Today: Wednesday, September, 26, 2018 Last Update: 10:09 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

اسمبلی اسپیکر کے خلاف مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟

 

ممبئی ہائی کورٹ کا محمد عارف نسیم سے سوال

ممبئی یکم دسمبر(یو این آئی )مہاراشٹر کی بی جے پی کی قیادت والی ریاستی حکومت کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضداشت کی سماعت کے دوران ممبئی ہائی کورٹ نے آج یہاں عرضی گزار ریاست کے سابق کابینی وزیر و سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان سے یہ دریافت کیا کہ آیا اسمبلی کے اسپیکر کے فیصلے کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے یا نہیں ۔جسٹس ایم وی کناڈے پر مشتمل بینچ نے آج یہ وضاحت نسیم خان کی عرضداشت کی سماعت کے دوران طلب کیں ۔ جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو برخاست کیا جائے کیوں کہ 12نومبر کو اکثریت ثابت کرنے کے وقت رائے شمار ی کرائے بغیر اسپیکر نے بی جے پی کی جانب سے اکثریت ثابت کئے جانے کا غیر قانونی اعلان صادرکیا تھا ۔نسیم خان کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے عرضداشت پر تفصیلی بحث کی اور عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلی دیوندر فڑنویس کی قیادت والی حکومت کو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے ۔انہوں نے اس ضمن میں ممبئی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے کئی ایک فیصلوں کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ایڈوکیٹ دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی گورنر نے موجودہ حکومت کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے مہلت دی تھی اور12نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی جس کے تحت بی جے پی حکومت کو ایوان میں رائے شماری کے ذریعہ اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔عدالت کو بتایا گیا کہ قوانین کے مطابق کسی بھی پارٹی کو حکومت سازی کے لیئے ایوان میں رائے شماری کے ذریعہ اکثریت ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن متذکرہ معاملے میں بی جے پی حکومت نے صوتی ووٹوں کے ذریعہ اکثریت ثابت کر کے ایک جانب جہاں مختلف قوانین کی خلاف ورزی کی ہے وہیں اس نے جمہوریت کا بھی گلا گھونٹ دیا ہے ۔انہوں نے اس سلسلے میں اترپردیش حکومت کے جگدمبیکا پال اور کلیان سنگھ حکومت کے درمیان ہوئے فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ اور نچلی عدالتوں نے بھی اسپیکر کے فیصلے کے خلاف اپنا فیصلہ صادر کیا ہے لہذا متذکرہ معاملے میں عدالت کو اختیار ہے وہ اس عرضداشت کی سماعت کرے اور عرض گزار کو بھی یہ آئینی حق حاصل ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع ہو سکے ۔عدالت میں ایڈوکیٹ بی اے دیسائی کی جانب سے پیش کیئے گئے دلائل کو نوٹ کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس سلسلے میں کل ساڑھے بارہ بجے عدالت کے روبرو تفصیلی بحث کریں جس میں مختلف عدالتوں کے ان فیصلوں کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے جس سے عدالت معاملے کی سماعت کر سکے ۔ اسی درمیان نسیم خان نے عدالتی کارروائی کے بعد اخبارنویس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجود ہ حکومت کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے لہذا اسے برخاست کیاجائے اور12نومبر کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے لیئے گئے تمام فیصلوں کے نفاذ پر روک لگائی جائے اور اسے مسترد کئے جانے کا حکم جاری کیا جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ اپوزیشن کی صفوں میں بیٹھی شیوسینا بی جے پی حکومت کا حصہ بننے والی ہے اور فڈنویس کابینہ میں توسیع ہونا متوقع ہے ۔نسیم خان نے کہا کہ اس ضمن میں وہ کل عدالت میں ایک عرضداشت بھی داخل کریں گے جس میں یہ مطالبہ کیا جائے گاکہ اس غیر قانونی حکومت کی کابینہ کی توسیع کا اجازت نہیں دی جائے۔ دوران سماعت عدالت میں کانگریس پارٹی کے قانون ساز کونسل کے رکن سنجے دت ، پارٹی لیڈر لاکھے پاٹل بھی عدالت میں موجود تھے ۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment