Today: Tuesday, September, 25, 2018 Last Update: 06:09 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

آر بی آئی کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں : رگھو ر ام راجن

 

ممبئی، 02 دسمبر(آئی این ایس انڈیا )آر بی آئی کے گورنر رگھو ر ام راجن نے آج منصو بہ بند شرح سود میں یہ کہتے ہوئے کوئی تبدیلی نہیں کی کہ اس میں تبدیلی کرنا اب جلدی بازی ہو گی ۔لیکن انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ اگر افراط زر کے دبا ؤ میں کمی کا رجحا ن بنا رہا اور مالی صورتحال قابو میں رکھنے کے لئے حکومت اپنی طرف سے پہل کرتی رہی تو اگلے سال کی شروعات میں شرح میں کمی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا مانیٹری پالیسی کے رخ میں ابھی کوئی تبدیلی کرنا جلدی باز ی ہو گی ۔اگرچہ اگر افراط زر کا موجودہ رجحا ن اور تو قعات میں تبدیلی برقرار رہتی ہے اور مالی صو رت حا ل حوصلہ افزا رہتی ہے تو اگلے سال مانیٹری پالیسی میں تبدیلی کا رخ اپنایا جا سکتا ہے اور یہ ریگو لر پالیسی ریو یو سلسلہ سے الگ سے بھی کیا جا سکتا ہے۔آر بی آئی کے فیصلے کے مطابق اب ریپو کی شرح 8فیصد پرجبکہ سی آر آر بھی چار فیصد پر بنا رہے گا۔ریپو کی شرح وہ شرح ہوتی ہے جس پر مرکزی بینک کمرشل بینکوں کو ان کی فوری ضرورت کے لئے قرضے دیتا ہے اورسی آر آر بینکوں کی جمع کاوہ حصہ ہے جسے انہیں ریزرو بینک کے کنٹرول میں رکھنا ہوتا ہے اور اس پر انہیں ریزرو بینک سے کوئی سو د نہیں ملتا۔افراط زر میں تیزی کے سلسلے میں راجن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ اور کم ہو گی اور اوسطا 6 فیصد رہے گی۔انہوں نے مانیٹری پالیسی کے دو ما ہی جا ئزہ کے ااجراء کے موقع پر کہا کہ اگلے 12مہینے تک افراط زر میں کچھ تسلسل بنا رہے گا اور موسمی نشیب و فراز کو چھوڑ کر 6 فیصد کے ارد گرد بنی رہے گی اور افراط زر میں کمی کا سلسلہ بھی مؤثر رہے گا۔صارفین کی قیمت کے انڈیکس پر مبنی افراط زر مسلسل پانچویں مہینے گر کر اکتوبر میں 5.52فیصد پر آ گیا تھا ۔یہ بنیادی طور پر گزشتہ سال کی تقا بلی بنیاد کے زیا دہ ہونے کی وجہ سے ہے۔آر بی آئی نے خوردہ افراط زر کو جنوری 2015تک8 فیصد اور جنوری 2016تک 6 فیصد تک محدود رکھنے کا نشا نہ مقر ر کیا ہے۔راجن نے سا بقہ منصو بہ بند اعلان کے وقت کہا تھا کہ 2015کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے 2016کے ہدف کو لے کر خطرے بنا ہوا ہے۔آر بی آئی نے خوردہ افراط زر کے سلسلے میں مارچ 2015کے لئے اندازہ کو8 فیصد سے کم کرکے 6 فیصد کر دیا ہے۔مانیٹری پالیسی کے جائزہ کی تاریخ نزدیک آنے کے ساتھ گزشتہ کچھ وقت سے سود کی شرح میں کمی کا مطالبہ تیز ہو گیا تھا ۔وزیر خزانہ ار جیٹلی نے بھی اضا فہ کی حوصلہ افزائی کے لئے سرمایہ کی لاگم کو کم کرنے کی حمایت کی تھی۔مانیٹری پالیسی کے جائزہ کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں معمو لی بہتری آئی لیکن دوپہر تک انڈیکس کل کے بند کی سطح سے نیچے چل رہے تھے۔جمعہ کو جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 5.3فیصد رہی جو پہلی سہ ماہی کے 5.7فیصد کے مقابلے میں کم ہے اس کے پیش نظر سود کی شرح میں کمی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔بنیادی ڈھانچہ صنعت کے کل جاری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں اس سیکٹر کی پیداواری انڈیکس میں 6.3فیصد کا زبر دست اضافہ درج کیا گیا ۔اس سے پیداوار میں تیزی آنے کا اشارہ ملتا ہے۔اس کے علاوہ گاڑیوں کی فروخت میں اکتوبر میں کمی کے بعد نومبر کے دوران 10فیصد سے زیادہ کا اضافہ درج کیا گیا ۔اسے بھی مینوفیکچرنگ کے میدان میں بہتری کے اشارہ کے طو ر پر دیکھا جا رہا ہے۔سود کی شرح میں کمی کا مطالبہ کرنے والے لوگ خام تیل کی عالمی قیمت میں مسلسل گراوٹ جاری رہنے کی طرف بھی اشارہ کر رہے ہیں۔خام تیل کی قیمت پانچ سال کے کم از کم سطح کے قریب 68ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے جس کی وجہ سے ہندستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک میں افراط زر میں نرمی کا امکان بڑھا ہے۔اگرچہ کچھ ماہرین تیل کی قیمت میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے تئیں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان قیمتو ں زمینی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے پھرسے اضا فہ ہوسکتا ہے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment