Today: Friday, September, 21, 2018 Last Update: 11:04 pm ET

  • Contact US
  • Contact For Advertisment
  • Tarrif
  • Back Issue

LATEST NEWS   

بی جے پی نے جموں و کشمیر میں چولا بدلا

 

بھارتیہ جنتا پارٹی زعفرانی رنگ سے ہرے رنگ میں تبدیل
جموں، 23 نومبر (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)نے اقلیتی اکثریتی علاقہ جموں و کشمیر کے اسمبلی انتخابات میں کے اشتہارات میں بھگوا رنگ کے بجائے ہرے رنگ کو ترجیح دی ہے۔پارٹی کے اشتہارات میں ہرے رنگ کو اہمیت دی گئی ہے۔ مشن 44 پلس ہرے رنگ کی زمین میں سفید رنگ سے لکھا ہے۔ اس پر بنا پارٹی کا انتخابی نشان کمل لال نہ ہوکرسفید ہے۔پیچھے پارٹی کا جھنڈا اور ہاتھ اٹھائے لوگوں کی دھندلی تصویر ہے۔ اس میں ایک شخص نے ہرے رنگ کا ٹوپی پہن رکھی ہے۔ ایک کونے میں وزیراعظم اور پارٹی کے صدر امت شاہ کی تصویر ہے۔ البتہ لیڈروں کے گلے میں پارٹی کا ٹریڈ مارک بھگوا پٹی نہیں ہے۔ اگرچہ مودی نے نیلی اور امت شاہ نے بھوریرنگ کا جیکیٹ پہن رکھی ہے۔اشتہار میں بھگوا کے نام پر صرف کالے رنگ سے لکھے’ووٹ کسے‘کے پیچھے پتلی سے بھگوا پٹی ہے۔ کل کشتواڑ میں وزیر اعظم کی انتخابی ریلی میں اسٹیج پر بڑا کمل بھی سفید رنگ سے لکھا گیا تھا اور اسے پیلے رنگ کی زمین میں دکھایا گیا تھا۔دریں اثنا جموں وکشمیر پولیس نے وادی کشمیر میں سوشل میڈیا پر الیکشن بائیکاٹ مہم چلانے ، افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلانے والے صارفین پر شکنجہ کسنا شروع کردیا ہے۔ پولیس نے تازہ کاروائی میں فیس بک اور واٹس ایپ پر وادی میں الیکشن بائیکاٹ مہم چلانے اور جھوٹی خبروں و افواہوں کو فروغ دینے والے پانچ صارفین کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے کئی سوشل میڈیا صارفین کی شناخت کرلی ہے جو سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر الیکشن بائیکاٹ مہم چلانے اور افواہیں و جھوٹی خبرین پھیلانے کے مرتکب ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی حرکتوں کے مرتکب ہونے والے صارفین کے خلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے صارفین اس فعل کیلئے جعلی سوشل میڈیا کھاتوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ فیس بک، واٹس ایپ اور دوسری سوشل نٹ ورکنگ ویب سائٹس پر الیکشن بائیکاٹ مہم چلانے والوں، جھوٹی خبریں اور افواہیں پھیلانے والے صارفین کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لانے کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ایسے صارفین پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے اور مستقبل میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔پولیس کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں اور افواہیں وادی میں امن وامان کی صورتحال کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ فیس بک، واٹس ایپ پر الیکشن بائیکاٹ مہم چلانے، جھوٹی خبروں اور افواہوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں سری نگر کے خانیار سے سجاد میر اور تابیب شیخ، بانڈی پورہ کے نائد کھائی سے شوکت سلافی، اننت ناگ کے ہردپورہ سے زاہد حمید اور منیب فاروق کو حراست میں لیا گیا ہے۔

 

 

...


Advertisment

Advertisment