Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 04:59 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

فطرت کے ساتھ انسانی ترقی کی رفتار کو آگے بڑھانے کی ضرورت

 

اے ایم یوکے شعبۂ نفسیات کے قیام کے پچاس سال پورے ہونے پر منعقدہ سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گریشور مشرا کی اپیل

فہمیدہ پروین

علی گڑھ ،24؍نومبر(ایس ٹی بیورو)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات کے قیام کے پچاس سال پورے ہونے پر منعقدہ سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر گریشور مشرا نے کہا کہ انفرادی بہبود اور انسانی ترقی کے لئے ہمیں انٹر ڈسپلینری نقطۂ رجحان اختیار کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فطرت کے ساتھ انسانی ترقی کی رفتار کو آگے بڑھانا چاہئے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمیں 19863کے بھوپال گیس سانحہ کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی قدرتی وسائل موجود ہیں ان کا استعمال کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تہذیبی و ثقافتی اقدار بھی ہمیں جینا سکھاتے ہیں، اس کے علاوہ ہمیں یوگا اور میڈیٹیشن کو بھی اختیار کرنا چاہئے۔پروفیسر مشرا نے نفسیات کے میدان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے رول پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس شعبے نے اس میدا ن میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔افتتاحی نشست کی صدارت کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ شعبۂ نفسیات نے گزشتہ پچاس برسوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور اس کے لئے سبھی لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں۔جنرل شاہ نے کہا کہ مسرت کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے نشانہ کے حصول کے لئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ احساس مسرت سے ذہن کو سکون ملتا ہے اور اسی سے ترقی کی راہیں استوار ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی ہر انسان، معاشرے اور ملک کے لئے ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ایک ہی مقصد ہے کہ یہ ادارہ 2017تک ملک کا نمبر ایک ادارہ بن جائے۔بین الاقوامی سیمینار کی کنوینر پروفیسر نعیمہ گلریز نے کہا کہ ملک اور بیرون ملک مثلاً امریکہ، روس اور پاکستان کے ماہرین نفسیات کو اس سیمینار میں حصہ لینے کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔شعبۂ نفسیات کی سربراہ پروفیسر شاہینہ مقبول نے پچاس سال میں شعبے کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1964میں اس شعبے کا قیام عمل میں آیا تھا اور اب تک 200ریسرچ اسکالرز کو پی ایچ ڈی اور 150اسکالرز کو ایم فل کی ڈگری سے نوازا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شعبے کے طلبہ امریکہ، کناڈا، یو کے، جرمنی، آسٹریلیا، ایران، عراق، ملیشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور سعودی عرب میں اعلیٰ عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔’’ویل بی اِنگ اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ‘‘ موضوع پر منعقدہ اس سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے پروفیسر اکبر حسین نے کہا کہ ایک صحتمند سماج کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ ہم نئے نمونے پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ جسمانی، سماجی، معاشی اور نفسیاتی ترقی بہت ضروری ہے۔سوشل سائنس فیکلٹی کے ڈین پروفیسر حمید ہ احمد نے کہا کہ ان کو یہ فخر حاصل ہے کہ وہ اس شعبہ کے روز قیام سے ہی اس سے منسلک رہیں اور اس کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ 1968میں وہ ویمنس کالج میں لیکچرر مقرر ہوئیں اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو پڑھانے کے لئے شعبہ میں تشریف لاتی رہیں۔شعبہ کے سابق طالب علم مسٹر حبیب احمد نے کہا کہ ان کو یہ فخر حاصل ہے کہ وہ منٹو سرکل میں مسٹر حامد انصاری کے ہم جماعت رہے جو آج ہندوستان کے نائب صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1964تک فلسفہ اور نفسیات ایک ہی شعبہ ہوا کرتا تھا۔مسٹر حبیب احمد نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ نئے عہد کے چیلنجز کو قبول کرنے کے لئے ابھی سے تیار ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سبکدوش ہو جانے کے بعد بھی انسان قوم اور معاشرے کے لئے اپنی خدمات پیش کر سکتا ہے۔سوشل سائنس فیکلٹی کے ڈین پروفیسر این اے کے درانی نے سہہ روزہ انٹر نیشنل کانفرنس کے کے مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ وائس چانسلر جنرل شاہ نے اس موقعہ پر ایک یادگاری مجلہ کا بھی اجرا کیا۔ ڈاکٹر رومانہ صدیقی نے نظامت کی اور پروفیسر شمیم انصاری نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔

 

...


Advertisment

Advertisment