Today: Thursday, November, 22, 2018 Last Update: 01:12 am ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

کیرانہ میں پینے کے پانی کا مسئلہ سنگین ہوا!

 

صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث عوام جانیں گنوانے پر مجبور
صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی کا نظام خستہ حال،کینسر اور یرقان کے مریضوں میں اضافہ
محمد شاہزر خان
کیرانہ،23نومبر(ایس ٹی بیورو)دو لاکھ کی آبادی پر مشتمل مسلم اکثر یتی قصبہ کیرانہ میں صاف وشفاف پانی کی عدم دستیابی اور پانی کی نکاسی کے نظام کے خستہ حال ہونے کے سبب یہاں کے لوگوں کا جینا محال ہوگیا ہے،جب کہ انتظامیہ اس سمت کوئی دھیان نہیں دی رہی ہے۔کینسر اور یرقان کے مریضوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں 80 فیصد سے زائد بچوں میں ایسی بیماریوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے جن کا عمومی تعلق آلودہ پانی اور پانی کی کمی جیسے سنگین مسئلہ سے ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ہمارے ملک میں ہر سال 5 برس تک کی عمر کے10 لاکھ سے زائد بچے پانی کی آلودگی اور صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث بیمار ہو کر مر جاتے ہیں۔صاف پینے کے پانی کی دستیابی کی شرح مزید گر چکی ہے۔وہیں پانی کی فراہمی اور نکاسی کے نظام کی خستہ حالی کے سبب سرکاری نلکوں سے بھی غریب عوام کو مضر صحت پانی مل رہا ہے۔ گلی محلوں میں قائم چھوٹے چھوٹے کلینکس مضرصحت پانی کے استعمال کے سبب پریشان حال مریض ہر روز بھرے نظر آرہے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں24 گھنٹے پانی کی کمی، امراضِ معد ہ ہیپٹائٹس کے شکار مریضوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔پانی کی آلودگی اور قلت یہاں کے غریب عوام کے لیے ایک المیہ ہے ، غریب عوام کو صاف پینے کے پانی کی یقینی فراہمی ریاستی اور حکومتی ذمہ داری میں شامل ہے۔گزشتہ برس کیرانہ کے ایک ہی محلہ میں ایک ہفتہ کے درمیان ایک درجن اموات ہوئی تھیں،جب ان کا باریکی سے جائزہ لیا گیا تو پتہ لگا کہ مرنے والے کینسر کا شکار تھے،جن کا علاج دہلی کے گرو تیغ بہادر اسپتال میں چل رہا تھا۔فی الحال بھی کیرانہ کے محلہ دربار خورد،کلاں،پیر زادگان، نواب گیٹ، انصاریان،زیر انصاریان اور افغانان میں کینسر سے متاثر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے،جن میں سے بیشتر کا علاج دہلی اور چندی گڑھ چل رہا ہے ۔کینسر کے مریضوں کی تعدادکی خاص وجہ شہر کے دو بڑے تالاب ہیں،جن میں گندہ و غلاظت آمیز پانی بھرا ہوا ہے،جس سے شہر کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا۔مذکورہ معاملہ کو لیکر مقامی شہریوں نے منگل دیوس اور تحصیل دوس میں تحریری شکایات بھی دیں،مگر محکمہ صحت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ایک جائزے کے مطابق ملک میں دستیاب پینے کے صاف پانی کو آلودہ کرنے والے عوامل میں زہریلے کیمیکلز پانی میں بہا دینے کی پالیسی پر کاربند فیکٹریاں اور کارخانے بھی شامل ہیں۔ پانی کا معیار جانچنے والی ایک لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق ملک کے اکثر علاقوں میں انسانی صحت پر مہلک اثرات مرتب کرنے والے کیمیکلز مثلاً Arsenic اور Nitrate سے آلودہ پانی بھی لوگ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔جس سے موذی امراض جیسے کینسر وغیرہ جنم لے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایک دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ سرزمین ہندوستان میں دستیاب میٹھے پانی کے قدرتی ذخائر کا صرف3 فیصد پینے اور گھریلو استعمال پر خرچ ہوتا ہے بقیہ97 فیصد کا تعلق صنعتی استعمال سے بتایا جاتا ہے۔ہندوستان کے وہ خوش قسمت شہر، قصبے اور دیہات جہاں سرکاری طور پر صاف اور میٹھے پانی کی سپلائی کا انتظام موجود ہے، آبادی میں اضافے کے سبب ناکافی ہوچکا ہے۔ عمومی طور پرسرکار کی طرف سے بچھائی گئی پائپ لائن اپنے استعمال کی آخری حد(Expiry) کی مدت سے بھی کئی گنا پرانی ہوچکی ہے۔ پائپ لائنوں میں جگہ جگہ زنگ لگ جانے سے پائپ لائن ٹوٹ پھوٹ کر لیک کررہی ہے۔ نکاسی آب کی پائپ لائنوں کا حال بھی مختلف نہیں ہے۔ بجلی کے بحران سے لے کر آٹے، چینی اور دیگر ضروریات کی شدید قلت اورمہنگائی کے شکنجے میں گرفتار غریب عوام صاف پینے کے پانی کی کمی کے شدید خطرے سے دوچار نظر آ رہے ہیں۔پانی کی شدید قلت کے منفی اثرات میں عمومی طور پر نظام زندگی کی بقاکو خطرات تو لاحق ہوتے ہی ہیں، کم عمر بچے، خواتین اور بوڑھے افراد کی زندگی بے چارگی کی حد کو چھونے لگتی ہے۔ پینے کا صاف پانی بنی نوع انسان کے ساتھ ساتھ حیوانات، روئے زمین پرچلتی پھرتی ہر جاندار شے کی بنیادی ضرورت ہے۔

...


Advertisment

Advertisment