Today: Sunday, September, 23, 2018 Last Update: 05:21 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

ممبئی بم دھماکہ2011

 

عبدالمتین عرف فاروق باعزت بری

ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت کا تاریخی فیصلہ،جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کوملی ایک اور بڑی کامیابی
ممبئی26ستمبر (یو این آئی)ملک میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت مسلم نوجوانوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کو آج اس وقت ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت نے13 جولائی2011کو ممبئی کے زویری بازار، اوپیراہ ہاؤس اور دادر علاقے میں رونما ہوئے سلسلہ وار بم دھماکے بنام 137 بم دھماکہ معاملے میں ماہ رمضان میں گوا ایئر پورٹ سے گرفتار کئے گئے ملزم عبدالمتین عرف فاروق کو مقدمہ سے باعزت بری کئے جانے کا حکم جاری کیا ۔خصوصی مکوکا عدالت کے جج وائی ڈی شندے دفاعی وکیل ایڈوکیٹ شریف کی جانب سے ملزم کو مقدمہ سے باعزت بری کئے جانے والی عرضداشت پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ169کے تحت مقدمہ سے باعزت رہا کئے جانے کا حکم صادر کرتے ہوئے اے ٹی ایس کو بھی حکم دیا کہ وہ متین کے قبضہ سے ضبط شدہ موبائل فون، پاسپورٹ اور دیگر لوازمات بھی لوٹا دے۔ڈسچارج عرضداشت پر بحث کرتے ہوئے ایڈوکیٹ شریف شیخ نے خصوصی عدالت کوکہا تھا کہ ملزم کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس معاملے کے دیگر ملزمین کو جانتا ہے اور استغاثہ کا یہ دعوی کہ ملزم نے یاسین بھٹکل کو دس لاکھ روپئے بذریعہ حوالہ مہیا کرایا تھا اور جس کا استعمال 137 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں استعمال ہوا تھا جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ وکیل استغاثہ اجول نکم نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی دستوں کی ملزم سے تحقیقات مکمل ہوچکی ہے اورا نہوں نے ملزم کے خلاف کوئی ثبوت نہیں پایا ہے لہذا انہیں ملزم کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔عبدالمتین کی مقدمہ سے باعزت رہائی پر پر مسرت لہجے میں سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار احمد اعظمی نے کہا کہ یہ جمعیۃ علماء کے وکلاء کی ایک بڑی کامیابی ہے کہ ان کی کوششوں سے ملزم پر فرد جرم عائد ہونے سے پہلے ہی اسے مقدمہ سے باعزت بری کرالیا گیا کیونکہ ملزم کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا نیز صدر جمعیۃ علماء مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے کا جمعیۃ علماء نے فیصلہ کیا تھا جو سچ ثابت ہوا ۔گلزار احمد نے مزید کہا کہ انشا ء اللہ بھٹکل کے رہنے والے عبدلمتین کی طرح ہی اس معاملے میں گرفتار دیگر ملزمین کو بھی جلد رہائی نصیب ہوگی ۔ گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ عبدالمتین کی مقدمہ سے باعزت رہائی سے یہ ثابت ہوتا ہی کہ کس طرح انسداددہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس ) بنا کسی پختہ ثبوت کے مسلم نوجوانوں کو پریشان کرتی ہے اور انہیں حراست میں لیکر زدوکوب کرتی ہے ۔خصوصی مکوکا عدالت میں ملزم کی پیروی کے لیئے جمعیۃ علماء نے وکلاء کی ایک ٹیم کھڑی کی تھی جس کی سربراہی ایڈوکیٹ شریف شیخ نے کی جس میں ایڈوکیٹ عبدالمتین ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ آصف نقوی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری ، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے ،ایڈوکیٹ چراغ شاہ ،ایڈوکیٹ افضل نواز و دیگر شامل تھے ۔واضح رہے کہ ملزم عبدالمتین عرف فاروق پر الزام ہیکہ اس نے حوالہ کے ذریعہ انڈین مجاہدین نامی مشتبہ دہشت گرد تنظیم کے رکن یاسین بھٹکل کو دس لاکھ روپئے فراہم کیئے تھے جس کا استعمال 137 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے دوران کیا گیا تھا ۔

...


Advertisment

Advertisment