Today: Thursday, September, 20, 2018 Last Update: 02:03 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

بابری مسجدکی شہادت ملک کے سیکولرازم اور جمہوریت کیلئے شرمناک: قاسم رسول الیاس

 

چھوٹی بڑی 30جماعتوں نے 6دسمبر کو یوم سیاہ منائے جانے کا اعلان کرتے ہوئے متحدہ ریلی واحتجاج کافیصلہ کیا

نثاراحمدخان

نئی دہلی، 4دسمبر (ایس ٹی بیورو) 6دسمبر 1992تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جس وقت بابری مسجد کو شہید کیا گیاتھا، مگر وہ صرف بابری مسجد کی شہادت نہیں تھی بلکہ کی آئین اور قانون پر حملہ تھا، حالانکہ اس افسوسناک سانحہ کے22سال مکمل ہوچکے ہیں، مگر تک انصاف نہیں مل سکاہے، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اب ملک کی اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو بابری مسجد شہید کرنے کے ملزم ہیں۔ مگر عدلیہ کو چاہئے کہ بابری مسجدکو شہید کرکے نفرت کی آگ سلگانے والوں کو جلد ازجلد سزادی جائے۔ یہ باتیں آج یہاں وومین پریس کلب میں مختلف جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعہ منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر قاسم رسول الیاس نے کہیں۔ اس موقع پر بہت سی تنظیموں کے عہدیداران موجود تھے، جنہوں نے6دسمبر کو جنتر منترپر متحدہ ریلی واحتجاج کرنے کافیصلہ کیاہے۔ قاسم رسول الیاس نے کہاکہ 22سال قبل بابری مسجد شہید کی گئی تھی، مگر آج بھی لوگ انصاف کے منتظر ہیں اور ملک کی سیکولر عوام آج بھی اسے ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منانے کیلئے تیار ہے، چنانچہ عدلیہ کو اس معاملے میں جلد ازجلد اپنا فیصلہ سنانا چاہئے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ آج ملک کی حکمرانی ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو نفرت اور تقسیم کرنے کی سیاست کرتے ہیں، مگر ہمیں اتحاد کامظاہرہ کرتے ہوئے بابری مسجد کو انصاف دلانے تک جدوجہد کرنا چاہئے۔
جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری انتظار نعیم نے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی کیونکہ اس سے صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ ملک وبیرون ملک کے سیکولر عوام نے بھی اسے جمہوریت پر ایک دھبّہ قرار دیاہے۔ انہوں نے کہاکہ 6دسمبر کو جماعت اسلامی ہند مختلف تنظیموں کے ساتھ احتجاج کرے گی اور بابری مسجد کے مقدمے کا نپٹارہ جلد کیاجانا چاہئے۔ اس موقع پر لوک راج سنگٹھن کے صدر ایس راگھون نے کہاکہ بابری مسجد شہادت کا دن ہم سب کیلئے مایوس کن دن ہے اور ہماری تنظیم بھی اس واقعہ کی مذمت کرتی ہے کیونکہ جس وقت یہ سانحہ پیش آیا اس وقت معاملہ عدالت میں تھا۔ انہوں نے کہاکہ بابری مسجد منہدم کیاجانا ملک کی سیکولرازم پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ ایس راگھون نے مزید کہاکہ ملک کی حکومت کو تمام لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے اور اگر وہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو پھر یہ ملک کس سمت اور کہاں جائے گا اس کا تصور کرپانا بھی مشکل ہے۔ معروف سماجی کارکن این ڈی پنچولی نے کہاکہ اکثریتی طبقے کے لوگوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسی کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کا بہتر فارمولہ اپنا یاجارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1987تک بی جے پی کے پاس بابری مسجد کا مدعا نہیں تھا، مگراس نے اقتدار حاصل کرنے کیلئے اسے اپنا مدعا بنالیا۔ این ڈی پنچولی نے کہاکہ ہندوستان تمام مذاہب کے لوگ امن وامان اور اتحاد کے ساتھ رہتے آئے ہیں، مگر بی جے پی ملک کو عراق اور افغانستان بنا ناچاہتی ہے۔ایس ڈی پی آئی کے جنرل سکریٹری حافظ منظور علی نے کہاکہ بابری مسجد کو انصاف ملنے تک ہم احتجاج کرتے رہیں گے اور کسی بھی قیمت پر ہم اس سے سمجھوتہ نہیں کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر لوک راج سنگٹھن کی سچاریتا، سوشلسٹ پارٹی آف انڈیا (کمیونسٹ) کے آرکے شرما، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت عبدالرشید آغوان، پرویز وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment