Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 02:54 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

پولس کی سانٹھ گانٹھ سے وقف اراضی پر ناجائز تعمیرکاکام جاری

 

دہلی وقف بورڈ کی شرمناک خاموشی سے قبضہ کرنے والوں کے حوصلے بلند* ناجائز تعمیرات رکوانے کیلئے عدالت یا پھر ایم سی ڈی سے سہارا لینا چاہئے: مقامی ایس ایچ او کی دلیل
نثاراحمدخان

نئی دہلی، 6دسمبر (ایس ٹی بیورو)شمالی دہلی کے روشن آرا روڈ پر واقع قدیمی مسجد ودرگاہ شاہ محمدآفاق رحمۃ اللہ علیہ سے متصل وقف بورڈ کی زمین پر کرایے داروں کے ذریعہ ناجائز تعمیر ات کا سلسلہ جاری ہے۔ فضل الرحمن اور ٹینونام کے کرایے دار کے ذریعہ مسلسل تعمیری کام جاری ہے۔ وہیں وقف بورڈ کے افسران اور عہدیداران ہفتہ وار چھٹی منانے میں مصروف ہیں۔ گذشتہ روز بھی وقف بورڈ کے ذمہ داران نے کہاتھا کہ اب توڈیوٹی ختم ہوچکی ہے اور پیر کے روز کام کے اوقات میں اس معاملے کو دیکھیں گے۔ وقف بورڈ کے عہدیداران کی بے حسی نے قوم کوبھی شرمسار کردیاہے اور اوقاف کی جائیداد پر قبضہ کرنے اور ناجائز تعمیرات کو مزید فروغ دینے میں اہم تعاون کرنے جیسارویہ سامنے آرہاہے۔مسجد ودرگاہ کے داخلی دراوزہ کے سامنے فضل الرحمن نامی ایک کرایے دار نے تقریباً تیسرا فلور تیار کرلیاہے اور اس میں صرف چھت ڈھلنا باقی ہے جبکہ ٹینو کا دوسرافلور تیارہونے کے مرحلے میں ہے۔اطلاع کے مطابق فضل الرحمن اور ٹینو دونوں گراؤنڈ فلور کے کرایے دار ہیں، مگر اب وہ وقف کی زمین پر قبضہ کرنے کی غرض سے مسلسل تعمیراتی کام انجام دے رہے ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ حالانکہ گذشتہ روز سماجی کارکن حافظ جاوید نے مداخلت کرکے ناجائز تعمیری کام رکوادیا تھا، لیکن خبر ہے کہ آج صبح کرایے داروں نے پھر تعمیری کام شروع کرادیاہے اور آج دن میں ایک بار پھر نمازیوں کے اعتراض کئے جانے کے بعد ناجائز قبضہ کرنے والوں کے درمیان تو تو میں میں ہوئی ہے۔وہیں مقامی لوگ باربار پولس کے چکر لگارہے ہیں۔ حالانکہ ایس ایچ او نے پولس اہلکاروں کو بھیجا بھی تھا، مگرپولس کے لوٹنے کے بعد تعمیری کام دوبارہ شروع کردیاجاتا ہے۔ فضل الرحمن اور ٹینو پر پولس کا کوئی خوف نہیں ہے اور پولس بھی ان کیخلاف کوئی سخت کارروائی نہیں کررہی ہے۔ مسجد کمیٹی کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناجائز قبضہ کرنے والوں سے پولس کا خفیہ سمجھوتہ ہوگیاہے اور وہ بغیر کسی خوف کے اپناکام جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس معاملے میں دہلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر خورشید فاروقی نے آج پھر وہی بات دوہرائی کہ ہم ورکنگ ڈے میں دفتر میں بیٹھ کرہی کوئی کام کرسکتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی عملہ نہیں ہے جسے بھیج کر معاملے کو دیکھ سکیں۔ مسٹرفاروقی نے یہ بھی کہاکہ اس معاملے کی جانکاری وقف بورڈ کو نہیں ہے، مگر اب ہمیں اطلاع ملی ہے تواس بارے میں پیر کے روز ہی کوئی بات ہوسکتی ہے اور اسی دن ہم طے کریں گے کہ اس میں کیاکارروائی جاسکتی ہے۔ جبکہ مقامی تھانہ کے ایس ایچ او نے وقف بورڈ کو ہی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے بورڈ پر کوئی کارروائی نہ کرنے کاالزام عائد کیاہے۔ ایس ایچ او سے جب نمائندہ نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہاکہ پولس اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کرسکتی ہے۔ ویسے ہم نے وہاں پر تعمیری کام کو رکوادیاہے جبکہ گذشتہ روز ایم سی ڈی کو انفارم کردیاتھا، مگر وہ لوگ نہیں آئے تو اس میں پولس کیاکرسکتی ہے۔ وقف بورڈ کے ذریعہ تعمیرات رکوانے سے متعلق درخواست کے سوال پر ایس ایچ او نے کہاکہ اگر وقف بورڈ نے تھانہ میں ایک ماہ قبل درخواست دی تھی تو کیا پھر انہوں نے کورٹ یا ایم سی ڈی کا سہارا لیا؟ انہوں نے کہاکہ اگر وقف بورڈ ناجائز تعمیرات نہیں چاہتی ہے تو اسے ایم سی ڈی سے رابطہ کرنا چاہئے یا پھر کورٹ کا سہارا لینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ تعمیرات رکوانے کا کام پولس کے پاس نہیں ہے اور لوگ ایم سی ڈی یا کورٹ کا سہارا لے سکتے ہیں جبکہ سبھی لوگ پولس کو بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایس ایچ او نے یہ بھی کہاکہ ہم نے پولس بھیج کر وہاں کام رکوادیا ہے، مگر وقف بورڈ کو یامسجد کمیٹی کے لوگوں کو ایم سی ڈی یاکورٹ کا سہارا لینا چاہئے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment