Today: Thursday, November, 15, 2018 Last Update: 04:08 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

تعلیم کی کمی اور عدم تحفظ کا جذبہ ہی اقلیتوں کی پسماندگی کی اہم وجہ

 

شعبہ کامرس کے زیرِ اہتمام ’’ ہندوستان میں اقلیتی فرقہ کا مکمل فروغ اور مین اسٹریم میں ان کی شمولیت‘موضوع پر دوروزہ قومی سیمینار کے افتتاحی تقریب میں مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور میں سکریٹری ڈاکٹر اروند مایا رام کی وضاحت

فہمیدہ پروین

علی گڑھ، 04 ؍دسمبر (ایس ٹی بیورو) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کامرس شعبہ کے زیرِ اہتمام ’’ ہندوستان میں اقلیتی ( مسلم ) فرقہ کا مکمل فروغ اور مین اسٹریم میں ان کی شمولیت‘‘ موضوع پر دو روزہ قومی سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور میں سکریٹری ڈاکٹر اروند مایا رام نے کہا کہ اقلیتوں میں تعلیم کی کمی، درمیان میں ہی تعلیم چھوڑ دینے، صنعت کی کمی اور عدم تحفظ کا جذبہ ہی ان کی ناداری اور پسماندگی کی اہم وجوہات ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت برائے اقلیتی امور ان کو ملک کے قومی دھارے سے جوڑنے اور سماج کے کمزور طبقات کو اوپر اٹھانے کے لئے خصوصی پروگرام شروع کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا سکل ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور’’ سیکھو اور کماؤ ‘‘اسکیم کے تحت36ہزار اقلیتی نوجوانوں کو تربیت دی گئی ہے۔ڈاکٹر اروند مایا رام نے کہا کہ ان کی وزارت نے دو نئی ا سکیمیں شروع کی ہیں جن میں اسکلس اور ٹریننگ کو اپگریڈ کرنا اور ہماری وراثت کو محفوظ رکھنا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ وزرات برائے اقلیتی امورکی یہ بھی کوشش ہے کہ ہندوستانی اقتصادی نظام میں جو تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں ان کا فائدہ اقلیتوں کو بھی پہنچے اور وزیرِ اعظم کی ہدایت’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ میں حصہ داری ہو۔نلسار قانون یونیورسٹی حیدرآباد کے وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفےٰ نے کہا کہ ہندوستانی آئین نے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا ہے اور کوئی بھی حکومت ہندوستانی آئین میں دئے بنیادی حقوق کو ختم نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق اکثریتی فرقہ کے رحم وکرم کے محتاج نہیں ۔پروفیسر فیضان مصطفےٰ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت سے اقلیتوں کو جو خوف تھا وہ اب سامنے آنے لگا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا جو بھی لیڈر بے بنیاد اور مشتعل کرنے والے بیانات دیتا ہے ا سی کو وزرت میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا’’ بھگوا کرن‘‘ کیا جا رہا ہے جس کے ثبوت کے طور پر سنسکرت کو تیسری زبان بنانے کی کوشش اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا معاملہ پیش کیا جا سکتا ہے۔پروفیسر فیضان مصطفےٰ نے کہا کہ مسلمانوں پر خوشامدانہ پالیسی کا جو الزام عائد کیا جا رہا ہے وہ سچر کمیٹی نے مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔ہندوستانی مسلمان ہر میدان میں پچھڑے جا رہے ہیں۔ انہیں تعلیم کے بھر پور مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔سابق رکن پارلیامنٹ محمد ادیب نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی فلاح کے لئے جو رقم دی گئی اس پر عمل نہیں ہوا۔ اور مسلمانوں میں خوف کا جذبہ پیدا کیا جا رہا ہے۔انہوں نے قومی اقلیتی کمیشن میں پانچ اراکین کی جگہ دس اراکین بنانے اور اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کئے جانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اور اقلیتوں سے متعلق رقم کو دوسری جگہ خرچ کیا جا رہا ہے۔افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پرو وائس چانسلر برگیڈیئر ایس احمد علی نے کہا کہ برطانوی دورِ حکومت میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کے بیج بوئے گئے اور1992میں بابری مسجد کے معاملے میں اقلیتی فرقہ اور اکثریتی فرقہ کے درمیان کدورت بڑھی۔انہوں نے کہا کہ وہ فوج میں رہے ہیں اور ان کے ساتھ کبھی بھی کسی بھی قسم کی تفریق نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آج سترہ ریاستوں میں سے گیارہ ریاستوں میں کوئی بھی مسلمانوں کی حصہ داری نہیں ہے۔برگیڈیئر علی نے کہا کہ آج مسلمانوں کی جو صورتِ حال ہے اس کے لئے کچھ حد تک وہ خود اور کچھ حد تک نظام بھی قصور وار ہے۔ پرو وائس چانسلر نے کہا کہ نوجوانوں کو خود کے روزگار کے مواقع مہیا کرانے اور ان میں صنعت کو فروغ دینے کے لئے اے ایم یو نے بی واک ( بیچلر آف ووکیشن) کورس شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب مسلمانوں میں بھی تعلیم کے تئیں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ سیمینار کے آرگنائزنگ سکریٹری اور کامرس فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ایم محسن خاں نے کہا کہ سیمینار کے انعقاد کا مقصداقلیتوں کی ترقی کے سماجی اور معاشی اشارات پر مبنی اعداد وشمار کی مدد سے ترقی کا ایک عملی خاکہ مرتب کرنا ہے۔ ڈاکٹر آسیہ چودھری نے نظامت کے فرائض انجام دئے جبکہ ڈاکٹر محمد شمیم نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔شعبۂ کامرس کے سربراہ پروفیسر صبغت اللہ فاروقی نے ملک بھر سے آئے مندوبین کا خیر مقدم کیا۔

 

...


Advertisment

Advertisment