Today: Wednesday, November, 14, 2018 Last Update: 10:46 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

سہارنپور فساد کے سلسلے میں مسلمانوں پر یکطرفہ کارروائی سیذمہ داران شہرمیں اشتعال

 

مظلومین کو انصاف اور فساد کے سلسلے میں قانونی کاروائی کیلئے تشکیل دی گئی رابطہ کمیٹی کی ضلع مجسٹریٹ اندرویر سنگھ یادو سے ملاقات

ایس ایچ حسین

سہارنپور ،25ستمبر(ایس ٹی بیورو) سہارنپور فساد کے بعد جو بے قصور مسلم نوجوان جیلوں میں ڈال دئے گئے وہ آج تک اپنی بے گناہی پر خون کے آنسو بہا رہے ہیں اور انصاف ملنے کی امید میں آج تک اپنی رہائی کا انتظار کر رہے ہیں مگر اس سلسلے میں ضلع انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے جس سے شہر کے ذمہ داران میں غصہ کی لہر ہے ۔ خاص طور سے مسلمانوں پر ایکطرفہ کاروائی اور دوسرے فریق کے تمام ملزمان کی آزادی پر بھی مسلمانوں میں غصہ کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور انتظامیہ کی فساد کے سلسلے میں کی گئی کاروائی کے جانبدار ہونے کی بھی بات کہی جا رہی ہے ۔ اس تعلق سے سہارنپور فساد کے سلسلے مظلومین کو انصاف دلانے اور کاروائی کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں تشکیل دی گئی رابطہ کمیٹی کے ذمہ داران نے ضلع مجسٹریٹ اندرویر سنگھ یادو سے ملاقات کرکے انھیں تمام حالات سے آگاہ کرایا اور کہا کہ بے قصور مسلمان جو جیلوں میں بند ہیں انھیں رہا کیا جائے ساتھ ہی دوسرے فریق کے قصور وار افراد بھی اسی طرح کے مقدمات قائم کئے جائیں جیسے مسلمانوں پر قائم کئے گئے ہیں کیونکہ قانونی پہلو پر غور کیا جائے تو تمام غلطی گرو سنگھ سبھا کی ثابت ہوتی ہے جبکہ وقف کمیٹی کی جانب سے جو ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی اس پر بھی کوئی کاروائی نہ ہونا افسوس ناک ہے بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس ایف آئی آر کو ختم کرنے کی اور انھیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ رابطہ کمیٹی میں شامل مدرسہ مظاہر علوم وقف کے ترجمان مولانا ریاض الحسن ندوی ، جمعیۃ علماء ہند کے ضلع صدر مولانا ظہور احمد قاسمی ، آل انڈیا ملی کونسل کی قومی مجلس عاملہ کے رکن مولانا عبدالمالک مغیثی ، آل انڈیا جمعیۃ الحفاظ کے قومی صدر حافظ محمد اویس تقی ، مجیب خان ، دینی تعلیمی کونسل کے مولانا احمد سعیدی ، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ضلع صدر مظہر عمر ، ناصر علی ، شیخ حیدر رؤف صدیقی ، شیخ خالد صدیقی ، راشد صدیقی کے علاوہ دیگر تنظیموں سے مدارس کے ذمہ داران کے علاوہ شہر کی معزز شخصیات موجود تھیں ۔ رابطہ کمیٹی میں شامل تمام لوگوں نے مسلمانوں کے لئے انصاف اور معاوضہ کا مطالبہ کیا ساتھ ہی کہا کہ جیسے مسلمانوں پر سنگین دفعات کے تحت کاروائی کرکے انھیں جیل بھیجا گیا ہے اسی طرح سکھ طبقہ کے ملزمان پر بھی سنگین دفعات کے تحت کاروائی کی جائے اور جو ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں ان کے خلاف سخت اروائی کی جائے ۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی حرکتوں سے شہر کا امن و امان خطرے میں ہے اور آپسی بھائی چارے کو بھی خطرہ لاحق ہے ۔ وفد نے مزید کہا کہ کرفیو کے دوران مسلم علاقوں میں ہندوؤں کی آبادی اوراملاک محفوظ رہی لیکن محض سیاسی فائدہ اٹھانے کیلئے بی جے پی کے موجودہ ایم پی راگھو لکھن پال کی قیادت میں مسلمانوں کی دوکانوں، گاڑیوں اوربعض گھروں کو چن چن کر لوٹا اورجلایا گیا۔پولیس نے لوٹا گیا مال کتنے ہی غیر مسلم گھروں سے برآمد کیا لیکن ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جب کہ بے قصور مسلمانوں کو سنگین دفعات کے تحت جیلوں میں ٹھونس دیا گیا ۔رابطہ کمیٹی نے ضلع مجسٹریٹ سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرے رابطہ کمیٹی مصالحت کے لئے تیار ہے لیکن مسجد کا تقدس مذہبی فریضہ ہے اور اس سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا انھوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ اس طرح کا ماحول بنائے جس سے شہر کے مسلمانوں میں ایکطرفہ کاروائی سے جو غصہ ہے وہ ختم ہو اور انھیں انصاف مل سکے ۔ ضلع مجسٹریٹ اندرویر سنگھ یادو نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس تنازعہ کا آپسی رضامندی اور بیٹھ کر امن کے ساتھ حل چاہتے ہیں ۔ انکی یہی کوشش ہے کہ شہر میں امن و امان قائم ہو اور لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں ۔ ڈی ایم اندرویر سنگھ یادو نے کہا کہ فساد کی غیر جانبدارانہ کاروائی ہوگی اور جو لوگ قصوروار ہیں وہ بخشے نہیں جائیں گے ۔

...


Advertisment

Advertisment