Today: Tuesday, September, 25, 2018 Last Update: 06:33 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

امیدواروں کی آخری لمحے تک ووٹروں کو لبھانے کی کوشش

 

جموں وکشمیر میں پہلے مرحلے کی پولنگ: 50 افراد اور سابق جنگجوؤں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا

سری نگر،24نومبر(یو این آئی) اب جب کہ 15اسمبلی حلقوں والی ریاست کشمیر میں پانچ مرحلوں میں ہونے والے پولنگ کے پہلے مرحلے کے شروع ہونے میں 24گھنٹے سے کم کا وقت باقی رہ گیا ہے ، انتخابی میدان میں اترے امیدوار جموں وکشمیر کی عوام کو اپنے حق میں ووٹ کرنے کے لیے گھر گھر جاکر آخری دم لگا رہے ہیں۔123امیدواروں میں سات وزیروں اور متعدد بڑے رہنماؤں کے علاوہ بیشتر حالیہ ممبران گریز، باندی پورا، سوناوری، گنڈیربل اور کنگن (وادی کشمیر) لیہہ، نبرا، کارگل اور زناسکر(لداخ علاقہ) کشتواڑہ، اندرول ، دودا ، بدروہ، رام بن اور بنیہال (جموں علاقہ) کی 15سیٹوں پر اکثریت حاصل کرنے کے لیے میدان میں ہیں۔حکام نے 1787پولنگ مراکز بنائے ہیں ۔ ان اسمبلی حلقوں میں ووٹروں کی کل تعداد 1051624ہے جن میں 501281خواتین ہیں۔ان حلقوں کے لیے تشہیر کا وقت کل شام ختم ہوگیا ہے تاہم اب امیدوار او ان کے حامی لوگوں کے پاس گھر گھر جاکر اپنی طرف راغب کرنے کی آخری کوشش کر رہے ہیں اور ان سے حمایت کرنے کی درخواست کررہے ہیں۔پہلے مرحلے میں جو اہم لوگ میدان میں ہیں ان میں گریز سے مویشی پروری کے وزیر نذیر احمد گریزی، سوناوری سے اعلی تعلیم کے وزیر محمد اکبر لون ، کنگن سے وزیر جنگلات میاں الطاف ، لیہہ سے شہری ترقیاتی وزیر رگزن جورا، دوبا سے ورکس منسٹر عبدالمجید وانی، وزیر مملکت برائے داخلہ سجاد کچھلوکشتواڑہ سے اور وزیر مملکت برائے توانائی وقار رسول وانی بنیہال سے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔برسر اقتدارجماعت نیشنل کانفرنس (این سی) سات سیٹوں، کانگریس چھ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) اور آزاد ایک ایک سیٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ جبکہ بڑے بڑے تشہیر کاروں بشمول وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر بی جے پی لیڈران بشمول وزیر مملکت جتیندر سنگھ، کانگریس چیئر پرسن سونیا گاندھی ، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد ، وزیر اعلی عمر عبداللہ ، پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید اور صدر محبوبہ مفتی نے اپنے امیدواروں کی حمایت میں تشہیری انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا ہے۔گریز کے سرحدی حلقوں میں گذشتہ انتخابات میں سب سے زیادہ 7402ووٹنگ درج کی گئی تھی جبکہ جنرل سیٹ پرسب سے کم 5199فیصد ووٹنگ ہوئی تھی جہاں سے 2008میں وزیر اعلی نے فتح حاصل کی تھی۔ خیر اس مرتبہ وزیر اعلی سری نگر میں سوناور اور وسطی کشمیر میں ضلع بڈگام کے بیروہ سے انتخاب لڑ رہے ہیں جہاں بالترتیب تیسرے اور چوتھے مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔لیہہ اسمبلی حلقے سے سب سے کم دو امیدوار میدان میں ہیں جبکہ بھدیروہ، گنڈربل اور باندی پورا میں سب سے زیادہ 13امیدوار میدان میں ہیں۔شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں 50 افراد کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے جہاں 25 نومبر کو پہلے مرحلے کی پولنگ کے تحت تین اسمبلی حلقوں (بانڈی پورہ، گریز اور سونہ وار) میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دریں اثنا حریت کانفرنس (گ) چیرمین سید علی شاہ گیلانی اور دیگر علیحدگی پسند جماعتوں نے 25 نومبر کو بانڈی پورہ اور گاندربل اضلاع میں انتخابات کے موقع پر ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع بانڈی پورہ میں پولنگ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے طور پر قریب 50 افراد کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سابق جنگجوؤں کو بھی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے پہلے ہی قریب قریب تمام علیحدگی پسند لیڈران کو یا تو حراست میں لے لیا ہے یا اپنی رہائش گاہوں میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ اِس دوران جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے الزام لگایا کہ پولیس نے گذشتہ چند دونوں کے دوران فرنٹ لیڈران کے رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا۔ قابل ذکر ہے کہ لبریشن فرنٹ نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران وادی میں الیکشن بائیکاٹ ریلیوں کا بھی انعقاد کیا۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment