Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 11:31 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سانسد آدرش گرام یوجناپر چڑھی تعصب کی عینک

 

یوپی کے گاؤں کو گود لینے میں مسلم آبادی کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہے ہیں بی جے پی کے لیڈران

لکھنو3دسمبر(آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت زیادہ تر ممبران پارلیمنٹ نے سانسد آدرش گرام یوجنا کے تحت ایسے گاؤں گود لئے ہیں جہاں مسلم آبادی یا تو ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو نہ ہونے کے برابر۔اوما بھارتی، کلراج مشرا، یوگی آدتیہ ناتھ، سنجیو بالیان اور یہاں تک کی پارٹی کے مسلم چہرے مختار عباس نقوی کی طرف سے گود لئے گاؤں میں مسلم آبادی نہیں ہے۔راج ناتھ سنگھ اور ورون گاندھی کے گود لئے گاؤں میں مسلم آبادی نصف فیصد سے کم ہے۔ویسے تو بنارس میں 10لاکھ مسلم رہتے ہیں لیکن ملک کے وزیر اعظم نے جو گاؤں گود لیا اس میں کوئی مسلمان نہیں رہتا ہے۔یہ آر ایس ایس کا گڑھ ہے اور گزشتہ 35سال سے یہاں آر ایس ایس کی شاخ لگتی ہے۔آر ایس ایس اس گاؤں کو پی ایم کی طرف سے گود لئے جانے سے 12سال پہلے گود لے چکا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے لکھنو کا بینتی گاؤں گود لیا تو خوشی میں گاؤں میں گھنٹے گھڑیال بجے۔ رفیق اس گاؤں میں ایسے ہی مسلمان ہیں جیسے بی جے پی میں مختار عباس نقوی۔15ہزار کی آبادی میں رفیق اور ان کے بھائی اکیلے مسلمان ہیں۔
گاؤں میں بھلے اور مسلم نہ ہوں لیکن بینتی گاؤں کا نام ہی ایک صوفی فقیر بینتی شاہ بابا کے نام پر پڑا ہے۔ان کا مزار اب مٹنے کو ہے۔رفیق سے جب ہم نے پوچھا کہ آپ راجناتھ جی سے کیا چاہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ مزار ٹوٹا پھوٹا پڑا ہے، اسے بنوا دیں تو لوگ یہاں دور دور سے بھی آیا کریں گے۔گاؤں کے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ مزار ٹھیک ہو جائے۔
راج ناتھ سنگھ یوپی کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں اور ان کی شبیہ امتیاز کرنے والے لیڈر کی نہیں رہی ہے تو ہم یہ مان لیتے ہیں کہ یہ محض اتفاق ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بی جے پی کے زیادہ تر ممبران پارلیمنٹ کی طرف سے گود لئے گاؤں میں یہ اتفاق بار بار پایا جا رہا ہے۔یوپی کی 13لوک سبھا سیٹوں پر مسلم آبادی 30-52فیصد تک ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان سیٹوں پر بھی بی جے پی ممبران پارلیمنٹ نے جو گاؤں گود لئے ہیں ان میں بھی مسلم یا تو نہیں ہیں یا نہ کے برابر ہیں۔بہت کم ایسے گاؤں گود لئے گئے ہیں جہاں مسلم آبادی نظر آتی ہے۔مثال کے طور پر مظفر نگر سیٹ پر مسلم آبادی 37فیصد ہے لیکن ایم پی سنجیو بالیان کے رسو ل پور گاؤں میں کوئی مسلمان نہیں ہے۔رام پور میں 52فیصد مسلمان ہیں لیکن مختار عباس نقوی کے مان پور اوجھا گاؤں میں کوئی مسلمان نہیں ہے۔کیرانہ میں تقریبا 39فیصد مسلمان ہیں لیکن حکم سنگھ کے سکھیڑی گاؤں میں کوئی مسلمان نہیں ہے۔سنبھل میں تقریبا 46فیصد مسلمان ہیں لیکن ایم پی ستیہ پال سنگھ کے لہراواں گاؤں میں صرف 1.33فیصد مسلمان ہیں۔شراوستی میں 32فیصد مسلمان ہیں لیکن ددھن مشرا کے جے چندپور گاؤں میں 2.33فیصد مسلمان ہیں۔سہارنپور میں 39فیصد مسلمان ہیں لیکن راگھو لکھن پال کے خوشحالی پور گاؤں میں صرف 3.5فیصد مسلم آبادی ہے۔میرٹھ میں 31فیصد مسلمان ہیں لیکن ایم پی راجندر اگروال کی طرف سے گود لئے بھگوان پور گاؤں میں صرف 3.75فیصد مسلمان ہیں۔بی جے پی کے دوسرے بڑے لیڈروں اوما بھارتی، کلراج مشرا اور یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی ایسے گاؤں گود لئے ہیں جن میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔لیکن بی جے پی اسے محض اتفاق بتاتی ہے۔یوپی بی جے پی کے ترجمان وجے پاٹھک کہتے ہیں کہ آپ اس کو ایک اتفاق بھی مان سکتے ہیں کہ قدرتی طور پر رائے آئی اور لاٹری میں جو گاؤں نکلا اسے منتخب کرنا ہی تھا۔اب اتفاق سے اس کی آبادی کیا رہی، کیا حالات رہے وہ الگ بات ہے۔بی جے پی کے اس اتفاق پر ایک پرانا گانا یاد آتا ہے، زندگی اتفاق ہے، کل بھی اتفاق تھی، آج بھی اتفاق ہے۔

 

...


Advertisment

Advertisment