Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 05:51 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

بی جے پی سرکار کشمیر کو ترقی و خوشحالی کی بلندیوں پر لے جائیگی: مودی

 

سری نگر،8 دسمبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بی جے پی سرکار کشمیر کو ترقی اور خوشحالی کی بلندیوں پر لے جائیگی۔ انہوں نے ایک بار پھر کشمیری عوام کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ اْن خوابوں کو ضرور پورا کریں گے جن خوابوں کو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے دیکھا تھا۔ مسٹر مودی نے بے روزگار ی سے نمٹنے اور کشمیر کی اقتصادی بہتری کیلئے کشمیر کے سیاحتی شعبے کے فروغ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اِس کی جانب خصوصی توجہ دینے کا عزم کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر مفتی اور عبداللہ خاندان کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم سری نگر کے انتہائی سیکورٹی زون میں واقع شیر کشمیر کرکٹ اسٹیدیم میں بی جے پی امیدواروں کے حق میں انتخابی ریلی سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ 1983 کے بعد پہلی بار اس اسٹیڈیم میں کسی وزیر اعظم نے تقریر کرنے کی ہمت کی۔مسٹر مودی نے کہا کہ انتخابات کی گہما گہمی اب شروع ہوئی لیکن میں تب سے کشمیر آرہا ہوں جب سے مرکز میں ہماری سرکار بنی۔ انہوں نے کہا کہ میں جولائی ، اگست، ستمبر، اکتوبر ، نومبر اور اب دسمبر میں بھی آگیا۔ انہوں نے کہا کہ میں 2014 میں آیا اور 2015 میں بھی آؤں گا۔ وزیر اعظم نے کہا میں یہاں کشمیریوں کا دکھ بانٹنے کیلئے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے مجھے بے پناہ پیار دیا۔ اْس سے بڑھ کر مجھے اور کیا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب میری ذمہ داری ہے کہ میں اس پیار کا صلہ آپ کو دوں۔اگرچہ پارٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیر اعظم کی ریلی میں ایک لاکھ سے زائد افراد شرکت کریں گے تاہم ذرائع کے مطابق اسٹیڈیم میں شرکاء کی تعداد پندرہ ہزار کے قریب تھی۔ مسٹر مودی نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایک اچھی شروعات کی تھی اور جو خواب انہوں نے دیکھا تھا میں اْسے ضرور پورا کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت کی بات کی تھی اور میں اْن ہی اصولوں پر یہاں ترقی لاؤں گا۔ وزیر اعظم نے کشمیر میں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں فوج و پولیس کے جوانوں نے اپنی قیمتی جانیں قربان کیں۔ ساتھ ساتھ تشدد کے واقعات میں بے گناہ لوگ بھی مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل تلافی نقصان ہے اور میں آپ کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہوں۔ آپ کی مصیبت میری مصیبت ہے۔ مسٹر مودی نے ایک بار پھر مفتی اور عبداللہ خاندانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ نے کشمیر میں صرف باپ بیٹے اور باپ بیٹی کی سرکاریں دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اْن لوگوں نے اپنے لئے سب کچھ کیا لیکن آپ کیلئے کچھ نہیں کیا۔ وزیر اعظم نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کو ایک بار خدمت کا موقع دیں۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ اپنی پوری سرکار کو کشمیر کے لوگوں کی خدمت پر لگائیں گے۔انہوں نے اسٹیج پر بیٹھے تمام بی جے پی امیدواروں کو ڈائس کے سامنے بلاکر کہا کہ میں آپ سب (ریلی کے شرکاء ) سے گذارش کرتا ہوں کہ میرے اِن امیدواروں کو کامیابی سے ہمکنار کریں اور مجھے خدمت کا موقع دیں۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ کشمیر کے میرے پیارے بھائیوں اور بہنوں جو پیار آپ نے مجھے دیا ، میں اْس کو کبھی فراموش نہیں کروں گا۔ میں آپ کو بھروسہ دلانا چاہتا ہوں کہ میں اِس پیار کو سود سمیت واپس لوٹاؤں گا۔ میں اس پیار کو ترقی کی صورت میں آپ کو واپس لوٹاؤں گا۔‘‘ انہوں نے کشمیری نوجوانوں کی بے روزگاری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے پریشانی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ اْن کا کہنا تھا کہ یہاں کے سیاحتی صنعت کو اگر فروغ دیا جاتا ہے تو یہاں بے روزگاری کا نام ونشاں ہی نہیں رہے گا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ کشمیر کے سرسبز جنگل، شہرہ آفاق ڈل جھیل، یہاں کی دستکاریاں اور یہاں کا زعفران دوسری ریاستوں اور غیر ملکی سیاحوں کو یہاں آنے پر مجبور کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے نوجوانوں کو یہاں ہی روزی روٹی ملتی تھی۔وزیر اعظم نے سیاحت کے شعبے کو ترقی کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں لوگ چھٹیاں منانے کیلئے سنگاپور اور دوسرے ممالک کا رْخ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کشمیر سے بھی دنیا میں کوئی اور خوبصورت جگہ ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ جب کشمیر میں نامساعد حالات کی وجہ سے سیاحت کا شعبہ ختم ہوچکا تھا تو مجھے کشمیر آنے کا موقع ملا۔ میں ڈل جھیل کی سیر کیلئے نکلا۔ ڈل جھیل میں مجھے کچھ سیاح ملے جنہوں نے میرے پیر چھوئے۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ سیاح گجرات سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بے حد مسرت ہوئی تھی کہ گجرات کے لوگ نامساعد حالات کی پرواہ کئے بغیر کشمیر کی سیر کو آتے ہیں۔ مسٹر مودی نے کہا کہ سیاحت سے غریب سے غریب تر لوگ روزی روٹی کما سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ ایک چائے بیچنے والا بھی روزی روٹی کما سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ایسے دلکش اور خوبصورت علاقے ہیں اگر اْن تک راستے بنائے جاتے ہیں اور دوسرے تعمیری ڈھانچے تعمیر کئے جاتے ہیں تو وہ لاکھوں سیاحوں کیلئے دلکشی کا سامان فراہم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کشمیر میں مزید بجلی پروجیکٹ تعمیر کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کا پانی پورے ہندوستان کو روشنی دے سکتا ہے۔ کشمیر کے پانی سے پورا ہندوستان روشن ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں چھوٹے چھوٹے بجلی پروجیکٹ تعمیر ہونے چاہئیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایک ہی راستہ ہے جس سے ہم سب مستفید ہوسکتے ہیں اور وہ ترقی کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ترقی ہمیں مصیبتوں سے باہر نکال سکتی ہے۔ مسٹر مودی نے کشمیر میں ستمبر کے مہینے میں آنے والے سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب یہاں سیلاب آیا تو یہاں کی سرکار سوئی ہوئی تھی۔ میں فوراً کشمیر آپہنچا اور یہاں میں نے ایک ہزار کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے اعلان سے لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بھروسہ دلانا چاہوں گا کہ سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دیوالی کا تہوار ہر ایک شخص اپنے خاندان کے ساتھ مناتا ہے۔ لیکن میں نے دیوالی نہیں منائی بلکہ اْس دن آپ کے بیچ رہا اور آپ کے دکھ درد سنے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے سیلاب متاثرین ملے جنہوں نے مجھے کہا کہ سیلاب متاثرین کیلئے مختص کی جانے والی رقم یہاں کی سرکار کو دینے کے بجائے راست متاثرین کے بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے۔ میں حیرت زدہ رہ گیا کہ یہاں کے لوگوں کو اپنی حکومت سے زیادہ مودی پر بھروسہ ہے۔ وزیر اعظم نے ایک بار پھر گجرات کے کچھ ضلع کی مثال پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ میں جب گجرات کا وزیر اعلیٰ بناتو مجھے زلزلے سے زمین بوس ہوچکے ضلع کچھ جانے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں سب سے زیادہ مسلمان ضلع کچھ میں ہی رہتے ہیں اور ضلع کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ جو بھی سیاستدان اس ضلع میں آتا ہے تو وہ صرف پاکستان اور سرحد کی بات کرتا ہے لیکن میں نے عزم کرلیا میں نہ تو سرحد اور نہ ہی پاکستان کی بات کروں گا ۔ کروں گا تو صرف ترقی کی بات کروں گا۔انہوں نے کہا کہ میں نے ضلع کچھ میں ایک کے بعد ایک ترقیاتی کام انجام دیئے۔ جو ضلع 2001 کے زلزلے میں زمین بوس ہوچکا تھا آج گجرات کا ایک ترقی یافتہ ضلع ہے۔ مسٹر مودی نے سوالیہ انداز میں کہا کہ جب گجرات کا پسماندہ ضلع کچھ ترقی کرسکتا ہے تو کشمیر کیوں نہیں۔ انہوں نے چھترگام میں دونوجوانوں کی فوج کے ہاتھوں ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 30 برسوں میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دو عام نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعہ کے سلسلے میں فوجی جوانوں کے خلاف فرد جرم عائد کردی گئی۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں ہندوستان کی جے جے کار ہورہی ہے۔ وہ اس لئے کہ ملک میں پہلی بار کسی جماعت نے مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنائی-

 

 

...


Advertisment

Advertisment