Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 03:14 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

وقف کی زمین پر ناجائز تعمیرات پروقفبورڈ خاموش

 

روشن آرا روڈ پر واقع مسجد ودرگاہ شاہ محمدآفاق احاطے پر اپنوں کی بری نظر،  کرایے دار فضل الرحمن اورٹینو قبضہ کرنے کی کوشش میں،  حافظ جاوید نے مداخلت کرکے رکوائی ناجائز تعمیرات،  مسجد کے صحن میں مندر بھی بن چکا ہے!
نثار احمد خان
نئی دہلی، 5دسمبر (ایس ٹی بیورو) وقف بورڈ کی زمین پر ناجائز قبضے کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایک اور وقف آراضی پر تقریباً ایک ماہ سے ناجائز تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے لیکن مسلسل شکایات کے بعد بھی وقف بورڈ نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی ہے جبکہ ناجائز تعمیر کرنے والے شخص کا کہناہے کہ وہ وقف بورڈ کی اجازت سے ہی ہم تعمیری کام کررہا ہے۔ معاملہ روشن آرا روڈ پر واقع مسجد اور درگاہ شاہ محمدآفاق رحمۃ اللہ علیہ کا ہے جب وقف بورڈ کے کرایے دار فضل الرحمن اور ٹینو کے نام دولوگ ناجائز تعمیرات کررہے ہیں۔ مسجد کمیٹی کے ذریعہ ناجائز تعمیرات پر اعتراض کئے جانے کے بعد یہ لوگ نمازیوں پر ماحول خراب کرنے کاالزام عائد کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فضل الرحمن نامی شخص جو خودبھی وقف بورڈ کا کرایے دار ہے اس نے دوسرے طبقے کے لوگوں کے ساتھ مل کرناجائزتعمیرات کو آگے بڑھانے میں مدد کررہا ہے۔ حالانکہ اس معاملے کے گرم ہونے کے بعد معروف سماجی کارکن حافظ جاوید نے مداخلت کرتے ہوئے ناجائز تعمیر کو رکوادیاہے۔ اطلاع یہ بھی ملی ہے کہ یہاں پر غیر مسلموں کے ذریعہ پہلے ناجائز تعمیرات کا سلسلہ شروع کیاگیا تھا، مگر مقامی مسلمانوں کی مداخلت کے بعد وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے۔ لیکن اب منصوبہ بند طریقے سے یہاں پر تعمیراتی کام کرکے ذاتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ فضل الرحمن نے دوکان کے اوپر گودام بنانا شروع کردیاہے اور تقریباً نصف حصہ تیار بھی ہوچکاہے، مگر وقف بورڈ کے ذریعہ کسی قسم کی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ مسجد کے امام محمدیوسف نے کہاکہ وقف بورڈ کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنا غلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ غیروں کی نظربد تو پہلے سے ہی اوقاف کی جائیداد پررہی ہیں، مگر اب اپنوں کے ذریعہ بھی اس طرح کی حرکت انتہائی مایوس کن ہے۔ مسجد کمیٹی کے رکن شہزاد سے جب رابطہ کیاگیاتو انہوں نے کہاکہ وقف بورڈ سے شکایت کی گئی ہے ، پولس نے بھی کارروائی کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیاتھا کہ ہم تعمیراتی کام کو روکنے کے اہل نہیں ہیں۔ مگر ہم امید کرتے ہیں کہ وقف بورڈ جلد ازجلد مداخلت کرکے اس ناجائزتعمیراتی کام کورکوائے گا۔ جبکہ کرایے دار اور ناجائز تعمیر کرنے والے فضل الرحمن نے انتہائی پرجوش انداز میں کہا کہ ہمیں وقف بورڈ کی اجازت حاصل ہے، اسی لئے ہم تعمیر کررہے ہیں، مگر جب ان سے اس کااجازت نامہ طلب کیاگیا تو انہوں نے بتایا کہ اجازت نامہ سے متعلق میرے گھر کے دوسرے افراد بتاسکتے ہیں۔ وہیں فضل الرحمن نے کہاکہ نمازیوں سے ہی کرایے داروں کو پریشانی ہورہی ہے جبکہ ان کاکام صرف نماز اداکرناہونا چاہئے، اندروانی معاملے میں دخل اندازی کرنا نہیں۔اس پورے معاملے کے سامنے آنے کے بعد حافظ جاوید نے وقف جائیداد کوبچانے کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے مداخلت کی اور ناجائز تعمیرات کورکوادیاہے۔ اس سلسلے میں جب وقف بورڈ کے سکریٹری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ علیل ہیں اور وہ بات نہیں کرپائیں گے۔ جب وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر خورشید فاروقی سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے کہاکہ ناجائز تعمیرات سے متعلق ہمیں اطلاع ملی تھی، جس کے بعد ہم نے ایس ایچ او کو خط لکھ کر اسے رکوانے کی گذارش کی تھی، مگر اب ہفتہ اور اتوار چھٹی کا دن ہے جس کی بناء پر پیر کے روز ہی اس معاملے کو دیکھاجاسکتاہے۔ نامہ نگار نے جب خورشید فاروقی سے سوال کیا کہ دوروز میں تو پورا گودام تیار ہوجائے گا تو انہوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کرلئے اور کہاکہ کام کے ہی ہم اس معاملے میں کچھ کرسکتے ہیں۔ جبکہ فضل الرحمن کے ذریعہ اجازت حاصل ہونے کو انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہاکہ وقف بورڈ نے کسی کو کوئی اجازت نہیں دی ہے اور وقف بورڈ کی زمین پر ناجائز تعمیرات کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment