Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 01:50 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

نیشنل سیکورٹی ایڈمنسٹریٹو سروس شروع کرنے کی جموں و کشمیر کے گورنر کی تجویز

 

نئی دہلی، 2 دسمبر (یوا ین آئی) ملک میں قومی سلامتی سے متعلق امور پر زیادہ سنجیدگی برتنے پر زور دیتے ہوئے جموں و کشمیر کے گورنر این این ووہرا نے زیادہ تربیت یافتہ افسران سے نیشنل سیکورٹی ایڈمنسٹریٹو سروس شروع کرنے اور وزیر ریلوے سریش پربھو نے اسٹریٹجک سیکورٹی خطرے کا تخمینہ لگانے والے ادارہ بنائے جانے کا مشورہ دیا۔ہندوستانی عالمی تعلقات کونسل اور اخبار گروپ دی ٹربیون کی طرف سے مشترکہ طور پر منعقد ہ ایک گول میز کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں دونوں شخصیات نے یہ خیالات ظاہر کئے۔ مسٹر ووہرا اور مسٹر پربھو نے قومی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کی ملک کی موجودہ نظام کو غیر موثر قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان حساس مسائل پر ریاستوں اور مرکز کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت ہے جس میں مرکز کو آئین میں فراہم کردہ اپنے اختیارات کا پورا پورا استعمال کرنا چاہیے۔ مسٹر ووہرا 2008 میں جموں کشمیر میں گورنر بننے سے قبل مرکز میں داخلہ و دفاع کے سیکرٹری رہنے کے ساتھ ہی وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لچکدار اور منقسم نظام ہے اس سے قومی سلامتی کے مسائل کا تسلی بخش حل نہیں ہو سکتا ہے۔مسٹر ووہرا نے کہا کہ ہمارے پاس ایک بہترین وضاحت شدہ قومی سلامتی پالیسی کا کوئی دستاویز تک نہیں ہے۔ مرکز اور ریاستوں کے درمیان مناسب تال میل کا فقدان نظر آتا ہے۔ انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے سلسلے میں یہی رویہ ہوتا ہے۔ مرکز جب کچھ کرتا ہے تو ریاستوں میں اسے سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔انہو ں نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی ایڈمنسٹریٹو سیاست بالاتر موضوع ہے۔ اسے اسی شکل میں دیکھا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز ی حکومت کی آئینی ذمہ داری اور فریضہ ہے کہ وہ ریاست کی حفاظت کریں۔ اس کے لئے وہ ریاست کو راست ہدایت دینے کی طاقت رکھتا ہے لیکن مرکز اس کا استعمال نہیں کرتا اور صرف ایڈوائزری جاری کئے جاتے ہیں۔ ممبئی میں دہشت گردانہ حملے اور بابری مسجد معاملے میں اسی گومگو کی کیفیت سے بہت نقصان ہوا۔مسٹر ووہرا نے کہا کہ مرکز کو سخت ہونا ہوگا۔ ریاستوں کے ساتھ بہتر تال میل اور تعاون کے جذبے سے کام ہو۔ اس کے لیے ایک ایسا نظام بنانا ہوگا جو ہر صورت میں کارگر ہو۔ دونوں کے درمیان اعتماد اور بھروسہ اس کی بنیاد ہونی چاہیے۔ مسٹر ووہرا نے قومی سلامتی کیامور پر پالیسی کو بہتر کرکے قومی جانچ بیورو کو زیادہ اختیارات دینے اور قومی انسداد دہشت گردی مرکز (این سی ٹی سی) کے فورا تشکیل کرنے پر زور دیا۔مسٹر ووہرا نے دہشت گردی اور قومی سلامتی کے امور سے نمٹنے کے لیے انتہائی تربیت یافتہ افسران کا نیشنل سیکورٹی ایڈمنسٹریٹو سروس کے نام سے ایک علیحدہ کیڈر بنانے کا مشورہ دیا۔مسٹر سریش پربھو نے سب سے پہلے قومی سلامتی کے مسائل کی نشاندہی کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں غذائی تحفظ، سائبر سیکورٹی، توانائی تحفظ اور سماجی بیداری اور اتحاد بھی قومی سلامتی کے زمرے میں شامل ہیں۔ ملک کے بیرونی کاروبار میں مالی توازن ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اسی نقطہ نظر کو ذہن میں رکھ کر ہر پہلو پر کام کر رہی ہے۔مسٹر پربھو نے کہا کہ حکومت کا خیال ہے کہ غیر ملکی اور سلامتی کی پالیسی میں ریاستوں کی بھی زیادہ حصہ داری ہونی چا یے۔ ان وں نے کہا کہ جموں کشمیر، پنجاب، راجستھان اور گجرات کو پاکستان کے ساتھ جڑے سیکورٹی سے متعلق مسائل سے سب سے زیادہ جھیلنا پڑتا ہے۔ اسی طرح مغربی بنگال آسام میگھالیہ تری کو بنگلہ دیش اور اتر پردیش اور بہار کا نیپال سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے۔مسٹر پربھو نے ریلوے میں بھی ریل سیکورٹی فورسز اورگورنمنٹ ریلوے پولیس کے درمیان تال میل کے فقدان کی مثال پیش کی اور کہا کہ اس سے ریلوے میں سیکورٹی کی صورت حال خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی سوچ ہے کہ اس معاملے پر ریاستوں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگی سے کام ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اسٹریٹجک خطرات کا اندازہ کرنے کے لئے ایک علیحدہ اسٹریٹجک خطرہ کا تخمینہ لگانے والے ادارے بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ ادارے ملک کو ان خطرات اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر کام کرنے کے بارے میں سفارشات اور تجاویز دیں گے۔ پرگرام کی نظامت ہندوستانی عالمی تعلقات کونسل کے ڈائریکٹر جنرل راجیو کے بھاٹیہ نے کی جبکہ صدارت دی ٹربیون کے چیف ایڈیٹر راج چنگپا نے کی۔ پروگرام میں مرکزی حکومت کے دفاع اور خارجہ سروس کے منسلک کئی اعلی اور سبکدوش افسران موجود تھے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment