Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 05:59 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سرکاری اسکولوں سے غیرحاضر165 اساتذہ پر کارروائی کا حکم

 

کارروائی نہ ہوئی تو متعلقہ افسران کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا:ڈائریکٹر جنرل تعلیم

نون الف ہاشمی

دہرہ دون(اتراکھنڈ)،5؍دسمبر(ایس ٹی بیورو)۔اتراکھنڈکے محکمہ تعلیم نے گزشتہ برسوں میں سرکاری تعلیمی اداروں سے غائب پائے گئے 165 اساتذہ پر کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ان اساتذہ پر طویل عرصے سے اپنے اسکولوں میں حاضر نہیں ہونے کی وجہ سے کارروائی زیرغور تھی، مگر اب تک صرف 15 مقدمات میں ہی حتمی فیصلہ لیا گیا ہے، جس میں چار کی بحالی بھی شامل ہے، کارروائی کی زد میں آئے اساتذہ میں سے 15 پرملازمت ختم کئے جانے کی کارروائی ہونی ہے، جبکہ 52 کو معطل کیا جانا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل تعلیم رادھیکا جھا نے اب تک آخری کارروائی نہ ہونے کو موردالزام اساتذہ کو بچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے واضح حکم دیئے ہیں کہ 31 دسمبر تک تمام معاملات میں حتمی فیصلہ لیا جائے، اس کے بعد بھی کارروائی نہ ہوئی تو متعلقہ افسران کی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ دیگر اساتذہ کے معاملے یا تو کورٹ کی سطح پر زیر التوا ہیں یا پھر ان کے خلاف چارج شیٹ جاری کئے گئے ہیں۔ رادھیکا جھا نے آج ان اساتذہ کے خلاف آخری کارروائی کرنے کا حکم دیاہے۔ غائب ہونے والے اساتذہ کی حقیقی تعداد 169 تھی، مگر تحقیقات کے بعد چار کو بحال کرنے کا فیصلہ لیا جا چکا ہے۔ غائب چل رہے اساتذہ میں سے 61 ترجمان ہیں، جبکہ 108 ایلٹی گریڈ کے معاون اساتذہ ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل نے اس فہرست سے الگ 11 دیگر ترجمانوں کے خلاف بھی کارروائی کو کہا ہے، جو الگ الگ وقت پر اپنے اسکولوں سے غیرحاضر رہے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل کے دفتر کی جانب سے گزشتہ نومبر میں 85 اساتذہ کے خلاف کی گئی کارروائی سے آگاہ کرانے کو کہا تھا،لیکن ایڈیشنل ڈائریکٹر گڑھوال اور کماؤں کے دفاتر نے یہ معلومات فراہم نہیں کرائی۔رادھیکا جھا نے اس پر گہری ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کی گئی کارروائی پر حتمی فیصلہ لیتے ہوئے ان کے دفتر کو آگاہ کرانے کی ہدایات دی ہیں۔غیرحاضر پائے گئے ان اساتذہ میں سے ملازمت ختم ہونے کی زد میں آنے والے نو استاد ایلٹی گریڈ کے ہیں تو چھ ترجمان ہیں۔ اسی طرح معطلی کے دائرے میں ایلٹی کے 46 اور ترجمان چھ استاد ہیں۔ اس کے علاوہ 10 افراد کو الزامی خط دیئے گئے ہیں اور تین نے نوکری چھوڑنے کو درخواست دی ہے۔ رادھیکاجھا نے ڈائریکٹر و ایڈیشنل ڈائریکٹرز کو واضح کہا ہے کہ گزشتہ برسوں سے التوامیں اس کارروائی کو فوری طور حتمی شکل دیا جائے تاکہ خالی عہدوں پر بھرتی کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر افسران کو پھٹکاربھی لگائی کہ کئی معاملوں میں کارروائی یا نوٹس دینے کی باتیں نہیں چلے گی۔ انہوں نے اسے صاف طور پر حکام کی طرف سے کارروائی سے بچنے کی منشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ حتمی فیصلہ لیتے ہوئے ہر حال میں ان کو 31 دسمبر تک واقف کرائیں۔انہوں نے افسران کو ہدایات دی کہ اگر طویل عرصے سے کوئی استادغیرحاضر ہے تو اسے بھی فہرست میں شامل کرکے کارروائی کریں۔ اساتذہ کی غیر حاضری کے معاملے میں محکمہ تعلیم نے اب کسی طرح کی رعایت نہ برتنے کی ٹھان لی ہے۔ تمام تقرری افسران کو ہدایات دی ہے کہ وہ اس ماہ اپنے ماتحت ایسے اساتذہ کی فہرست فراہم کر لیں، جو طویل عرصے سے غیرحاضر چل رہے ہیں۔ افسران کو یہ معلومات سرٹیفکیٹ کے طور پر دستیاب کرانی ہوگی۔ اس کے بعد اگر معائنہ کے دوران کوئی ایسا معاملہ پکڑا گیا تو سرٹیفکیٹ دینے والا افسر بھی مجرم سمجھا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل تعلیم رادھیکا جھا نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر حال میں اس کی ہدایات کو سختی سے عمل کریں۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment