ملزمان کے خلاف لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں اور اترپردیش پولیس نے بے قصور افراد کو گرفتار کیا ہے۔دونوں لڑکیوں میں سے بڑی لڑکی کی اصل ملزم پپو یادو کے ساتھ آشنائی تھی ایک دن شام کو دونوں ایک ساتھ تھے اسی دوران لڑکی کے رشتے دار نے انہیں دیکھ لیا ۔ سی بی آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے طول پکڑنے کی وجہ سے دونوں لڑکیوں نے خودکشی کرلی۔ذرائع نے بتایا کہ لڑکیوں کے گھر والوں نے پپو یادو اور بڑی لڑکی کے درمیان فون پر ہوئی بات چیت کو ریکارڈ کرکے گاؤں کے تقریباً 15 لوگوں کے سامنے اسے سنایا جس کے فوراً بعد لڑکیوں نے خودکشی کرلی۔دونوں لڑکیوں کی لاشیں 28 مئی کو ان کے گھر کے نزدیک آم کے ایک درخت سے لٹکتی ہوئی ملی تھیں ۔پوسٹ مارٹم کی بنیاد پر پہلے یہ خیال گیا تھا کہ لڑکیوں کے جنسی استحصال کے بعد قتل کردیا گیا۔ لڑکیوں کے گھر والوں نے بھی الزام لگایا تھا کہ ایک گاؤں کے پانچ نوجوانوں نے انہیں اغوا کرکے قتل کردیاتھا۔ ان میں تین بھائی پپو، اودیش اور ارویش یادو اور دو پولیس کانسٹبل چھترپال اور سرویس یادو شامل تھے۔پانچوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ اس وقت عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد سبھی جیل سے باہر ہیں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment