Today: Wednesday, November, 21, 2018 Last Update: 09:31 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

یونانی معالجین کو یونانی طریقہ علاج کو عوام تک پہنچانے کی ضرورت

 

اجمل خاں طبیہ کالج کے علم الادویہ شعبہ کے زیرِ اہتمام ’ ریلیوینس ماڈرن میتھڈ آف اسٹڈیز ان یونانی میڈیسن ‘کے دوسرے قومی سیمینار سے خطاب کے دوران وائس چانسلر جنرل ضمیر الدین شاہ نے طبیہ کالج کے تحقیقی عمل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی

فہمیدہ پروین

علی گڑھ، 27؍نومبر (ایس ٹی بیورو) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجمل خاں طبیہ کالج کے علم الادویہ شعبہ کے زیرِ اہتمام یو جی سی ڈی آر ایس پروگرام کے تحت’’ ریلیوینس ماڈرن میتھڈ آف اسٹڈیز ان یونانی میڈیسن ‘‘کے دوسرے قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ ( ریٹائرڈ)نے کہا کہ یونانی معالجین کو روایتی ادویات کے علاوہ عصرِحاضر کے امراض کے تدارک کے لئے بھی آج کی ضروریات کے مطابق ادویات کو فروغ دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ یونانی طریقۂ علاج کا روزِ اول سے ہی اہم مقام رہا ہے اور اس میں آج بھی مختلف امراض کی ایسی متعدد ادویات موجود ہیں جن کا علاج جدید میڈیکل سائنس میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونانی معالجین کو اس طریقۂ علاج کو عوام تک پہنچانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ وائس چانسلر نے کہا کہ اجمل خاں طبیہ کالج کا یونانی طریقۂ علاج میں ہندوستان میں اہم مقام رہاہے اور یہاں پر طبِ یونانی کے فروغ کے لئے بڑی سطح پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے طبیہ کالج کے تحقیقی عمل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔مہمانِ خصوصی نمس یونیورسٹی جے پور کے وائس چانسلر پروفیسر کے سی سنگھل نے کہا کہ یونانی ادویات کا ہزاروں سال سے استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی یونانی طب کا کافی رواج ہے اور لوگ جدید طریقۂ علاج سے ہٹ کر یونانی طریقۂ علاج کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ پروفیسر سنگھل نے کہا کہ طبِ یونانی کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ ریورس فارماکولوجی کے نئے طریقے کا استعمال کیا جائے۔اعزازی مہمان ڈی او ڈی ایل کے ڈائرکٹر اور جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار ڈاکٹر فردوس اے وانی نے کہا کہ اگرچہ یونانی طریقۂ علاج کافی اچھا ہے لیکن اس پر جس قدر تحقیقی عمل ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہو پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ معیار کی ا دویات کے لئے ضروری ہے کہ دورِ حاضر کی ضروریات کے مطابق کام ہو۔پدم شری پروفیسر حکیم ایس ظل الرحمن نے بھی افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یونانی طریقۂ علاج اور اس کی تاریخ پر گفتگو کی۔یونانی میڈیسن فیکلٹی کے ڈین پروفیسر نعیم احمد خاں نے کہا کہ یونانی طریقۂ علاج میں تحقیق اور فروغ کے لئے کام ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ ا س طریقۂ علاج کا فائدہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی جگر اور آرتھرائٹس وغیرہ میں یونانی ادویات سب سے زیادہ کارگر ہیں جبکہ جدید طریقۂ علاج میں ان کا علاج موجود نہیں ہے۔ پروفیسر نعیم نے کہا کہ دورِ حاضر میں یونانی اینٹی آکسیڈنٹ کو فروغ دئے جانے کی ضرورت ہے۔شعبۂ علم الادویہ کے سربراہ پروفیسر عبدالطیف نے سیمینار کے انعقاد کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے شعبہ کا تعارف کرایا۔ اجمل خاں طبیہ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سعود علی خاں نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔نظامت کے فرائض پروفیسر ایف ایس شیرانی نے انجام دئے۔ پروگرام میں یونیورسٹی کے دو سینئر اساتذہ شعبہ نباتیات کے سبکدوش استاد پروفیسر وضاحت حسین اور اجمل خاں طبیہ کالج کے شعبۂ کلیات کے پروفیسر انیس احمد انصاری کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے سرفراز کیاگیا۔

 

...


Advertisment

Advertisment