Today: Monday, September, 24, 2018 Last Update: 11:37 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

دہلی میں نئی سیاسی حد بندی کا امکان

 

اتحاد ملت کاؤنسل اور’ آپ ‘کے درمیان سیاسی سمجھوتہ ہونے کا امکان ، اوکھلا سے اتحاد ملت کاؤنسل کے ایڈوکیٹ شاہد علی ہوسکتے ہیں امیدوار ، ایڈوکیٹ شاہد اور مولانا توقیررضا کے درمیان ہوئی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں زوروں پر ، ایڈوکیٹ شاہد نے مولانا کیساتھ ملاقات پر لگائی مہر
محمداحمد
نئی دہلی ،24نومبر( ایس ٹی بیورو) جوں جوں سردی بڑھ رہی ہے ویسے ویسے دہلی کی سیاست میں گرماہٹ شروع ہوگئی ہے ۔ دہلی میں سردی کے اس سرد موسم میں نئی سیاسی گرماہٹ کے امکانات روشن ہونے لگے ہیں اور ایک نئے سیاسی محاذ کی تشکیل کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ گذشتہ روز یونائٹڈ مسلمس فرنٹ کے صدر ایڈوکیٹ شاہد علی اور اتحاد ملت کونسل کے رہنما مولانا تو قیر رضا خان کے درمیان ہوئی ملاقات کے بعد نئے سیاسی محاذ کی تشکیل کی خبریں زوروں پر ہیں ۔
مصدقہ ذرائع سے ملی اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز دیر شام مولانا توقیر رضا اور ایڈوکیٹ شاہد علی کے درمیان تقریباً دو گھنٹے تک دہلی کے سیاسی حالات کے تناظر میں میٹنگ ہوئی ۔ ذرائع سے ملی خبروں کے مطابق مولانا تو قیر رضا نے دہلی کے سیاسی گلیاروں میں ایڈوکیٹ شاہد علی اور ان کے مسلمس فرنٹ کی بڑھتی مقبولیت کے مدنظر انہیں اپنی پارٹی میں آنے کی دعوت دی ۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ ایڈوکیٹ شاہد علی نے جب ان کی اس پیش کش کو نامنظور کر دیا ،اس کے بعد مولانا نے ایڈوکیٹ شاہد علی کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ ہماری پارٹی اتحاد ملت کونسل سے انتخاب لڑجا ئیں ۔ ہماری اروند کیجریوال سے بات چیت چل رہی ہے ۔ ہم ان سے دو سیٹیں مانگ رہے ہیں ۔ ایک سیٹ اوکھلا کی ہم ان سے لے لیں گے جبکہ دوسری سیٹ کا مولانا نے انکشاف نہیں کیا ۔ تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ سیٹ مہرولی والی ہوسکتی ہے ۔ ایسے میں اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ مولانا کی اتحاد ملت کاؤنسل کا عام آدمی پارٹی سے سیاسی اتحاد ہوسکتاہے ، کیونکہ آج سے چند ماہ قبل لوک سبھا انتخابات کے تناظر میں جب اروند کیجریوال نے اتحاد ملت کاؤنسل کے صدر مولانا توقیر رضا سے ملاقات کی تھی اس وقت کافی سیاسی ہنگامہ ہوا تھا اور میڈیا میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا تھا ۔ ایسے میں اس بات کے امکانات کافی ہیں کہ مولانا کی پارٹی سے آپ کا سیاسی اتحاد ہوسکتا ہے اور ایڈوکیٹ شاہد علی آپ کی حمایت سے اوکھلا اسمبلی حلقہ سے اتحاد ملت کاؤنسل کے امیدوار ہوسکتے ہیں ۔
اس تعلق سے جب سیاسی تقدیر نے ایڈوکیٹ شاہد علی سے رابطہ کیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے ملاقات کی تصدیق کی اور یہ کہہ کر کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا کہ وقت کا انتظار کیجئے جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ملک ، ملت اور علاقے کے مفاد میں ہوگا ۔ تاہم مولاناتوقیر رضانے سیاسی تقدیر سے بات چیت میں پہلے تو کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا تاہم جب ان سے دونوں لیڈران کی ملاقات کی تصدیق اور تفصیل جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہاں! ہماری ایڈوکیٹ شاہد علی سے ملاقات ہوئی تھی ۔ہم نے انہیں پارٹی میں آنے کی دعوت بھی دی تھی ۔ ہم نے ان کیسا تھ دہلی کے سیاسی حالات کو لیکر بات چیت کی ۔ ہم نے ان سے اس امکانات پر بات کی کہ اگر دہلی میں ہم لڑتے ہیں تو فرقہ پرستوں کو کتنا فائدہ اور کتنا نقصان ہوسکتا ہے ۔ میں دہلی کے علاقوں کا دروہ کررہا ہوں اور حالات کا جائزہ لینے کی کوشش کررہا ہوں اور انتخاب لڑنے کا فیصلہ جلد ہی لیا جائے گا ۔ تاہم مولانا نے دہلی میں آپ کیساتھ کسی بھی طرح کے سیاسی سمجھوتے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری آپ کے لوگوں سے کافی وقت پہلے ملاقات ہوئی تھی ۔ پارٹی جو فیصلہ لے گی وہ ملک اور قوم کے مفاد میں لے گی ۔ اور جو بھی فیصلہ ہوگا اس سے میڈیا کو ضرور باخبر کرایا جائے گا ۔

 

...


Advertisment

Advertisment