Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 01:09 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

صوبے میں امن وقانون نام کی کوئی چیز نہیں

 

دیوی کنڈ میں واقع راج پیلس میں مغربی زون کی جائزہ اجلاس میں کارکنان سے بی ایس پی قومی جنرل سکریٹری نسیم الدین صدیقی کا خطاب

یاسرعثمانی

دیوبند، 2 دسمبر (ایس ٹی بیورو)بی ایس پی قومی جنرل سکریٹری نسیم الدین صدیقی نے کہا کہ صوبے میں امن و قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور موجودہ وقت میں ریاست میں غنڈوں کی سرکار ہے اور پارٹی کے وزراء بد عنوانیوں میں ملوث ہیں انہوں نے ایس پی سرکار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس سرکار میں جتنا بڑا اپرادھی اتنا بڑا سماجوادی ہے تاہم اس کے برعکس سابقہ سرکار میں پارٹی کی چیف مایاوتی نے بد عنوان اور جرائم کے مرتکبین کو سلاخوں میں بند کرکے جیل میں چکی چلوائی تھی لہذا پارٹی کارکنان آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاری کیلئے ایک بار پھر کمر کس لیں اور جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کام لیں اور فرقہ پرستوں کی سازشوں سے ہوشیار رہیں جو صوبے کے امن و چین خراب کرنے کی شازش کر ر ہیں ،مغربی یوپی انچار ج مسٹر نسیم الدین صدیقی آج یہاں دیوی کنڈ میں واقع راج پیلں میں مغربی زون کی جائزہ اجلاس میں کارکنان سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے ابتدائی کلمات میں سہارنپور اور دیوبند سے اپنی قدیم وابستگی کا اظہار کیا اور حسب روایت دوران خطاب قاری صدیق احمد باندوی ؒ ہتھورا باندہ کے خانوادہ کا اپنے کو ممبر بتایا ۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبے میں غنڈوں کی سرکار ہے لہذا کارکنان ہوش مندی سے کام لیں اس لئے کہ مخالف پارٹیوں کو کوئی ایسا موقع نہ دیں جس سے انہیں کوئی مدعی ہاتھ آئے ،انہوں نے سماجوادی پارٹی سربراہ ملائم سنگھ کو وزیر اعظم نریندر مودی سے خطرناک قراردیتے ہوئے کہا کہ گجرات فساد سے کہیں زیادہ مظفرنگر فساد تھا جو موجودہ سرکار کی منصوبہ بند ساز ش کا نتیجہ ہے اس لئے کہ گودھرا سانحہ ایک بار ہوا لیکن صوبے میں سماجوادی پارٹی کی سرکار آتے ہیں ہنوز تین سو سے زائد فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں ہماری بہو بیٹوں کی عصمتیں نہ صرف تار تار کی گئیں بلکہ حاملہ خاتون کے پیٹ سے بچے کو نکال کر بے رحمی سے قتل کیا گیا انہوں نے موجودہ سرکار میں فسادات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جان جان ہوتی ہے چاہے وہ ہندو کی یا مسلم کی ، سابق وزیر نے واضح طور پر کہا کہ بی ایس پی کے دور اقتدار میں ایک بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا اور سابق وزیر اعلی نے قانون و انتظام سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ، نسیم الدین نے آگے کہا کہ مرکزی میں بی جے پی سرکار آتے ہی مرکزی حکومت آرایس ایس ، بجرنگ د ل ، وشو ہندو پریشد کو آلہ کار بناکر ملک میں فرقہ وارانہ فساد کی منظم سازش رچی جا رہی ہے ،جس سے ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زوردیکر کہا کہ بی جے پی ملک میں فرقہ وارانہ فساد اور سماجوادی پارٹی اترپردیش میں دلت مسلم فسادات کراناچاہتی ہے جو کو ہمیں سمجھنا چاہئے ، انہو ں نے کہا کہ اگر اس جمہوری ملک کا روایتی بھائی چارہ ٹوٹا تو فرقہ پرست سیاستی جماعتیں اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوجائیں گے اور ملک کا امن و سکون خطرہ میں پڑ جائیگا ، انہوں نے فرقہ پرستی سے مقابلہ آرائی کیلئے دلت مسلم اتحاد اور ہم آہنگی پر باربار زوردیا ۔انہوں نے سماجوادی پارٹی میں مسلمانوں کے خلاف منفی پالیسی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں یوپی سے مسلم ممبران پارلمینٹ کا صفایا ہوگیا ہے جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے اور انہوں نے آگاہ کیا کہ مسلمان ہوشمندی کا مظاہرہ کریں اور سماجوادی پارٹی کے بہکاوے میں نہ آئیں کہیں ایسا نہ ہو کی آئند ہ اسمبلی میں بھی ہمارا صفایا ہوجائے ، انہوں نے کہا کہ ایس پی سربراہ ملائم سنگھ یادو کے قول و فعل میں تضاد ہے اس لئے کہ اعظم گڑھ کے ایک گاؤں کو جو ملائم جی نے گود لیا ہے اس میں ایک بھی مسلمان نہیں بلکہ نوے فیصد یادو ضرور ہیں ، اس لئے ملکی سطح پر کانگریس نے مسلمانوں کا استحصال کرتی رہی ہے اور صوبے میں سماجوادی پارٹی اسی راہ پر چل رہی ہے جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، اس موقع پر انہوں نے کالا دھن پر مرکزی حکومت کی جم کر تنقید کی اور اس کو محض بی جے پی کا سیاسی ڈرامہ قراردیا۔ اس موقع پر نسیم الدین صدیقی نے آئندہ اسمبلی انتخاب کیلئے دیوبند سے پارٹی کے امیدوار کی شکل میں گذشتہ اسمبلی الیکشن میں کانگریس کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والے ٹھاکرانل تنور کے نام کا جیسے ہی اعلان کیا تو بی ایس پی کارکنان کے فلک شگاف نعروں سے پورا مجمع گونج اٹھا ، اس موقع پر نسیم الدین صدیقی نے اس فیصلے کو بی ایس پی سربراہ محترمہ مایاوتی کا فیصلہ قراردیا ۔اس موقع پر انہوں نے جم کر مایاوتی کی قصیدہ خوانی کی ۔علاوہ ازیں جانسٹھ رکن اسمبلی مولانا جمیل قاسمی نے کہا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بقاء کیلئے امن پسند لوگ آگے آئیں۔اور صوبے میں فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے والوں سے ہوشیار رہیں ۔آج کافی جوش میں نظر آئے مولانا قاسمی نے کابینی وزیر اعظم خاں کے لیپ ٹیپ پر کئے گئے تبصرے پر جم کر تنقید کی اور کہا کہ ذی شعور اور تعلیم یافتہ خاتون کی اس ملک کو ضرورت ہے ، علاوہ ازیں سابق ایم پی مظفرنگر قارراا ، ممبر اسمبلی روندر مولہو ، انل کمار ، سابع وزیر لیاقت علی ، زونل آرڈینٹر لودھی رام ، منڈل کور ڈینٹر جگپال سنگھ ، ضلع صدر جنیشور پرشاد ، رام نواس وعیرہ نے خطاب کیا اور پارٹی کو مضبوط کرنے کا عہد کیا ، اس دوران تیترتپ پال سنگھ ، فہیم نمبر دار ، سلیم قریشی ، آزاد سنگھ ، ڈاکٹر نقلی سنگھ ، محمد حنیف ، محممد جمال ، فیضان قریشی ، عمران گوڈ ، فیصل نور ، احمد گوڈ سمیت کثیر تعداد میں کارکنان نے شرکت کی ۔اجلاس کی صدارت نسیم الدین صدیقی نے کی اور نظامت نریش گوتم نے کی ۔آخر میں ٹھاکر انل تنور نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

...


Advertisment

Advertisment