Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 05:01 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

بی جے پی حکومت کو چیلنج کرنے والی عرضداشت مسترد

 

سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا نسیم خان کا فیصلہ

ممبئی4 دسمبر (یو این آئی )مہاراشٹر کانگریس کو آج اس وقت جھٹکا لگا جب ممبئی ہائی کورٹ نے مہاراشٹر کی بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت کی آئینی حیثیت کو کانگریس اراکین اسمبلی کی جانب سے چیلنج کرنے والی عرضداشت کو مسترد کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی تشکیل کو عین قانون کے مطابق بتایا ہے ۔جسٹس وی ایم کناڈے اور جسٹس پربھو دیسائی پر مشتمل بینچ نے یہ فیصلہ عرض گزار کانگریس اراکین اسمبلی کی جانب سے ریاست کے سابق کابینی وزیر و سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان اور دیگر کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کی سماعت مکمل ہونے پر کیا ۔
عدالت نے اپنے ابتدائی حکم نامہ میں کہا کہ عرضداشتوں کو قانون کے رو سے مسترد کیا جاتا ہے ۔واضح رہے کہ نسیم خان کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو برخاست کیا جائے کیوں کہ12 نومبر کو جس دن ریاستی حکومت نے مبینہ طور پر اکثریت ثابت کی تھی اس دن اسپیکر نے رائے شماری کرائے بغیر ہی اسپیکر نے بی جے پی کی جانب سے اکثریت ثابت کر دیئے جانے کا غیر قانونی اعلان صادرکیا تھا۔سپریم کورٹ کے نامور وکیل ٹی این ر اندھیارنجنا اور سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے نسیم خان کی پیروی کی تھی اور انہوں نے عرضداشت کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا تھا کہ وزیر اعلی دیوندر فڑنویس کی قیادت والی حکومت کو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔انہوں نے اس ضمن میں ممبئی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے کئی ایک فیصلوں کا حوالہ بھی دیا تھا۔جسٹس کناڈے نے اس ضمن میں داخل کردہ تین مفاد عامہ کی عرضداشت کو بھی مسترد کئے جانے کا حکم جاری کیا۔
عرضداشت کی ریاستی حکومت کے وکلا نے سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی اور ریاستی ایڈوکیٹ جنرل منوہر نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ عرضداشتوں کو مسترد کر دیا جائے کیونکہ حالیہ انتخابات میں بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تھی اور اسے حکومت سازی کا حق حاصل تھا ۔انہوں نے سپریم کورٹ اور مختلف عدالتوں کے فیصلے ممبئی ہائی کورٹ کے روبرو پیش کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کی تھی کہ صوتی ووٹوں کے ذریعے اکثریت ثابت کرنے کی روایت رہی ہے اور ماضی میں بھی کئی حکومتوں نے اس طرح سے اکثریت ثابت کی ہے لہذا موجودہ حکومت نے جو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا ہے وہ عین قانون کے مطابق ہے ۔
دوسری جانب ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے مہاراشٹر کی ریاستی حکومت کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضداشت کو مسترد کئے جانے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار سابق کابینی وزیر و سنیئر کانگریس رکن اسمبلی نسیم خان نے اخبار نویسوں سے کیا ۔عرضداشت کے مسترد کئے جانے کے بعد انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ فیصلے کی نقول حاصل کرنے کیلئے انہوں نے عرضداشت داخل کردی ہیں اور فیصلے کے مطالعہ کے بعد ان کے وکلامستقبل کا لائحہ عمل ترتیب دیں گے اور اس ضمن میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی تشکیل ہی صرف غیر قانونی نہیں ہے بلکہ شیوسینا کو کابینہ میں شامل کرنا اور کابینہ میں توسیع کرنا بھی غیر قانونی عمل ہے لہذا ہم جلد ہی سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گے ۔واضح رہے کہ ممبئی ہائی کورٹ میں نسیم خان نے مہاراشٹر کی دیوندر فڈنویس حکومت کے خلاف عرضداشت داخل کی تھی اور عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ موجودہ حکومت کو برخواست کیا جائے کیونکہ اس نے ایوان اسمبلی میں رائے شماری کے ذریعے اکثریت نہیں ثابت کی تھی اور محض صوتی ووٹوں کے مطابق اسپیکر نے اکثریت ثابت کئے جانے کا فیصلہ کیا تھا جو کہ غیر قانونی ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment